ڈالر کے انٹربینک ریٹ 233 روپے سے بھی نیچے آگئے

پاکستانی روپے کی قدر میں اضافے اور امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، اور تیسرے دن بھی ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔
بدھ کو ڈالر کے انٹربینک ریٹ 233 روپے سے بھی نیچے آگئے جبکہ اوپن ریٹ بھی گھٹ کر233روپے کی سطح پر آگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر ایک موقع پر گھٹ کر 231.79روپے کی سطح پر آگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں درآمدی ضروریات کے لیے ڈیمانڈ آنے سے ڈالر کی قدر 1.78روپے کی کمی سے 232.12روپے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1روپے کی کمی سے 233روپے کی سطح پر بند ہوئی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گھٹ کر77ڈالر فی بیرل پر آنے سے ملکی معیشت پر درآمدی ادائیگیوں کا بوجھ نہ بڑھنے، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1.5ارب ڈالر کے سیلاب فنڈ کی منظوری کےعلاوہ عالمی ڈونرز کی پاکستان کو سیلاب ریلیف فنڈ کی مدد سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کی وزیر خزانہ کی حیثیت سے انٹری نے معیشت کے رخ کو تبدیل کر دیا ہے اور ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں کے پلیئرز ممکنہ سخت اقدامات کے خوف سے ڈالر کی سمت درست کرنا شروع کر دی ہے جبکہ مارکیٹ سینٹیمنٹ بھی تبدیل ہونے مثبت توقعات وابستہ ہوگئے ہیں۔
اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے حلف برداری کے بعد یہ واضح کیا ہے کہ روپیہ کو اسکی اصل قدر پر بحالی کی گنجائش موجود ہے۔
باخر ذرائع نے بتایا کہ روپیہ کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ بینکوں کی مانیٹرنگ مزید سخت کی جاسکتی ہے جو ڈالر کو مزید تنزلی سے دوچار کرسکتی ہے۔
