لاہور میں قیدیوں کی فرار کے بعد بخشی خانے میں توڑ پھوڑ

لاہور کی فیروز پور روڈ پر ماڈل ٹاؤن کچہری کے اندر واقع بخشی خانے سے مختلف جرائم میں ملوث دس سے زائد ملزمان فرار ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے دو کو گرفتار کر کے باقی ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔وزیر اعلیٰ اور آئی جی پنجاب کو مفرور ملزمان کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے جس کے مطابق ماڈل ٹاؤن کورٹ میں بند ملزمان نے بخشی خانہ میں ہنگامہ آراٸی کی۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان نے بخشی خانہ میں لگی اینٹوں کو اکھاڑ کر پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور تالا توڑ کر ایک درجن سے زائد ملزمان فرار ہوگئے۔ایڈووکیٹ عمران اشرف ورک، جو اس وقت موقع پر موجود تھے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے ملزمان نے بخشی خانے کی دیوار توڑی اور پھر دروازہ بھی توڑ دیا۔‘
’ان میں سے ایک درجن سے زیادہ ملزمان ماڈل ٹاؤن کچہری کی دیوار پھلانگ کر پیچھے ریلوے ٹریک سے بھاگ نکلے۔‘
ایس ایس پی آپریشنز مستنصر فیروز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’آج دو جیلوں سے 166 ملزمان کو پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ جب انہیں بخشی خانے میں بند کیا گیا تو ملزمان کے دو گروپوں میں تصادم ہوا۔‘’پولیس نے جب اس تصادم پر قابو پانے کے لیے قیدیوں کو وہاں سے باہر نکالا تو قیدی بے قابو ہوگئے۔ انہوں نے پولیس افسران کے ساتھ بھی جھگڑا کیا، ان پر پتھر پھینکے اور جو بھی سامان ہاتھ آیا جن میں کرسیاں میزیں شامل ہیں، ان سے حملہ کیا۔‘
ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ ’اسی دوران موقع پاتے ہی 12 قیدی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ جن میں سے دو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ مزید گرفتاریوں کے لیے سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ آج ہی ہم تمام مفرور قیدیوں کو گرفتار کر لیں۔‘’ہم اپنی انٹرنل انکوائری بھی کر رہے ہیں کہ اگر اس معاملے میں ہمارے پولیس افسران نے کسی غفلت کا مظاہرہ کیا ہے تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔‘انہوں نے کہا جن قیدیوں نے یہ ’شرارت‘ کی ہے ان کے خلاف مقدمے درج کرکے کارروائی بھی کی جائے گی۔
بخشی خانے سے ملزمان کے فرار ہونے کے حوالے سے سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو نے ایس ایس پی آپریشنز سے رپورٹ طلب کی تھی۔ جس کے بعد مفرور ملزمان کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز مسنتصر فیروز کی سربراہی میں سپیشل ٹیمیں تشکیل دیں گئیں اور ملزمان کے خلاف چھاپے مارے جارہے ہیں۔پولیس کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق کوٹ لکھپت جیل سے کل 90 ملزمان کو ماڈل ٹاؤن کورٹ پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ ان کو ماڈل ٹاؤن کورٹ کے بخشی خانہ میں بند کیا گیا تھا جس میں سے حیدر علی،فیصل، اور احمد علی نام کے تین ملزمان فرار ہوئے جبکہ کیمپ جیل سے کل 76 ملزمان کو پیشی کے لیے لایا گیا تھا جن میں سے جاوید علی، وسیم، شعبان، پرویز، ایان، عادل، سہیل، اور احسن نامی آٹھ ملزمان فرار ہوگئے تھے۔پولیس کے مطابق، فرار ہونے والے ملزمان ڈکیتی، غیر قانونی اسلحہ، فراڈ، منشیات اور لڑائی جھگڑوں جیسے مقدمات میں نامذد تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ماڈل ٹاؤن کچہری سے قیدیوں کے فرار ہونے کا نوٹس لیتے سخت کارروائی کا حکم دے دیا ، ابتدائی رپورٹ کے مطابق 11 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 2 کو حراست میں لے لیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اس حوالے سے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ عثمان بزدار نے قیدیوں کے فرار کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ۔
اس موقع پر عثمان بزدار نے کہا کہ قیدیوں کی جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوٹ لکھپت جیل سے 90 اور کیمپ جیل سے 76 ملزموں کو ماڈل ٹاؤن کچہری لایا گیا۔ کوٹ لکھپت سے لائے گئے ملزموں میں سے 3 اور کیمپ جیل سے لائے گئے ملزموں میں سے 8 فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ملزموں نے بخشی خانے میں ہنگامہ آرائی کی اور اینٹیں اکھاڑ کر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا بعد ازاں ملزموں کی بڑی تعداد بخشی خانے کا دروازہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔دوسری جانب آئی جی راؤ سردار نے واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی۔
