ڈی جی ISI کو تمام خفیہ ایجنسیوں کی کمان کیوں دی گئی ہے؟


خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر حکومت چلانے والے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں موجود لگ بھگ دو درجن سے زائد خفیہ ایجنسیوں کو ڈی جی آئی ایس آئی کی کمان میں دے دیا گیا ہے جو اب آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی زیر نگرانی کام کریں گی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم کی ذاتی خواہش پر کیا گیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تمام ایجنسیوں کو آئی ایس آئی کے طابع کر دینے سے انٹیلی جینس گیدرنگ کے دوران باہمی ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔

دوسری طرف اپوزیشن نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے تمام امور پارلیمنٹ میں پیش کرنے چاہیں اور متفقہ فیصلہ کیا جانا چاہیے تھا کیوں کہ آئی ایس آئی کا بنیادی کام بیرونی دشمنوں کی جانب سے ملک کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو کنٹرول کرنا ہے جبکہ دیگر ایجنسیوں کا کام اس سے بالکل مختلف ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی مربوط بنانے کے لیے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈنیشن کمیٹی این آئی سی سی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کے سربراہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کی یہ کمیٹی بنانے کی تجویز بھی آئی ایس آئی کے موجودہ ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے دی تھی جسے وزیراعظم نے فوری طور پر منظور کر لیا۔

یاد رہے کہ قانون کے تحت آئی ایس آئی کا ڈی جی وزیر اعظم کو براہ راست رپورٹ کرتا ہے اور ان کے آنکھوں اور کانوں کا کردار ادا کرتا ہے۔ ویسے بھی وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کانوں کے کچے ہیں اور بیشتر فیصلے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ وزیراعظم بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ آئی ایس آئی جانتی ہے کہ میں کرپٹ نہیں ہوں اور اپوزیشن کی قیادت کرپٹ ہے۔ وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں اور اراکین پارلیمنٹ کو بھی یہ شکایت ہے کہ خفیہ ایجنسیز ان کی جاسوسی کرتی ہیں اور انکی سرگرمیوں کے حوالے سے وزیر اعظم کو رپورٹ دیتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی کے موجودہ ڈی جی کا وزیراعظم کے ساتھ آئیڈیل ریلیشن شپ ہے اور لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید آرمی چیف سے زیادہ وزیر اعظم کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ لہذا اب ملک کی تمام خفیہ ایجنسیوں کو ایک کمیٹی بنا کر ڈی جی آئی ایس آئی کی کمان میں دے دیا گیا ہے۔

حکومت ذرائع کا موقف ہے کہ اس کمیٹی کا مقصد خفیہ اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور ان کے باہمی تعاون کو مزید مربوط کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام خفیہ ایجنسیوں کے مابین ابتدائی اجلاس ہو چکے ہیں جن میں اتفاق رائے کے بعد یہ تجویز وزیر اعظم کے سامنے رکھی گئی۔ وزیر اعظم نے مشترکہ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی جس کے بعد اس کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں لگ بھگ دو درجن خفیہ ایجنسیاں کام کرتی ہیں جن کے مابین ہم آہنگی اور شراکت داری نہ ہونے پر اکثر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی یا این آئی سی سی ملک میں انٹیلی جنس اداروں کو مربوط کرنے کے طریقۂ کار پر کام کرے گی جب کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی بھی اس نئے ڈھانچے کا حصہ ہو گی۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق پاکستان کو درپیش موجودہ دور کے خطرات کے تدارک کے لیے یہ ایک لازمی اقدام تھا جس سے ملک کے داخلی اور سرحدی دفاع میں مدد ملے گی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایبٹ آباد کمشن نے اپنی رپورٹ میں سول اور عسکری خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کے طریقہ کار کی عدم موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے امریکی محکمۂ داخلی سیکیورٹی کی طرز پر ایک ادارے کے قیام کی تجویز دی تھی۔ 2011 میں اسامہ کی پاکستان میں ھلاکت کے بعد تیار ہونے والی ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پبلک نہیں کی گئی۔ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے تاحال یہ رپورٹ عام نہ کرنے پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔

تاہم ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیز کو ڈی جی آئی ایس آئی کی کمان میں دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ہوئے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی چیف کے ماتحت تمام خفیہ اداروں کی کمیٹی کا قیام خطرناک اور غلط اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کو قانون کے تابع بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک ایسے ادارے کو مزید طاقتور بنانے کی جس پر پاکستانی سیاست میں مداخلت کرنے کا الزام ہے۔
فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مداخلت کرنا ہو گی۔ یاد رہے کے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کیا گیا تھا تاہم آئی ایس آئی کے سخت ردِ عمل کے بعد اس اعلامیے کو واپس لے لیا گیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کے ناقدین کا خیال ہے کہ ملک کی تمام ایجنسیوں پر مبنی ایک کمیٹی اگر بنا ہی لی گئی ہے تو اس کی سربراہی ڈی جی آئی ایس آئی کی بجائے وزیر اعظم کے پاس ہونی چوں کہ ملک میں پارلیمانی طرز حکومت رائج ہے۔ یوں وزیر اعظم کا جاسوسی کا شوق بھی پورا ہوتا رہے گا اور ان کی چودھراہٹ بھی قائم رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button