ڈرامہ ارطغرل کا ہیرو پاکستان پہنچ کر کیسے ہوگیا زیرو؟


پی ٹی وی پر نشر ہونے والے ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غاری کی مقبولیت وقت کے ساتھ اب اتنی کم ہو گئی ہے کہ ذیادہ تر پاکستانی ارطغرل کا مرکزی کردار ادا کرنے والے ترک اداکار اینگن التن کی پاکستان آمد سے بھی بے خبر ہیں۔
11 دسمبر کو ارطغرل کے مرکزی کردار اینگن التن لاہور آئے جہاں انہوں نے بادشاہی مسجد کا دورہ کیا، علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، اور ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ تاہم پاکستانی عوام میں میں ان کو ملنے کے حوالے سے کوئی جوش و خروش نظر نہیں آیا۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے پاکستانی ڈراموں میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جب کہ پاکستان کے قدرتی حسن اور کھانوں کی تعریف بھی کی۔ اُن کے اس دورے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ آخر پاکستان آئے کب؟ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ہونے والی گفتگو اور میمز کا تبادلہ سارا دن جاری رہا اور بحث کا کا محور یہ بات رہی کہ آخر اس دفعہ انہیں کوئی یہاں پوچھنے والا کیوں نہیں؟
مگر بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنہیں اُن کے اس دورے سے قبل یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اینگن التن پاکستان آ رہے ہیں۔ ایک صارف نے تو یہ تک سوال کر ڈالا کہ کیا ارطغرل پاکستان آئے تھے؟ ایک صارف فائقہ بنگش نے شکوہ کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں عوام کےلیے آنا چاہیے تھا نہ کہ چند مخصوص لوگوں کے لیے۔ ایک خاتون ہنی خان نے کمنٹ کیا ’اگر یہ ملے تو تھوڑا سا ڈی جی خان بھی بھجوا دینا۔‘ لیکن وہیں بیشتر خواتین ایسی بھی تھی جو پوچھ رہی تھیں کہ یہ صاحب ہیں کون؟؟
جہاں ابھی تک اس ڈرامے کو نہ دیکھنے والی کچھ خواتین نے اس سوال پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس شخص کو نہ پہچاننے والی وہ تنہا نہیں وہیں کئی خواتین کےلیے یہ سوال کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔
خیال رہے کہ رواں برس اگست میں انگین التان دوزیتان کی پاکستان آمد کی افواہیں زیر گردش تھیں کہ وہ 3 بیمار بچوں کی خواہش پوری کرنے کےلیے ان سے ملاقات کریں گے۔ تاہم وہ پاکستان نہیں آئے تھے بلکہ ایک خصوصی تقریب کے دوران 3 بیمار بچوں سے آن لائن ملاقات کی تھی۔ بعدازاں وہ ستمبر میں اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے برانڈ ایمبیسڈر بن گئے تھے اور ایک ویڈیو میں انگین التان دوزیتان نے کہا تھا کہ ‘میں بلیو ورلڈ سٹی کا برانڈ ایمبیسڈر بننے پر بہت پرجوش ہوں اور جلد پاکستان آؤں گا’۔تاہم انہوں نے بلیو ورلڈ سٹی کو غیر قانونی قرار دیے جانے کی وجہ سے اپنا معاہدہ منسوخ کردیا تھا جس کی وجہ سے ان کا اس وقت متوقع دورہ پاکستان بھی ملتوی ہوگیا تھا۔
اپنی لاہور کی پریس کانفرنس کے دوران ارطغرل کے ہیرو نے ایک اردو بولتے ہوئے کہا کہ لاہور واقعی لاہور وے۔ اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں لاہور اور کراچی کے درمیان کھانوں سے لے کر اپنی ثقافت اور اپنے شہروں کے سائز تک پر ایک دوسرے کو طعنوں کا نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں۔ لہذا ایک صارف شاہزیب انور نے اینگن التن کے اس فقرے کا حوالے دیتے ہوئے ‘کراچی والوں’ کو مخاطب کیا اور کہا، ‘ہاں تو کراچی والو، کیسے ہو اب؟ اب تو ارطغرل نے بھی لاہور کی تعریف کر دی۔’
اس پر صارف وسیم خان نے شاہزیب کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ارطغرل ہمیشہ مظلوم کے ساتھ ہوتا ہے۔
اینگن التن سے لاہور کی پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں کام کریں گے تو اس پر انہوں نے کہا کہ اگر کہانی اچھی ہو تو وہ ضرور کام کریں گے۔ اُن کے اس بیان پر چند ناقدین نے پاکستانی ڈرامہ صنعت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف فیضان نے لکھا کہ ’پاکستانی ڈراموں میں ارطغرل ایک بہنوئی ہوں گے، اور ان کی سالی کو ان سے محبت ہو جائے گی، پھر طلاق کے بعد وہ اپنی سالی سے شادی کر لیں گے اور اگلا ڈرامہ اس سے بھی بیکار ہوگا۔ ‘
واضح رہے کہ پاکستان کے ٹی وی ڈراموں میں خاندانی سیاست، رشتوں کے تنازعات اور گھریلو معاملات کو ہی زیادہ تر موضوع بنایا جاتا ہے۔
ترک ڈرامے ‘ارطغرل غازی’ کو پی ٹی وی پر 24 اپریل سے نشر کیا جا رہا ہے اور اب اس کا دوسرا سیزن بھی شروع ہے۔ ڈرامے نے نشر ہوتے ہی پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنائے تھے اور اسے یوٹیوب پر محض 20 دن میں 21 کروڑ بار دیکھا جا چکا تھا جب کہ اس کی پہلی قسط کو اب تک 7 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔ اس ڈرامے کی مقبولیت اور پاکستان میں مداحوں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ‘ارطغرل غازی’ کے تقریباً تمام مرکزی اداکار پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
اس ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی ہے جو ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے، جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ ارطغرل غازی میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button