چین کا مسئلہ کشمیرپراقوام متحدہ میں بھارت کودوٹوک جواب

چین نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیرایک متنازع علاقہ ہے اوراس مسئلے کے حل کے لیے بھارت کواقوام متحدہ کےچارٹرپرعمل درآمد اورسلامتی کونسل کےارکان کی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔ مزید کہا کہ ہم مسئلہ کشمیرکا سلامتی کونسل قراردادوں کےتحت پرامن حل چاہتے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ کےدوران چین کی وزارت خارجہ کےترجمان گینگ شوانگ نے بتایا کہ دوروزقبل مسئلہ کشمیرکےحوالے سے ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین نے کونسل کوکشمیرکی موجودہ صورت حال پرخصوصی توجہ دینےاوربھارت سے اقوام متحدہ کے چارٹرپرعمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزرات خارجہ کے ترجمان گینگ شیوانگ نے کہا کہ چین نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر پاکستان اوربھارت کےدرمیان طویل عرصے سے تنازع بننےوالےمسئلہ کشمیرکے حل اورتناؤکے خاتمے کے لیے کردارادا کرنے پربھی زوردیا اورکشمیرکی موجودہ صورت حال پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی کہ چین کشمیر کے مسئلے پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنا تعمیری کردارادا کرتا رہے گا۔ بھارت کو سلامتی کونسل کے ارکان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پراپنے اقدامات پرغورکرنے کی ضرورت ہے۔
وزرات خارجہ کےترجمان نےچین کےاصولی موقف کودہراتےہوئےکہا کہ کشمیرپرچین کی پوزیشن ہمیشہ سے واضح رہی ہے،اس مسئلے کواقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حل کیاجانا چاہیے۔ جس پرسلامتی کونسل نے15 جنوری کےاجلاس میں بھی مفصل جائزہ لیا،اورچین سمیت سلامتی کونسل کےارکان ممالک نے بھی مقبوضہ کشمیرپرکھل کرگفتگو کی اورموجودہ صورتحال پرتشویش کا اظہارکیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button