کاروباری برادری عمران کو بچانے کے لیے متحرک

ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت، انتشار اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کیلئے ملکی تاجر برادری نے ثالث کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاجروں کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے ملکی سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق تاجر برادری کو سب سے بڑا چیلنج عمران خان کی جانب سے درپیش ہے۔ ماضی کے یوٹرنز کی وجہ سے سرکردہ تاجروں میں سے کوئی بھی عمران خان کے قول و فعل کی گارنٹی دینے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ تاجر برادری کی اکثریت کا خیال ہے امکان ہے کہ وہ کسی صورت حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف میں تصفیہ کروانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اس کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کی گارنٹی کون دے گا کہ عمران خان اپنے کہتے ماضی کی طرح نہیں مکریں گے۔ تاہم تاجر برادری معاملات کو سلجھانے کیلئے سرگرم نظر آتی ہے عقیل کریم ڈھیڈی کی عمران خان سے ملاقات اور معروف صنعتکار گوہر اعجاز کے گھر تاجروں کا اکٹھ اسی سلسلے کی کڑی ہیں تاہم تاجر اس میں وہ کہاں تک کامیاب ہوتے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

لاہور کے رائیونڈ روڈ پر معروف تاجر گوہر اعجاز کے گھر منگل کی سہ پہر خاصی گہما گہمی تھی۔ ملک کے چوٹی کے تاجر اور کاروباری حضرات کو اس خاص بیٹھک کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ شام پانچ بجے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ آنے والے معززین میں کراچی سے تعلق رکھنے والے بزنس مین عقیل کریم ڈھیڈی، میڈیا اور تعلیمی شعبے کے بزنس مین میاں عامر محمود، انڈس ہسپتال چلانے والے میاں احسان اور لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق چیئرمین الماس حیدر سمیت ایک درجن سے زائد کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ملک کے چوٹی کے کاروباری افراد کا یہ اکٹھ پاکستان کی جاری سیاسی صورت حال سے متعلق تھا۔ شرکا نے اس بات کا اظہار کیا کہ موجودہ سیاسی کشمکش ملک کو درپیش مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ اس اکٹھ میں موجود ایک کاروباری شخصیت نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہم لوگ اس لیے اکھٹے ہوئے کہ اس سے پہلے کہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ جائیں تاجر برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’اس سے پہلے کئی مواقع آئے ہیں کہ کاروباری افراد نے اپنا کردار ادا کیا۔ شرکا نے اپنے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا اور حل بھی تجویز کیے۔ جس کے بعد آخر میں تمام افراد کی آرا کے بعد ایک قرارداد منظور کی گئی۔ حالانکہ یہ کوئی ایسوسی ایشن نہیں تھی، چونکہ اخلاص موجود تھا اس لیے ہم نے اس کو قرار داد کا نام دیا۔‘کاروباری شخصیت نے مزید بتایا کہ ’قرار دار ہم نے یہ منظور کی کہ موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے ہم تمام سٹیک ہولڈرز سے بالمشافہ ملیں گے۔ اس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف، عمران خان، نواز شریف، صدر عارف علوی، چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر اور آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی جائے گی اور جس حد تک بھی ممکن ہو سکا سیاسی پارے کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ گوہر اعجاز نے اپنے گھر ہونے والی اس بیٹھک کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’امید ہے حالات بہتر ہوں گے۔

لاہور کے لیک سٹی میں کئی گھنٹے جاری رہنے والی اس میٹنگ کے بعد کراچی کی معروف کارباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی وہاں سے سیدھے زمان پارک پہنچے اور انہوں نے عمران خان سے کافی طویل ملاقات کی۔اس ملاقات کے بعد انہوں نے صحافیوں کے ایک سوال، کہ وہ عمران خان کے لیے کیا پیغام لے کر آئے تھے، کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں کوئی پیغام لے کر نہیں آیا تھا۔ ملک کے معاشی حالات کے حوالے سے ملاقات کی اور امید ہے کہ چیزیں بہتر ہوں گی۔عقیل کریم ڈھیڈی کی یہ ملاقات اس وجہ سے بھی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ عقیل کریم ڈھیڈی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی خواہش کی تھی۔ پی ٹی آئی ذرائع کا دعوی ہے کہ اس ملاقات میں وہ کسی طاقتور شخصیت کا پیغام لیکر عمران خان کے پاس آئے تھے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عقیل کریم ڈھیڈی نے عمران خان سے ملاقات میں کہا کہ جلاؤ گھیراؤ اور لڑائی جھگڑے کی فضا کو ختم کریں، ایک میز پر بیٹھیں اور ملکی معاملات میں سنجیدگی دکھائیں۔ سیاست میں دشمنی کی حد تک جانا عقل مندی نہیں ہے بات چیت سے معاملات حل کیے جائیں۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی نے عمران خان سے ملکی معیشت پر بھی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ملک میں اس وقت افرا تفری کے ماحول سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے اور مزید ہوگا، جسے کنٹرول کرنا ہوگا، بصورت دیگر نا قابل تلافی نقصان ہوگا۔ذرائع کا دعوٰی ہے کہ عمران خان بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن وہ ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ مانگ رہے ہیں۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق ملک کی تمام تاجر برداری ملک میں استحکام کی خاطر عمران خان سے ملاقات کی خواہاں ہے، مگر عمران خان کا سب کو ایک ہی پیغام ہے کہ ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ دیتے ہوئے ملک میں نئے انتخابات کا انعقاد کروایا جائے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

تو کیا یہ کاروباری شخصیات موجودہ حالات میں اپنا کوئی کردار ادا کر پائیں گی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’جن لوگوں کی بیٹھک ہوئی ہے میرا خیال ہے یہ صرف کاروباری افراد نہیں ہیں بلکہ اس ملک میں اثر رسوخ رکھنے والے لوگ ہیں۔ اور ان کے تعلقات ملک کی مقتدرہ سے بہت اچھے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب عمران خان اقتدار میں آئے تو ان کو ٹیک آف کروانے کے لیے جنرل باجوہ نے ان افراد سے ملاقاتیں کی تھیں۔ تو ان کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ اور یہ اس وقت اس لیے بھی متحرک ہوئے ہیں کہ کم از کم بات چیت کا دروازہ ایک مرتبہ پھر کھولا جائے۔

Back to top button