چیف جسٹس ریٹائرمنٹ تک سیاست میں کیا ہلچل مچا سکتے ہیں

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ 16ستمبر کو ہے۔ اس طرح ان کی ریٹائرمنٹ میں تقریباً  دو ماہ ہی رہ گئے ہیں۔ یہ دو ماہ پاکستان کی سیاست اور نظام انصاف کے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ ابھی عدالت عظمیٰ میں کافی اہم مقدمات زیر سماعت ہیں جن کا فیصلہ دو ماہ میں ہو سکتا ہے‘ ان مقدمات کے فیصلے ملک کی سیاسی مبادیات پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس بندیال کی اننگ تنازعات میں ہی ختم ہوگی یا وہ ان دو ماہ میں تنازعات کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ  ایک انتہائی اہم مقدمہ تو ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کا ہے۔

ایک سوال یہ ہے کہ کیا نو مئی کے ملزمان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل روکنے کافیصلہ آئے گا؟ اس مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بنچ نے عید سے قبل غیر معینہ مدت تک ملتوی کی ہے۔ لیکن وہ یہ مقدمہ دوبارہ کب سنیں گے؟یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا جسٹس یحییٰ آفریدی دوبارہ اس بنچ کا حصہ بنیں گے؟ کیا ان کے فل کورٹ بنانے کے نوٹ کے بعد وہ یہ مقدمہ سنیں گے۔ اگر جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ سے علیحدہ ہو جائیں گے تو پھر کیا نیا بنچ بنایا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو پھر پانچ جج رہ جائیں گے۔

اس لیے ملٹری کورٹ کا کیس ایک اہم کیس بن گیا ہے، مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ  ہر جج اپنے اندر ایک مکمل جج ہوتا ہے۔ اور اسے کسی بھی قسم کی گروپنگ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ایک جج  مکمل آزاد ہوتا ہے اسے اپنے کام میں کسی کی کوئی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن پھر بھی ہم نے سپریم کورٹ میں کافی گروپنگ دیکھی ہے۔ یہ کوئی صورتحال  اچھی نہیں۔ کیا چیف جسٹس صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہ گروپنگ جاری رہے گی؟ اس کا خاتمہ کسی بھی طرح ممکن نظر نہیں آرہا۔ چیف جسٹس پر مشتمل بنچ کے حکم کے مطابق پنجاب میں14مئی کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہیں ہو سکے ہیں۔ عدالت نے اپنا حکم بھی واپس نہیں لیا ہے لیکن اس پر عمل بھی نہیں ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے ریٹائرمنٹ سے پہلے اس معاملہ کو بھی نبٹانا ہے۔ انھوں نے توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی ہے۔ لیکن حکم بھی واپس نہیں لیا ہے۔ یہ عجیب صورتحال ہے۔ وہ اس کو ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتے کیونکہ بعد میں کوئی دوسرا بنچ کوئی اور فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ اسی طرح پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا معاملہ بھی درمیان میں ہے۔ ججزمیں اس حوالے سے واضح اختلاف ہے۔ ابھی تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ حکم امتناعی سے ہی معاملہ چلتا رہے گا تاکہ اس معاملے پر اگلا چیف جسٹس فیصلہ کرے۔

تاہم یہ تنازعہ کافی بڑھ چکا ہے۔ اس کو اس طرح چھوڑنا بھی بعد میں نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے تبادلے کا معاملہ بھی ایسا ہے جو درمیان میں ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وفاقی حکومت ان کے تبادلے کا حکم دے چکے ہیں۔مزمل سہروری کہتے ہیں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں سپریم کورٹ میں جونیئر ججز کی تعیناتی بھی ایک متنازعہ معاملہ رہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سنیارٹی کے اصول کو نظر انداز کر کے تعیناتیوں کے حق میں نہیں رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ محترم چیف جسٹس کے ریٹائر ہونے کے بعد جب جسٹس قاضی فائز عیسی چیف جسٹس بنیں گے تووہ جونیئر ججز کا کیا کرتے ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔

بہر حال یقیناً چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے پاس وقت کم رہ گیا ہے۔ ہر گزرتا دن ان کے لیے اہم ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی اننگ کیسے ختم کرتے ہیں۔ کیا یہ تنازعات میں ہی ختم ہوگی یا وہ ان دو ماہ میں تنازعات کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

Back to top button