ڈپٹی چیئرمین نیب نے کرپشن الزامات پر استعفیٰ دیا؟

https://youtu.be/t1V6TU117Mo
معلوم ہوا ہے کہ دوسروں کا احتساب کرنے والے نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر نے خود اپنے خلاف کرپشن کے الزامات پر انکوائری سے بچنے کے لیے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ صدر عارف علوی کو بھیجے گئے استعفے میں حسین اصغر نے مستعفی ہونے کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا. تاہم نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل نیب لاہور نے حسین اصغر کے خلاف کرپشن الزامات کی شکایت موصول ہونے کے بعد چئیر مین نیب سے تحقیقات کرنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے آنے والے دباؤ کے باعث یہ انکوائری شروع نہیں کی جاسکی تھی کیونکہ انہیں وزیراعظم ہاؤس کی آشیرباد حاصل تھی۔
نیب لاہور نے حسین اصغر کے خلاف شکایت پر چیئرمین جسٹس جاوید اقبال سے کارروائی کے پہلے مرحلے یعنی شکایت کے تصدیقی عمل کو شروع کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ محکمہ پولیس کے ریٹائرڈ افسر حسین اصغر کیخلاف یہ شکایت اس زمانے کی ہے جب وہ کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری تعینات تھے۔ شکایت گزار نے 2016-17ء کی آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حسین اصغر نے پنجاب کانسٹیبلری میں غیر قانونی بھرتیاں کیں اور سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کیا۔ شکایت میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ حسین نے جعلی بھرتیوں کے لیٹر جاری کیے اور بھرتی کردہ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں بھی بھاری رقوم نکلوائیں۔ چیئرمین نیب کو بھیجی گئی شکایت میں آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ قومی خزانے کو موصوف کی وجہ سے 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
تاہم دوسری جانب حسین اصغر کے قریبی حلقوں نے ان تمام الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد ان کی ساکھ کو داغدار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال، حسین اصغر کو اپنا حریف تصور کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ ان کی جگہ لینے والے ہیں لہذا انہیں گیم سے آؤٹ کرنے کے لئے یہ گندا کھیل کھیلا گیا اور انکے خلاف ایک بے بنیاد درخواست دائر کروائی گئی۔ دوسری جانب نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حسین اصغر کے ہاتھ صاف تھے تو انہیں انکوائری کا سامنا کرنا چاہیے تھا، بجائے کہ اسے رکوانے کے لیے دباو ڈلواتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حسین اصغر کے استعفے کا مقصد خود پر عائد کرپشن الزامات کی انکوائری سے بچنا بھی ہے۔
یاد رہے کہ جب ماضی میں سابق ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کا الزام عائد کیا گیا تھا تو انہوں نے بھی استعفیٰ دیدیا تھا۔ مارچ 2017ء میں نیب کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین نیب کیخلاف کیس درج ہونے کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح پر زیر غور آیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ عہدے کا تقدس برقرار رکھنے کیلئے ڈپٹی چیئرمین فوری طور پر رضاکارانہ بنیادوں پر رخصت پر چلے جائیں اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے پوزیشن کلیئر کریں۔ یاد رہے کہ سابق ڈپٹی چیئرمین تاجور کے خلاف ایف آئی اے نے کرپشن کا کیس درج کیا تھا۔ 2017ء میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ جب امتیاز تاجور کے پاس نادرا کا ایڈیشنل چارج تھا تب انہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کرپشن کی اسلئے ان کے خلاف پریونشن آف کرپشن ایکٹ کے سیکشن 5(2)47 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

Back to top button