چین اور امریکہ میں سے پاکستان کس کے ساتھ جائے گا؟


سینئر صحافی اور اینکر پرسن نسیم زہرہ نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو خارجہ محاذ پر ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا چونکہ اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں حتمی طور پر امریکہ کے ساتھ چلے گا یا چین کے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ پاکستان کو آنے والے دنوں میں یقینا ایک مشکل وقت کا سامنا  ہوگا۔ امریکہ اور چین دونوں کی توقعات پاکستان سے ہیں اور پاکستان کا یہ کہنا کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں ہوگا شاید کافی نہ ہو۔ پاکستان کا موقف یے کہ وہ چین اور امریکہ تعلقات میں ایک توازن برقرار رکھے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا ممکن ہو گا؟ بظاہر ایسا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ بین الاقوامی تعلقات میں آپ آپ ڈپلومیٹک ہوکر سب کو خوش نہیں رکھ سکتے۔
نسیم زہرہ کا کہنا ہے امریکہ اور چین کے معاملے میں تو صورتحال اور بھی نازک ہے چونکہ دونوں ایک دوسرے کے سخت خلاف ہو چکے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ چین کے ساتھ اربوں ڈالرز کا سی پیک معاہدہ کرنے والا پاکستان امریکہ کے ساتھ جا کر کیا فائدہ حاصل کر پائے گا۔ یہ سب وہ معاملات ہیں جن پر پاکستان کو  اپنے اندر کے حالات اور اس سرد جنگ دوم کے حوالے سے بہت سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی بنانا ہوگی۔ نسیم کے بقول امریکہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی میں آنے والے دنوں میں چینی سفارت کاری کا طریقہ کار شاید دنیا کو بدلتا ہوا نظر آئے گا۔ 10 دسمبر کو امریکی سینیٹرز کا ایک چار رکنی وفد پاکستان کے 18 گھنٹے کے مختصر دورے پر آیا۔ اس وفد کا تعلق امریکہ کی آرمڈ سروسز اور انٹیلی جنس  کی سینیٹ کمیٹی سے تھا۔ وہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مل کر واپس روانہ ہوگئے۔ اس ملاقات بارے وزیراعظم ہاؤس سے جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں پاک امریکہ تعلقات بشمول اقتصادی، سکیورٹی، سفارتی، دہشت گردی اور خطے کے حالات خاص طور پر کشمیر اور افغانستان پر بات چیت کا ذکر کیا گیا۔ وزیراعظم  نے جہاں باہمی تعلقات کو اور زیادہ پر اعتماد بنانے کی اہمیت پر زور دیا وہیں انہوں نے امریکہ کو خطے میں امن اور استحکام بڑھانے کے لیے کردار ادا کرنے کا بھی کہا۔
آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا کہ فوجی سربراہ نے امریکی سینیٹرز کو بتایا کہ پاکستان تمام علاقائی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا خواہاں ہے۔ نسیم زہرہ کے مطابق ان دونوں اعلامیوں سے یہ تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان نے امریکی سینیٹرز کو ان کی اہمیت اور خطے میں ان کے کردار کے حوالے سے ایک طریقہ سے تسلی دی کہ پاکستان امریکہ کی اہمیت کو ایک مثبت عنصر سمجھتا ہے، نہ کہ وہ اس کے خلاف ہے اور نہ ہی وہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ یہ باتیں کرنا ضروری تھیں کیونکہ اب 70 سالوں بعد سب سے بڑا سوال جو واشنگٹن سے لے کر اسلام آباد تک گونج رہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کس کے ساتھ ہے؟ اور اسلام آباد کس بلاک میں جائے گا، امریکہ کا ساتھ دے گا یا چین کے ساتھ جائے گا؟
پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سوال ہے لیکن آج کے بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے اس سوال کا اٹھنا شاید ناگزیر ہے۔ دنیا آج دوسری سرد جنگ کی شروعات کی زد میں آ چکی ہے۔ امریکہ اپنے مغربی اور غیر مغربی اتحادیوں کے ساتھ سرد جنگ دوم کا بگل بجا چکا ہے۔پچھلے جی سیون سمٹ میں تمام ممالک نے چین کو دشمن اور دنیا کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ اس خطرے کا سامنا کرنے کے لیے جی سیون ممالک اور خاص طور پر امریکہ نے دنیا کے پسماندہ ممالک کے لیے ایک ترقیاتی پروگرام بھی تشکیل دیا۔ یہ بظاہر مثبت قدم تھا لیکن اب یہ معاملہ کشیدگی اختیار کر گیا ہے۔ چاہے بحر جنوبی چین ہو، چاہے تائیوان شاید ٹیکنالوجی پہ جنگ اور یا گوادر سی پیک پر پاکستان سے شکایات، امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ چین پر ہر قسم کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
نسیم زہرہ بتاتی ہیں کہ حال ہی میں پہلے امریکہ نے بیجنگ اولمپکس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ کچھ دنوں بعد امریکہ کے اتحادی آسٹریلیا نے بھی، جو کہ امریکہ کے بنائے ہوئے ایک فوجی اتحاد کواڈ کا بھی اہم رکن ہے، بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ چین ایک جمہوری ملک نہیں ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتا ہے۔ چند دن پہلے امریکہ نے چین پر ایک اور سفارتی وار کیا۔ امریکی صدر بائیڈن نے 110 ممالک کو جمہوریت کے ورچوئل اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ مدعو ممالک کی فہرست پر سوالات اٹھے۔ سب سے ظالم وار امریکہ نے اس اجلاس کے ذریعہ چین پر کیا۔ چین کو تو بہرحال بلانا نہیں تھا لیکن اس کی جگہ تائیوان، جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے، اسے مدعو کر لیا گیا یوں اس نے چین کی ‘ون چائنا’ پالیسی کی بھی نفی کر دی جسے کہ وہ ماضی میں تسلیم کر چکا ہے۔ امریکہ نے تائیوان کو دعوت دے کر چین کے ساتھ ایک نیا سیاسی اور سفارتی فرنٹ کھولنا چاہا ہے۔
امریکہ اپنے اس عمل سے جو چین سے ردعمل چاہتا تھا وہ اس کو ملا۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں چین نے اپنے دوست ممالک سے بات چیت کی اور اس اجلاس کو دنیا میں کشیدگی بڑھانے کا منصوبہ قرار دیا چنانچہ پاکستان نے اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ اس سربراہی کانفرنس کے میزبان وہ امریکی صدر تھے جو کہ پاکستانی وزیراعظم کو ایک فون کال کرنے کے بھی روادار نہیں چنانچہ، ایسی کانفرنس میں پاکستان کا نہ جانا کوئی حیران کن بات نہیں۔ لیکن امریکہ نے پاکستان کے اس فیصلے کو چین کے ساتھ کھڑے ہونے سے تعبیر کیا ہے۔ لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن ردعمل میں اسلام اباد کا بازو مذید مروڑنے کی کوشش کرتا ہے یا تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتا یے؟

Back to top button