چند چینیوں کے لیے گوادر کو خاردار تار لگانے کا منصوبہ کیوں بنا؟


پاک چین سی پیک منصوبے کے باعث جہاں گوادر کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے وہیں چینی شہریوں کے تحفظ کے نام پر شہر کے گرد خاردار باڑ لگانے کے فیصلے سے گوارد کے مکینوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ گوادر کے مکین شکایت کرتے ہیں کہ اس خاردار باڑ کی تنصیب سے ان کے گھر اور خاندان تقسیم ہوجائیں گے، کیونکہ انہیں باڑ کے اندر رہنے والے اپنوں سے ملنے کے لیے شدید دشواری کا سامنا کرنا ہوگا۔ گوادر کے مکین کہتے ہیں کہ وہ اپنے ہی شہر میں اجنبی بن جائیں گے اور انہیں گھنٹوں لائن میں لگ کر چیک پوسٹ سے گزرنا ہوگا جو انکے لیے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ لہذا گوادر شہر کے مکینوں کے احتجاج کے باعث وزیر اعلی بلوچستان نے وقتی طور پر اس منصوبے کو روک دیا ہے لیکن عمومی خیال یہی ہے کہ اسے کچھ عرصے میں دوبارہ شروع کر دیا جائے گا جس پر عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے میں ایک مسئلہ باڑ کے باہر پراپرٹی کی قیمتیں 25 فیصد گرنے کا بھی ہے جس پر پراپرٹی ڈیلرز اور مقامی مالکان ناراض نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ گوادر باڑ لگانے کا معاملہ دسمبر 2020 میں سامنے آیا جب نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے گوادر سیف سٹی کے تحت سروع خیے گے اس منصوبے کی مخالفت کی۔ اسی دوران بلوچستان ہائی کورٹ میں گوادر شہر کے گرد خار دار تار لگائے جانے کے منصوبے کے خلاف دائر کردہ ایک درخواست میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ شہر کے مکینوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی یے جو کہ آرٹیکل 15 میں واضح ہیں۔ اسوقت گوادر کے میں سڑک کی ایک جانب تقریباً 12 فٹ اونچے لوہے کے پولز لگے واضع دکھائی دیتے ہیں جن پر باڑ لگائی جارہی ہے۔ گوادر کے شہری کہتے ہیں کیا پہلے سکیورٹی کے نام پر ان کے شہر میں قائم کردہ چیک پوسٹیں کم تھیں جو اب باڑ بھی لگانی شروع کر دی ہے۔ انکا بڑا اعتراض یہ ہے کہ سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چند سو چینی شہریوں کی سکیورٹی کے نام پر گوادر کی لاکھوں کی آبادی کو قیدی بنایا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر ڈاکٹر عبدالعزیز نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گوادر شہر کے گرد لگائی جانے والی خاردارتار میں بجلی دوڑانے کا بھی منصوبہ یے۔ یوں اگر کسی سادہ لوح دیہاتی نے اسے کراس کرنے کی کوشش کی تو اس کی زندگی جا سکتی ہے۔ ایک مقامی خاتون نے باڑ سے پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساحل سمندر، یہاں کا شاہی بازار ہم یہاں پہلے آزاد گھومتے پھرتے تھے مگر اب سب بدل رہا ہے۔ میں ایک دن اپنی تین برس کی بیٹی کو اسپتال لے جا رہی تھی جلدی میں شناختی کارڈ بھول گئی لیکن مجھے چوکی کراس کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ کہاں جا رہے ہو، کہاں سے آ رہے ہو، کیا کرتے ہو آپ لوگ اپنا شناختی کارڈ دیں؟ ایک ہی سڑک پر جاتے ہوئے اگر آرمی والے چیک کریں گے تو واپسی پر اسی مقام پر مخالف سمت میں کھڑے لیویز اہلکار وہی سوال دہرائیں گے۔
ایک مقامی شخص، جس کے گھر کے سامنے باڑ کے لیے لگے پولز صحن سے صاف دکھائی دیتے ہیں، نے بتایا کہ یہاں باڑ لگے گی اور راستہ بند ہو جائے گا اور ان سب لوگوں کے لیے جو اندر ہیں یا باہر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں اپنے مویشی چرانا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ایک گیٹ پشوکان پر لگے گا دوسرا زیرو پوائنٹ پر۔ ایک جانب سات کلومیٹر دور ہے دوسرا دس کلو میٹر۔ اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں یہ باڑ پیچھے پہاڑوں کی طرف لگائی جائے نہ کہ گوادر شہر کے اندر کیونکہ میرے بھائی بہن سب باڑ کے اندر کے علاقے میں ہیں، اور اگر باڑ لگ گئی تو ان سے میل ملاپ بھی مشکل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ عوامی احتجاج کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حکم پر باڑ لگانے کا کام ووتی طور پر روکنا پڑا تھا۔ اس حوالے سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے احتجاج کے بعد باڑ کا کام فی الحال رکا ہوا ہے لیکن یاد رکھیں یہ باڑ لگے گی، لیکن یہ ہمارا نقصان ہے، ہمارے دیہات ہیں، جب باڑ لگے گی تو ہمارے دیہات گوادر سے کٹ جائیں گے۔ لوگوں کا کہنا یے کہ گوادر میں صرف مقامی لوگ رہ جائیں گے، دیہات کٹ جایئں گے، اب بھی ہمیں آنے جانے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔ کئی گھنٹے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ایک گھنٹہ دو دو گھنٹے۔۔۔ پھر سکیورٹی کلیئرنس ملتی ہے اور آپ کو جانے دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر گوادر میجر ریٹائرڈ کبیر خان زرکون نے بتایا کہ باڑ لگانے کے کام کی رفتار تو کافی اچھی تھی لیکن جیسے ہی ہمیں پتہ چلا کہ عوام کو تحفظات ہیں تو ہم نے وزیر اعلیٰ کے حکم پر کام روک دیا۔ جب پوچھا گیا کہ اتنی ساری چیک پوسٹوں کی موجودگی میں باڑ لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، تو ان کا کہنا تھا کہ جب یہاں پر لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے تو انہیں بہت زیادہ دشواریاں ہوتی ہیں کیوں کہ انہیں چیک کیا جاتا ہے۔ اس کا حل ہم نے یہ نکالا کہ باڑ لگانے کے منصوبے پر عمل کریں تاکہ اس علاقے میں موجود تمام سکیورٹی چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق ابتدائی طور پر ہم صرف شہر کے 20 سے 25 کلومیٹر کے مضافستی علاقے کو باڑ لگا رہے ہیں لیکن مستقبل کے پلان میں پوری تحصیل گوادر کو باڑ کے اندر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی گوادر میں داخل ہونے کے صرف تین راستے ہیں جب کہ انتظامیہ نے خاردار باڑ کے منصوبے میں گیارہ راستے تجویز کیے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ دراصل گوادر ماسٹر پلان میں باڑ کے تین فیز تھے۔۔۔ پہلے گوادر پورٹ، اسکول، اسپتال اور ملٹری سمیت اہم اداروں کے لیے بار کرنی تھی۔ دوسرا مرحلہ جو ابھی روکا گیا اسے 2023 تک مکمل کیا جانا ہے جب کہ تیسرے اور آخری مرحلے میں پورے گوادر کے گرد باڑ لگنی تھی۔ دوسرے مرحلے کی باڑ کا جائزہ سنہ 2035 میں لیا جانا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ گوادر شہر کو خاردار باڑ لگانے کا منصوبہ ختم کر دیا جاتا ہے یا دوبارہ سے شروع ہو جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button