پی پی پی نے لاہور کے الیکشن میں 32 ہزار ووٹ کیسے لیے؟
حسب توقع مسلم لیگ (ن) نے لاہور کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخاب کا معرکہ تو جیت لیا لیکن حیران کن معاملہ یہ رہا کہ پچھلی مرتبہ پانچ ہزار ووٹ لینے والی پیپلز پارٹی نے 32 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرلئے۔ یوں پچھلی مرتبہ اس حلقے میں چوتھے نمبر پر رہنے والے اسلم گل ایک لمبی چھلانگ مار کر اس مرتبہ دوسرے نمبر پر آ گئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلزپارٹی کے 32 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے کی بڑی وجوہات میں تحریک انصاف کے امیدوار کا نااہل ہو جانا، پی ٹی آئی کا نواز شریف مخالف ووٹ پی پی پی کو پڑنا، تحریک لبیک کا اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنا اور طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک کا پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرنا ہیں۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق مسلم لیگ (ن)کی امیدوار شائستہ پرویز ملک 46 ہزار811 ووٹ لیکر جیت گئیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چودھری اسلم گل کو 14 ہزار 498 ووٹوں سے شکست دی۔چودھری اسلم گل 32 ہزار 313 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ یہ نشست مسلم لیگ (ن)کے رکن قومی اسمبلی ملک پرویز کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کے علاوہ تحریک جوانان پاکستان اور نیشنل فرنٹ پاکستان سمیت 11 امیدوار میدان میں تھے جن میں سے 9 کی ضمانت ضبط ہو گئیں اور ان میں سے کوئی بھی امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کر پایا۔ حکمران جماعت کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ کے کاغذات نامزدگی پہلے ہی مسترد ہوگئے تھے۔ 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے 13 ہزار 235 ووٹ حاصل کرنے والی تحریک لبیک نے ضمنی انتخاب میں اپنا کوئی امیدوار میدان میں نہیں اُتارا تھا۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو 2018کے انتخابات کے مقابلے میں 42 ہزار 888 ووٹ کم ملے کیونکہ 2018 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے پرویز ملک نے 89 ہزار 699 ووٹ لیے تھے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے اسلم گِل نے 2018 الیکشن کے مقابلے میں 26 ہزار 728 ووٹ زیادہ حاصل کیے۔ انہوں نے 2018 کے الیکشن میں صرف 5585 ووٹ لیے تھے۔ لیکن یاد رہے کہ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے اعجاز چوہدری نے 77 ہزار 293 ووٹ لیے تھے لیکن ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں تھا۔ دوسری جانب نواز لیگ والوں کا کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن میں ان کے 49 ہزار سے زائد ووٹ کم ہونے کی بنیادی وجہ وہ فرق ہے جو عام الیکشن اور ضمنی الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ کا ہوتا ہے۔ 2018 کے انتخابات میں این اے 133 میں 51.89 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے تھے جبکہ ضمنی الیکشن میں صرف 18.59 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے۔
تاہم پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد لاہور کے الیکشن میں باعزت طریقے سے ہارنا تھا جو کہ بخوبی پورا ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اس الیکشن میں اپنا امیدوار دینے کے لئے راضی نہیں تھے لیکن آصف زرداری کے اصرار پر اسلم گل کو امیدوار بنادیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس الیکشن پر پارٹی قیادت نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اور راجہ پرویز اشرف کو یہ ٹاسک دیا کہ کم از کم بیس سے تیس ہزار ووٹ لازمی حاصل کیے جائیں تاکہ اگلے عام انتخابات میں یہ تاثر تقویت پکڑے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں دوبارہ سے زندہ ہونے جا رہی ہے، لہذا اسلم گل کے حاصل کردہ 32000 ووٹوں کو پیپلز پارٹی کی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق الیکشن کے نتیجہ سے نہ صرف پیپلزپارٹی کی پنجاب بالخصوص لاہور میں کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ کو سنبھالا ملے گا بلکہ اس کا فائدہ آئندہ بلدیاتی انتخابات اور قومی اور پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں بھی ہوگا ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے کچھ عرصہ قبل لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں پیپلز پارٹی ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی جس کا پارٹی قیادت نے سخت نوٹس لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے لاہور ضمنی الیکشن کو بطور ٹیسٹ کیس لیا تھا اور پی پی پی سنٹرل پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف سمیت سینئر پارٹی رہنماؤں کو الیکشن کی تیاری کا ٹاسک سونپا تھا۔ اس الیکشن میں پیپلز پارٹی نہ صرف مسیحی برادری کی حمایت حاصل کر لی بلکہ اہل تشیع اور اہل سنت سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔ کہا جاتا ہے کہ اسلم گل کو سب سے زیادہ فائدہ پاکستان عوامی تحریک کی حمایت حاصل کرکے ہوا ۔طاہرالقادری 2002 میں اس حلقہ سے ایم این اے کامیاب ہوئے تھے ۔این اے 133 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس حلقہ میں عوامی تحریک کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے اس الیکشن میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے تقریبا ہر سیاسی جماعت کے ساتھ رابطہ کیا اور اس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ راجہ پرویز اشرف نے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک لبیک کے علاوہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سے بھی مدد مانگی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ پی پی ٹی آئی کے نواز شریف مخالف ووٹر کو بھی متحرک کر کے پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی گئی کیونکہ تحریک انصاف کا اپنا امیدوار نااہل ہو چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وکی کوشل کترینہ سے شادی کیلئے گھوڑوں پر بارات لائیں گے
دوسری جانب راجہ پرویز اشرف اور اسلم گل کا موقف ہے کہ لاہور کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کا وہ ووٹر واپس آ گیا ہے جو کہ مایوس ہو کر تحریک انصاف میں چلا گیا تھا. لیکن سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ تحریک انصاف مقابلے سے باہر ہونے کے باوجود اس الیکشن سے لاتعلق نہیں رہی اور مسلم لیگ ن کی کامیابی کا مارجن کم کرنے کے لیے اس نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈلوائے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لاہور کے حلقہ 133 کے ضمنی الیکشن کو بنیاد بنا کر یہ خیال نہیں کیا جانا چاہئے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی دوبارہ سے زندہ ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حلقے کے مکینکس اس لئے مختلف تھے کہ حکومتی پارٹی تحریک انصاف کا امیدوار میدان میں نہیں اترا، ورنہ نواز لیگ نے پہلے اور تحریک انصاف نے دوسرے نمبر پر آنا تھا اور یوں پی ٹی آئی کا جو ووٹ پیپلزپارٹی کو ملا ہے وہ مائنسں ہو جانا تھا۔ تاہم دوسری جانب نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور کے ضمنی الیکشن سے پیپلزپارٹی کے دوبارہ زندہ ہونے کا عمل شروع ہو گیا ہے اور 2023 کے الیکشن میں ان کی جماعت اس سے بھی بہتر نتائج دے گی۔
