کابل کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا، امام سمیت 4 افراد شہید

افغانستان کے ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ مغربی کابل کی ایک مسجد کے اندر جمعے کی نماز کے دوران بم دھماکے سے امام سمیت سمیت کم از کم 4 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے بتایا کہ بم مسجد کے اندر رکھا گیا تھا تاہم ان کے پاس کوئی مزید کوئی تفصیلات نہیں تھیں۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمیوں کی ایمبولینسوں کے ذریعے قریبی اسپتالوں میں منتقلی میں مدد کی۔ دھماکے کی اب تک کسی نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم رواں ماہ کے آغاز میں ایک مسجد پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔
دھماکے میں شہید ہونے والے مسجد کے امام موفلہ فروتن شہر کے معروف مذہبی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ افغانستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ہے رواں ماہ کے آغاز میں داعش نے کابل کے گرین زون کی مشہور مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں امام اور نمازی جاں بحق ہو گئے۔
امریکا نے دارالحکومت کے ایک اسپتال پر گزشتہ مہینے ہونے والے خوفناک حملے میں داعش کو قصور وار ٹھہرایا تھا حملے میں دو نوزائیدہ بچوں اور متعدد نئی ماؤں سمیت 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یہ اسپتال شہر کے شیعہ اکثریتی آبادی کے علاقے دشت برچی میں واقع تھا۔
داعش تنظیم نے ملک کے اقلیت شیعہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے تاہم اس نے سنی مسلم مساجد پر بھی حملہ کیا ہے اور آج جمعہ کو بم حملے کا نشانہ بننے والی مسجد سنی مسلمانوں کی ہے۔ داعش نے 30 مئی کو کابل میں صحافیوں کو لے جانے والی بس پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
نیز اس نے گزشتہ ماہ حکومتی فورس کے ایک اہلکار کی آخری رسومات پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں 35 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد رواں ہفتے کے آغاز میں افغانستان میں موجود تھے۔
ان کا مقصد طالبان کے ساتھ امریکی امن معاہدے کی بحالی کی کوششیں تھی جس کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے داعش کے خلاف جنگ میں اتحاد قائم ہوگا۔
فروری میں ہونے والا امن معاہدہ امریکی اور نیٹو فوجیوں کا افغانستان سے انخلا اور طالبان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عہد پر مشتمل ہے جس کے تحت طالبان افغانستان کو امریکا یا اس کے اتحادیوں پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
واشنگٹن نے پہلے کہا تھا کہ مشرقی افغانستان میں داعش کی طاقت کو کم کرنے میں افغانستان کی قومی سلامتی اور دفاعی دستوں اور امریکی فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ طالبان بھی کارآمد رہے ہیں۔
