چکری کے پاڈے چوہدری نثار کا بلندی سے پستی کا سفر

تین برس کی "ناں ناں” کے بعد اچانک پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لینے والے چکری کے پاڈے چودھری نثار علی خان 2018 سے ملکی سیاست میں بلندی سے پستی کے سفر پر گامزن ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا غیر ضروری پاڈا پن اور ضد ہے جس کے نتیجے میں وہ ن لیگ سے فارغ ہونے کے بعد نہ گھر کے رہے اور نہ ہی گھاٹ کے۔ ماضی میں دو مرتبہ پاکستان کے سب سے طاقتور وزیر داخلہ اور فیصلہ ساز رہنے والے نثار 2018 سے سیاسی سکرین سے غائب تھے اور قصہ پارینہ بنتے چلے جا رہے تھے۔ نثار نے حال ہی میں پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے کا فیصلہ کیا تو دوبارہ سے خبروں میں آگئے۔ تاہم ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ نواز شریف کی جانب سے فارغ کیے جانے کے بعد ان کی سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے۔
نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان سرد جنگ اسی دن شروع ہوگئی تھی جب عمران خان نے دھرنے کے دوران چکری کے چوہدری کو اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی مگر ’مریم نواز کے نیچے کام نہیں کرسکتا’، شاید وہ بیان تھا جس نے 35 سال کی رفاقت کو توڑنے میں آخری وار کا کام کیا۔ 2013ء سے 2018ء کے درمیان 126 دن کا دھرنا ہوا، ماڈل ٹاؤن کا واقعہ پیش آیا، ڈان لیکس کا معاملہ اٹھا، حتیٰ کہ عین الیکشن 2018ء سے چند ماہ پہلے تک بارہا ایسے مواقع بھی آئے جب چوہدری نثار کی طرف سے براہِ راست شریف برادران کے خلاف بیان بھی آئے، مگر ان کا نقصان اتنا نہیں تھا۔
تاہم ان سب باتوں کے باجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے چوہدری نثار کو آخری موقع اس وقت دیا جب الیکشن 2018ء کے لیے ٹکٹس کی تقسیم کا فیصلہ سامنے آیا۔ لیکن چوہدری نثار علی خان نے پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کو اپنی توہین قرار دیا اور کہا کہ جب میں نے 34 سال تک پارٹی ٹکٹ کی بھیک نہیں مانگی تو اب کیوں مانگوں‘۔ تاہم چکری کے پاڈے چوہدری کو اپنی پاڈا گیری بھگتنا پڑی اور 2018 کے الیکشن میں وہ گائے کے انتخابی نشان پر قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں ہار گئے۔ لیکن اتنی عزت رہ گئی کہ وہ صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ جیت گئے جس پر اب انہوں نے اپنا تھوکا چاٹتے ہوئے حلف لے لیا ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن سے نثار کے سیاسی زوال کا سفر کیوں شروع ہوا اور آٹھ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہنے والے چوہدری نثار 2018 کے انتخابات میں کیوں ہارے؟ اسکا جواب جاننے کے لیے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ نثار مسلم لیگ (ن) حکومت کے دوران جون 2013ء سے 28 جولائی 2017ء تک وزیرِ داخلہ رہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اس قدر اہم ترین وزیر تھے کہ ان کی مرضی کے بغیر نواز شریف کوئی اہم فیصلہ نہیں لیتے تھے۔ یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں کہ پرویز مشرف کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ بھی نواز شریف نے چوہدری نثار علی خان کے مشورے کے بعد ہی کیا تھا جس نے بعد میں انکا دھڑن تختہ کردیا دیا۔ چوہدری نثار علی خان پر ایک کیسی بھی ہے کہ جب نواز شریف نے جنرل مشرف کو ہٹا کر ان کی جگہ تب کے آئی ایس آئی چیف جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا تو چوہدری نثار کے بڑے بھائی لیفٹیننٹ جنرل افتخار علی خان نے بطور سیکرٹری دفاع ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے انکار کر دیا جس وجہ سے وہ فوج کا کنٹرول نہ لے پائے اور نواز شریف کی چھٹی ہوگئی۔
نثار کے نواز لیگ سے زبردستی کے شکوے اپنی جگہ، لیکن مسلم لیگ (ن) کا شکوہ ہے کہ 2013ء کے بعد بھی کئی ایسے اہم واقعات ہوئے جب وزیرِ داخلہ منظرِ عام پر کہیں نظر نہیں آئے اور یہی وجوہات آہستہ آہستہ انکو پارٹی قیادت سے دور کرتی رہیں۔ یاد رہے کہ جب انہیں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹکٹ نہیں دیا گیا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں ’جیپ‘ کا نشان الاٹ کیا گیا تو ایک نئی تھیوری گردش کرنے لگی۔ مریم نواز نے جیپ کو خلائی مخلوق کے ساتھ نتھی کردیا اور کہا کہ فوجی جیپ کا ووٹ بنیادی طور پر خلائی مخلوق کو پڑے گا، اس طرح کے بیانات نے معاملے کو مزید تلخ کردیا۔ نثار نے قومی اسمبلی کے 2 حلقوں این اے 59 اور این اے 63 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 12 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اسے چکری کے چوہدری کی بدقسمتی کہیں یا پھر خوش قسمتی کہ این اے 59 سے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے راجا قمر الاسلام کو ٹکٹ سے نوازے ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے ہوں گے کہ انہیں صاف پانی اسکینڈل میں نیب کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا گیا۔ تب یہ الزام لگا کے یہ گرفتاری اسٹیبلشمنٹ نے چوہدری نثار کے کہنے پر کروائی ہے تاکہ وہ آسانی سے الیکشن جیت جائیں۔یوں ان کے الیکشن پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا۔
مگر یہاں ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ’مریم جیسے بچوں کے نیچے سیاست‘ نہ کرنے کا اعلان کرنے والے چوہدری نثار کو راجا قمر الاسلام کے بچوں کے خلاف الیکشن لڑنا پڑگیا، دوسری جانب تحریکِ انصاف کے غلام سرور خان بھی ان کے مقابلے پر اتر آئے۔ یہاں یاد رہے کہ راجا قمر الاسلام نے 2013ء الیکشن میں پورے پاکستان کے تمام صوبائی حلقوں میں سب سے زیادہ مارجن سے اپنے حریف کو ہرایا تھا۔ حلقہ این اے 59 میں چوہدری نثار کا مقابلہ تحریکِ انصاف کے غلام سرور خان سے تھا، یہ ٹیکسلا کا وہ حلقہ ہے جہاں زیادہ تر ووٹرز شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ غلام سرور خان نے چوہدری نثار کو شکست سے دوچار کردیا مگر اسی حلقے سے چوہدری نثار کے مقابلے میں کھڑے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار قمر الاسلام کو بھی شکست ہوگئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ نثار کو این اے 63 میں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
یوں آٹھ مرتبہ رکن قومی اسمبلی بننے والے نثار علی خان 2018 میں دونوں نشستوں سے الیکشن ہار گئے اور انہیں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر اکتفا کرنا پڑا جس پر وہ تین برس سے حلف لینے سے انکاری تھے۔ تاہم اب نثار اپنا تھوکا ہوا چاٹ کر پنجاب اسمبلی کے رکن بن چکے ہیں۔ لیکن تین سال کے وقفے کے بعد سیاست میں دوبارہ انٹری ڈالنے والے نثار کی اب وہ سیاسی آن اور شان نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ حلف لینے کے بعد جب نثار سے پوچھا گیا کہ تین سال بعد ایسا کرنا کیا اپنے حلقے کے عوام اور منتخب اداروں کی توہین نہیں؟ تو یارانِ نقطہ دان نے یاد دلایا کہ وہ تو چکری کے چوہدری ہیں، ان کو اگر کسی بات پر غصہ آ جائے تو دوسرے کی چھوڑ وہ اپنی نہیں سنتے۔ یوں اسمبلی کی رکنیت کا حلف تاخیر سے لینا بھی ان کی اک ادا ٹھہرا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سیاست میں لچک وہ واحد چیز ہے جو جمہوریت کے پہیے کو آگے لے کر چلتی ہے۔ ناراض ہوکر بیٹھنے سے حالات مزید کشیدگی کی جانب جاتے ہیں۔ جب اصول اور انا آمنے سامنے آجائے تو پھر جیت ہمیشہ انا کی ہوتی ہے کیونکہ جب ’میں‘ آجاتی ہے تو انسان اپنی ذات سے آگے نہیں دیکھ سکتا، شاید یہی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ہوا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا بجا ہو گا کہ چوہدری نثار کو کسی اور نے نہیں بلکہ ان کی اپنی ‘میں’ نے سیاسی زوال کی طرف گامزن کیا ہے ورنہ وہ ہمیشہ کی طرح بلندیوں کا سفر کرتے نہ کہ پستیوں کا۔
