چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار سیٹھ کرونا کے باعث انتقال کرگئے

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا وائرس کا شکار ہو کر انتقال کر گئے۔
چیف جسٹس کے پروٹوکول افسر نے وقار احمد سیٹھ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب تھی اور وہ اسلام آباد کے کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ترجمان پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا کے مرض میں مبتلا تھے۔وزیر اعظم عمران خان نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعاگو ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی مرحوم کے درجات کی بلندی کےلیے دعا کی ہے۔پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار نے کل ملک بھر میں یوم سوگ کا اعلان کیا ہے اور اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ جسٹس وقار سیٹھ کے انتقال سے ملک بہترین منصف سے محروم ہوگیا۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ کی نمازجنازہ کل دوپہرڈھائی بجےکرنل شیرخان اسٹیڈیم پشاورمیں اداکی جائے گی۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ 16 مارچ 1961 کو ڈی آئی خان میں پیدا ہوئے، 1977 میں کینٹ پبلک اسکول پشاور سے میٹرک کیا اور 1981 میں اسلامیہ کالج پشاور سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔1985 میں خیبر لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 1986ء میں پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔انہوں نے 1985ء میں لوئر کورٹس سے اپنی وکالت کا آغاز کیا، 28 جون 2018 کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا عہدہ سنبھالا۔
یاد رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ خصوصی عدالت کے اس 3 رکنی بینچ کے سربراہ تھے جس نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔
بعد ازاں 20 دسمبر کو کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ جسٹس نذر اکبر نے انہیں بری کردیا تھا۔تاہم اس تفصیلی فیصلے میں جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کی اس رائے سے اختلاف کیا تھا جس میں انہوں نے پیرا گراف 66 میں یہ لکھا تھا کہ ’اگر پرویز مشرف سزا سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے’۔اس پیرا پر جسٹس شاہد نے اختلاف کیا اور کہا تھا کہ یہ بنیادی قانون کے خلاف ہے اور مجرم کے لیے موت کی سزا کافی ہے۔
علاوہ ازیں تفصیلی فیصلے کے بعد پاک فوج کے اس وقت کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک مختصر پریس کانفرنس بھی کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے نے ہمارے خدشات کو درست ثابت کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button