حکومت نے پیٹرول لیوی سے2سال میں کتنے ارب کمائے؟

وفاقی حکومت نے گزشتہ دومالی سالوں کے دوران مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2ہزار 725 ارب روپے وصول کیے گئے۔

اعداد و شمار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں پیش کی گئی سرکاری بریفنگ میں سامنے آئے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آرراشد لنگڑیال نے بجلی کے شعبے میں ٹیکس وصولیوں، رعایتوں اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم لیوی ایک نان ٹیکس ریونیو ہے، جو مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس رہتا ہے۔ اس کے برعکس ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو کا 57.5 فیصد حصہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پیٹرول پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر تقریباً 70.82 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے اپریل 2024 سے مارچ 2026 تک کے دو سالہ عرصے میں مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2.725 ٹریلین روپے وصول کیے۔

مالی سال 26-2025 کے لیے حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1 ہزار 468 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم اصل وصولی 1 ہزار 564 ارب روپے رہی، جو ہدف سے 96 ارب روپے زیادہ ہے۔ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں حکومت ایک ہزار 205 ارب روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کرچکی تھی، جبکہ مالی سال 25-2024 کے پورے بارہ ماہ میں یہ وصولی 1,220.21 ارب روپے رہی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے ایک طرف گزشتہ چار برسوں میں بجلی کے بلوں کے ذریعے 1 ہزار 866 ارب روپے کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس وصول کیے، جبکہ دوسری جانب صرف دو برسوں میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2 ہزار 725 ارب روپے جمع کیے۔

ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد محصولات وفاقی حکومت کی آمدنی کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہیں، جبکہ مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی لاگت کے باعث ان ٹیکسوں اور لیویز کا براہِ راست اثر عام صارفین اور کاروباری طبقے پر پڑرہا ہے۔

Back to top button