چین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے بدلے لاشیں لے جانا قبول نہیں


چینی حکام نے پاکستان پر واضح کیا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ ان کے ملک میں سرمایہ لے کر آئیں اور بدلے میں انہیں اپنے لوگوں کی لاشیں واپس لے جانا پڑیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تسلیم کیا ہے کہ داسو میں چینی انجینئرز پر خودکش حملے میں ہونے والی اموات کے بعد پاکستان کی جانب سے جلد بازی میں اسے ایک حادثہ قرار دینے پر چین ہم سے ناراض ہے۔
یاد رہے کہ کوہستان کے علاقے داسو میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی بس پر حملے میں 9 انجینئیرز کی ہلاکت کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسے ایک حادثہ قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کہ بس کو ایک خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا اور حملہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان کی مشترکہ کاروائی تھا۔ چنانچہ چین نے پاکستان سے ناراض ہو کر داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سمیت گوادر میں سی پیک کے کئی منصوبوں پر بھی تعمیراتی کام روک دیا تھا۔ اب اردو نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو میں شیخ رشید نے کہا ہے کہ چین کو اعتماد میں لینا بڑا ضروری ہے کیونکہ وہ بڑے حساس لوگ ہیں وہ کہتے ہیں ہم یہاں سرمایہ بھی لائیں اور لاشیں بھی لے کر جائیں یہ ذرا ان کے لیے تکلیف دہ بات ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم نے اس معاملے پر بہت جلدی بیان دے دیا۔ جس نے بھی بیان جاری کیا، غلط کیا۔ انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وزرات داخلہ تو آپ کو پتا ہے بیان جاری کرنے سے پہلے اداروں کو بھی اعتماد میں لیتی ہے۔ لیکن اس معاملے میں وزرات خارجہ سے تھوڑی جلدی ہو گئی اس لیے چین ہم سے ناراض ہے لیکن ذیادہ نہیں، صرف خفا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کی 14 تاریخ کو ضلع کوہستان میں داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی ورکرز پر حملے میں نو چینی انجینئیرز سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس دن واقعے کے بعد وزارت خارجہ نے پریس ریلیز جاری کی تھی جس میں شاہ محمود کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’آج صبح چینی ورکز کو لے کر جانے والی بس تکنیکی خرابی کے باعث گہری کھائی میں جا گری اور اس کے بعد گیس لیکج کے باعث بس میں دھاکہ بھی ہوا۔ اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘
ایک انٹرویو میں شیخ رشید نے چینی سفیر نونگ رونگ سے اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ چینی اب خوش ہیں کہ ہم داسو حملے میں ملوث سارے ملزموں تک پہنچ گئے ہیں۔ اب چین نے ہمیں کہا کہ ہے کہ ملزموں کو تاریخی سزا ملنی چاہیے اور ان کو بچنا نہیں چاہیے۔
شیخ رشید نے بتایا کہ اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ چین کی سی پیک کے علاوہ پاکستان میں موجود تمام کمپنیوں کو فوج کی حفاظت میں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی 40 کمپنیاں جو سی پیک سے متعلق ہیں وہ تو پہلے ہی فوج کی سیکورٹی میں کام۔کر رہی تھیں ۔ تاہم 131 کمپنیاں سی پیک میں نہیں آتیں ان کا بھی فیصلہ ہو گیا ہے کہ ان کو فوج کی حفاظت میں دیا جائے۔’چینی ورکروں کی سیکیورٹی اب پہلی ترجیح ہے۔ وہ فوج کی سیکیورٹی میں زیادہ بہتر اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘
دوسری جانب حکومتی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ایک ماہ کے تعطل کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے شمالی پہاڑی علاقے ضلع کوہستان میں چین کے تعاون سے بننے والے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ کام گزشتہ ماہ چینی انجینئرز کے قافلے پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے کے بعد روک دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ چینی باشندوں کے سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کے بعد پاکستانی اور چینی حکام نے اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 14 جولائی 2021 کے واقعے کے بعد اپر کوہستان کے طول وعرض میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ایک بریگیڈ فوج کے دستے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں جب کہ داسو شہر میں ڈیم کی طرف آنے جانے والی گاڑیوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور سول انتظامی عہدیداروں نے علاقے بھر میں آگاہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے جس میں لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مشتبہ افراد پر نظر رکھیں اور ان کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں۔

Back to top button