بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا منصوبہ کیوں بن رہا ہے؟


سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد پی ڈی ایم اتحاد اگلے مرحلے میں 12مارچ کو انہیں سینیٹ چیئرمین منتخب کروانے کے بعد وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اور پھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی عدم اعتماد کی کاروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 مارچ کو سینٹ چیئرمین کے الیکشن کے بعد حکومت کے ساتھ پی ڈی ایم کا بڑا سیاسی معرکہ پنجاب اسمبلی میں ہونے کا امکان ہے جہاں وزیراعلی عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں سپیکر اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلانے سے پہلے ضروری ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کا خاتمہ کیا جائے تاکہ وفاق میں حکومت پر کاری ضرب لگانے میں آسانی ہو سکے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے نواز لیگ کے ساتھ ساتھ مذاکرات شروع کر رکھے ہیں کیونکہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب میں بزدار کی جگہ اپوزیشن کا اگلا وزیراعلی کون ہو گا؟ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے کے لیے قاف لیگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے جس کے بغیر تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔ اس وقت پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کے 181 ممبران اسمبلی ہیں جب کہ نون لیگ کے اراکین کی تعداد 165 ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس 7 اراکین اسمبلی ہیں جب کہ قاف لیگ کے پاس 10 ممبران ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر قاف لیگ پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ کر نون اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لے تو بزدار حکومت ختم ہو جائے گی۔
اس وقت پنجاب اسمبلی میں دونوں فریقین کی عددی اکثریت میں اتنا معمولی فرق ہے کہ عدم اعتماد کے معاملے پر ’’اپ سیٹ‘‘ کے امکان کو یکسر مسترد کرنا ممکن نہیں۔ تاہم عدم اعتماد لانے کے حوالے سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوگا کہ نواز لیگ بزدار کی جگہ اپنا وزیراعلی لانے پر اصرار کرے گی جبکہ گجرات کے چوہدری عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کے عوض اپنے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تقاضا کریں گے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی جب چوہدری برادران مسلم لیگ کا حصہ تھے تو عین وقت پر نواز شریف نے پرویز الہی کو وزیر اعلی بچانے کی بجائے شہباز شریف کو وزارت اعلیٰ سونپ دی تھی جس کے بعد چوہدریوں اور شریفوں کے اختلافات بڑھتے گئے اور پھر چوہدری مشرف کے ساتھ چلے گئے۔ چوہدری برادران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ نون لیگ کی قیادت پر ابھی اعتماد نہیں کرتے اور اگر ان کا پی ڈی ایم کے ساتھ کسی قسم کا کوئی اتحاد ہوتا ہے تو وزارت اعلی کی گارنٹی آصف علی زرداری سے حاصل کی جائے گی۔ دوسری صورت میں اگر ان کے پاس پنجاب کی سپیکر شپ ہی رہنی ہے تو پھر صوبے میں تبدیلی لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ چوہدری پرویز الہی کو پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ دیا گیا تھا۔ چنانچہ جب تک پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں وزیراعلی کا نام فائنل نہیں کر لیتی تب تک پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ اگر گجرات کے چوہدریوں نے بزدار کا ساتھ چھوڑ دیا تو پھر انہیں کوئی نہیں بچا پائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ پچھلے ڈھائی برس سے عمران خان سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ وزیر اعلی کی کرسی پر بزدار کی بجائے کسی اہل آدمی کو بٹھایا جائے تاکہ ان کی حکومت کا تاثر بہتر ہو سکے۔ ان حالات میں اگر بزدار کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات ہوں گے جس کے بعد وفاق میں بھی عمران خان کی حکومت قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گزشتہ دو ماہ میں ہونے والے سیاسی واقعات پر نگاہ ڈالی تو واضح ہونے لگتا ہے کی فوجی اسٹیبلشمینٹ پہلے کی طرح کپتان حکومت کی ننگی ہو کر حمایت نہیں کر رہی۔ چند ہفتے قبل جب پیپلز پارٹی کی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہے گی تو وہ محض سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں ایک مضبوط یقین دہانی موجود تھی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حفیظ شیخ کی جیت کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کوشش تو کی لیکن قدرے پیچھے رہ کر اور خاموشی کے ساتھ تاکہ حزب اختلاف کو دی گئی کمٹمنٹ پر حرف نہ اٹھایا جا سکے۔ سیانے کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی دوستی یا دشمنی دائمی ہوتی ہے۔ ضمنی انتخابات میں اپوزیشن کی برتری، ڈسکہ دھاندلی کے بعد الیکشن کمیشن کی جاری کردہ پریس ریلیز کا متن، حکومت کے پرزور مطالبے اور کوشش کے باوجود 20 پولنگ اسٹیشنز کی بجائے پورے حلقے میں ری الیکشن کا فیصلہ، عدالت کی جانب سے سینٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے تحت کروانے کی رائے، اور یوسف رضا گیلانی کی فتح سمیت حالیہ دنوں رونما ہونے والے واقعات کو ملا کر دیکھا جائے تو مستقبل کے سیاسی خدوخال واضح ہونے لگتے ہیںن۔
باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بعض اہم حکومتی معاملات بالخصوص پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کو شدید تحفظات ہیں اور وہ متعدد بار وزیراعظم کے سامنے ان کا اظہار کر چکی ہے۔ لیکن وزیراعظم کی جانب سے عثمان بزدار کی مسلسل حمایت اور انہیں تبدیل نہ کرنے کی ضد کے سبب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انکے آپسی تعلقات میں اب پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ دوسری جانب مسلسل بڑھتی مہنگائی کے سبب عوام میں پیدا ہونے والے غم و غصہ نے بھی ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ لہذا ان حالات میں اگر اپوزیشن پنجاب میں کوئی سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات کافی زیادہ ہوں گے۔
دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 181 ہے جبکہ اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے پاس 10 نشستیں ہیں، مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 165 ہے اور پیپلز پارٹی کے پاس 7 نشستیں ہیں۔ یعنی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے اراکین کی مجموعی تعداد 172 ہے جبکہ مسلم لیگ نون متعدد بار یہ عندیہ دے چکی کہ اگر پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ کے امیدوار بنتے ہیں تو وہ ان کی حمایت کرے گی۔دوسری جانب چوہدری برادران کے تحریک انصاف بالخصوص وزیراعظم کے ساتھ تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہتے ہیں اور ق لیگ متعدد بار میڈیا میں اپنے تحفظات بیان کر چکی ہے۔ بادی النظر میں مستقبل قریب میں تو شاید کوئی تبدیلی نہ آئے لیکن چند ماہ بعد کی سیاسی صورتحال بارے اس وقت کچھ کہنا ممکن نہیں۔ تجزیہ کسر کہتے ہیں کہ2021ء میں بہت کچھ تبدیل ہونے کا امکان ہے جس میں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور جہانگیر ترین کا کردار ’’ہما‘‘ نامی پرندہ جیسا ہوگا کیونکہ یہ جس کے سر پہ بیٹھ جائے گا وہ بادشاہ ہوگا۔ دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ناراض ارکان کا بڑا گروپ بھی موجود ہے جو عثمان بزدار کے خلاف میڈیا میں آکر بیان بھی دیتے رہے ہیں۔ چند روز قبل اس گروپ کے ارکان کو پرویز الہی نے ہی مدعو کر کے ان کی شکایات سنیں اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ناراض گروپ تحریک عدم اعتماد میں پانسہ پلٹ سکتا ہے کیونکہ پنجاب سے سینیٹ امیدواروں کا انتخاب بلامقابلہ کروا لیا گیا جس کے باعث جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی کے مطالبات ادھورے ہی رہ گئے۔
تاہم حقیقت حال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پنجاب میں ایک نااہل اور کمزور شخص کو وزیر اعلی بنانے اور پھر اسے مسلسل بچانے کے چکر میں پاکسستان کا سب سے بڑا صوبے اس وقت انتظامی طور پر تباہی کا شکار ہو چکا یے اور گورننس کا برا حال ہے۔ اڑھائی برس میں بزدار کی حکومت کوئی ایسا کام نہیں کرسکی جسکی عام لوگ تعریف کریں۔ پنجاب کے رُولز آف بزنس کے تحت صوبائی وزرا کے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں اور تمام تر اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس ہیں۔ ایسے میں شاطر بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے سی ایس پی افسران ایک کمزور وزیراعلیٰ کو اپنی انگلیوں پر نچا رہے ہیں اور بزدار کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے عثمان بزدار وزیراعظم کو کہہ کر پانچ چیف سیکرٹری اورانسپکٹر جنرل پولیس بدلوا چکے ہیں لیکن کسی سے بھی کام کروانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ وجہ یہ ہے کہ کام لینے کے لیے کام کی سمجھ ہونا بھی ضروری ہے اور عثمان بزدار سمجھ بوجھ سے پیدل ہیں۔ ان حالات میں جلد یا بدیر وزیر اعلی پنجاب کی تبدیلی ناگزیر یے۔ فیصلہ صرف اتنا یونا ہے کہ نواز لیگ پرویز الہی کو وزیر اعلی بنانے پر آمادہ ہو جاتی ہے یا حمزہ شہباز شریف کو وزارت دینے پر اصرار کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button