چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنے والی طیبہ گل نیب سے بری

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی مبینہ دست درازی اور بوس وکنار کی ویڈیو لیک کرنے والی خاتون طیبہ گل اور ان کے شوہر فاروق نول کو لاہور کی احتساب عدالت نے 16 فروری کو دو کروڑ روپے کے فراڈ کے الزام سے باعزت بری کردیا۔
طیبہ اور ان کے شوہر پر الزام تھا کہ انہوں نے مختلف لوگوں سے فراڈ کیا اور رقم بٹوری تھی۔ احتساب عدالت کے جج اسد علی نے دونوں میاں بیوی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں عدم ثبوت کی بنیاد پر کیس سے بری کیا۔ احتساب عدالت کی طرف سے فیصلہ سناتے وقت دونوں میاں بیوی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ خیال رہے کہ طیبہ گل نامی خاتون کا نام اس وقت سامنے آیا تھا جب 2019 میں چیئرمین نیب سے منسوب ایک ویڈیو ایک نجی ٹی وی چینل نے چلائی تھی جس میں مبینہ طور پر چیئرمین نیب کو ایک خاتون کے ساتھ قابل اعتراض گفتگو کرتے دکھایا گیا تھا۔ لیکن ٹی وی چینل نے یہ ویڈیو چلانے پر معافی مانگ لی تھی۔ البتہ نیب لاہور نے خاتون اور ان کے شوہر کو گرفتار کر کے ان خلاف فراڈ کا ریفرنس دائر کر دیا تھا۔ بعد ازاں میاں بیوی کو عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا تھا لیکن انکے خلاف کیس چلتا رہا۔
نیب نے احتساب عدالت میں جوڑے کے خلاف 35 گواہان کی فہرست بھی پیش کی اور الزام عائد کیا کہ ان دونوں نے عام لوگوں سے دو کروڑ روپے کا فراڈ کیا۔ ٹرائل کے دوران ہی طیبہ گل نے اپنی بریت کی درخواست دائر کر دی تھی جس میں موقف اختیار کیا کہ کسی بھی فراڈ میں مقدمے میں متاثرین کی تعداد کم سے کم 22 ہونی چاہیے یہ ریفرنس بنیادی قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا۔ عدالت نے بریت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے دونوں میاں بیوی کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا ہے جس نے نیب کی ساکھ پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقدمے کے پراسیکیوٹر حارث قریشی کے مطابق عدالت نے فیصلہ تکنیکی نقاط پر سنایا جس کے خلاف اپیل کا حق ادارے کے پاس محفوظ ہے۔
دوسری طرف ملزمان کے وکیل ایڈووکیٹ منیر بھٹی نے بتایا کہ ’میرے موکلین کے خلاف مقدمہ بدنیتی پر مبنی تھا اور اس کو عدالت نے میریٹ پر خارج کیا ہے۔ یہ مقدمہ ایک انتقامی کارروائی کے سوا کچھ نہیں تھا اور یہ نیب کے اپنے قوانین پر بھی پورا نہیں اترتا تھا یہی وجہ ہےکہ عدالت نے میاں بیوی کی بریت کی درخواست منظور کی ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ ’پورا پاکستان جانتا ہے کہ ان کی موکلہ نے چیئرمین نیب جاوید اقبال پر الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد یہ جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ مئی 2019 میں جسٹس جاوید اقبال کی جانب سے ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس کی نیب نے سختی سے تردید کی تھی۔ نجی ٹی وی چینل نیوز ون پر نشر ہونے والی ویڈیو میں چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ نازیبا گفتگو کرتے پائے گئے جس کے اختتام پر انہوں نے اٹھ کر خاتون کو گلے لگایا اور پھر چوما بھی۔ اس کے بعد انکی ایک آڈیو بھی سامنے آئی جس میں چیئرمین نیب ایک خاتون کے ساتھ سیکسی گفتگو فرما رہے تھے۔ اس ٹیلیفونک گفتگو میں جسٹس جاوید اقبال خاتون کو بتا رہے تھے کہ انہوں نے اگلی ملاقات کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس کا بندوبست کیا ہے جہاں گرم پانی اور تولیے کی سہولت بھی حاصل ہے۔
چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال یہ گفتگو مبینہ طور پر طیبہ گل نامی خاتون سے کر رہے تھے جسکا شوہر اس وقت نیب کی تحویل میں تھا۔ اگرچہ یہ نازیبا ویڈیو اور آڈیو وائرل ہونے کے بعد چیئرمین نیب کی جانب سے ایک باقاعدہ انکوائری کروانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم آج تک نہ تو نیب نے اس حوالے سے کوئی تفتیش کی اور نہ ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یہ پتہ چلانے کی کوشش کی کہ آیا یہ ویڈیو اصلی تھی یا جعلی اور کس نے اس ویڈیو کو وائرل کروایا۔
بعد ازاں 19 نومبر کو طیبہ گل کے ساتھ چیئرمین نیب کی مزید ایک آڈیو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں صحافی اعزاز سید نے آڈیو کال کی ریکارڈنگ شئیر کی تھی اور کہا کہ چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی طیبہ گل سے فون پرنئی گفتگو لیک ہو گئی ہے۔ آڈیو ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر چئیرمین نیب نے خاتون سے کہا کہ: ‘طیبہ میں نیب کے دفتر میں تو مل نہیں سکتا ، یہاں پر آج کل خواتین کے حوالے سے کافی سختی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جب بھی آیا تو آپ کو بتا دوں گا’۔ جس پر خاتون نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
تاہم اس معاملے پر نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے یہ خبر بلیک میلنگ کر کے نیب ریفرنس سے فرار کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس خبر کے پیچھے ایک بلیک میلرز کا گروہ ہے جس کا مقصد نیب کے ادارے اور چیئرمین نیب کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔
