28 اکتوبر کوچین میں، امریکہ طالبان امن مذاکرات

افغان طالبان کے قطر آفس کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ بین الافغان امن مذاکرات کا نیا دور 28 اور 29 اکتوبر کو بیجنگ میں ہو گا۔ ترجمان افغان طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملا برادر کی سربراہی میں طالبان وفد کی افغانستان کے لیے چینی نمائندہ خصوصی اور قطر میں چینی سفیر ڈنگ ژان سے ملاقات ہوئی جس میں اگلے ہفتے بیجنگ میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات اور امن عمل پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق افغان نائب صدر سرور دانش کی سربراہی میں 25 رکنی افغان وفد کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ دوحا مذاکرات کے بعد سے یہ طالبان اور افغان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات ہو گی۔ ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ 25 اکتوبر کو ماسکو میں پاکستان، روس، امریکا اور چین کے درمیان افغان امن عمل کے سلسلے میں اہم میٹنگ ہو گی، ماسکو میں ہونے والی میٹنگ میں پاکستان کا کردار کلیدی ہو گا۔
ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان وفد ملا برادر کی سربراہی میں چین کی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ سہیل شاہین نے کہا کہ اجلاس میں تمام شرکاء انفرادی حیثیت میں شریک ہوں گے اور افغان مسئلے کےحل کے لیے ذاتی رائے دیں گے، بیجنگ ملاقات ماسکو اور قطر کانفرنس کا تسلسل ہے۔ افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات ختم ہوجانے کے بعدچین افغان حریف دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا انتظام کررہا ہے۔ افغانستان کا پڑوسی ملک چین افغان مفاہمتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سے قبل بھ طالبان وفد نے بیجنگ کا دورہ کر کے چینی حکام سے ملاقات کی تھی۔ طالبان ترجمان سہیل شاہی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’چین نے بین الافغان مذاکرات میں شرکت کے لیے طالبان وفد کو مدعو کیا ہے‘۔ مذکورہ بین الافغان مذاکرات کا مقصد افغانستان میں متحارب گروہوں کے درمیان مفاہمت کروانا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ انہوں نے سینئر طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی تاہم آخری لمحات میں انہوں نے طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت پر یہ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔ امریکا کو امید تھی کہ طالبان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ جنگ بندی کے ساتھ افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین حکومت کے سلسلے میں مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔ تاہم طالبان نے افغان حکومت کو امریکا کی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے انکار کردیا تھا البتہ افغان حکام نے بحیثیت شہری بین الافغان مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ان شرائط پر ہوں گے کہ ’تمام شرکا ذاتی حیثیت میں شریک ہوں اور افغان مسئلے کے حل کے لیے اپنی ذاتی آرا فراہم کریں۔
تاہم انہوں نے مذاکرات کی کوئی تاریخ نہیں دی اور نہ ہی کابل میں موجود چینی سفارتخانے کے حکام نے اس پر کوئی بات کی۔ دوسری جانب افغان وزیر خارجہ ادریس زمان نے کہا کہ ’افغان حکومت بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ چین مذاکرات کی میزبانی کرنا چاہتا ہے لیکن اس وقت اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوسکتی‘۔ ادھر فروری میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات میں شریک سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان نے کہا کہ حامد کرزئی بھی چین کے ارادے سے آگاہ ہیں اور اگر مدعو کیا گیا تو وہ شرکت بھی کریں گے۔ یاد رہے کہ افغان حکومتی عہدیداروں سمیت 60 اراکین پر مشتمل وفد نے جولائی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کی تھی۔
