عمران کا انجام بھی ہٹلر جیسا دردناک ہوگا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله نیازی نے کہا ہے کہ میسولینی، ہٹلر، شیخ مجیب الرحمان اور الطاف حسین کی طرز پر عمران خان نے بھی سیاست اور تحریک انصاف کو اپنی ذات اور زندگی تک محدود اور جوڑ رکھا ہے۔ ایسے لوگ اپنی سیاست کا اپنے ہاتھ سے خاتمہ اور خدانخواستہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں . عمران خان کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا اعتراف اور صلح صفائی کیلئے راستہ ہموار کریں صدق دل سے کچھ لے دے کر اسٹیبلشمنٹ اور حکومتِ وقت سے NRO لے لیں مگر ڈر ہے کہ عمران خان نے تعاون نہیں کرنا ۔ اس وقت وہ گھر میں اکیلے رہ گئے ہیں اور ان کی تنہائی جان لیوا ثابت ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے۔
حفیظ الله نیازی لکھتے ہیں کہ عمران خان کا انجام بھیانک ہے۔ انسانی تاریخ ایسے قائدین کے اذکار اور انجام سے بھری پڑی ہے۔ عبرت ناک مناظر سامنے ہیں ، پچھلے سو سال میں میسولینی، ہٹلر، شیخ مجیب الرحمان، زندہ تابندہ الطاف حسین وغیرہ کی خصوصیات، اوصاف حمیدہ، تشدد پسند سیاست کو سب کے مشترک اجزا ہیں اور ان سب کا انجام بھی ایک جیسا رہا۔ عمران خان کی سیاست اور اُنکے انجام کو بھیانک رہنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ خود مائل ہوں اور بلا چون و چرا تعاون کریں۔ قومی بدقسمتی یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے چاہنے اور ماننے والوں کے دل و دماغ میں یہ بات رَچا بسا دی کہ ’’فوج کا خاتمہ بالخیر تحریک انصاف کے مبارک ہاتھوں سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچے گا‘‘۔ عمران خان کی تقاریر نے ان کی ذہنی تربیت کی۔ جب سیاسی تناؤ بڑھا یا نام نہاد ’’ریڈ لائنز‘‘ کراس ہوئیں تو انصافی کارکن وارفتگی کیساتھ عسکری عمارات، اور تنصیبات کی طرف دیوانہ وار لپکے ۔9 مئی کو جو کچھ ہوا اس پر حیرت ہوئی نہ ہی عمران کے اطمینان اور تالیف پر پریشانی۔ ایک سال کی تیاری کا منطقی نتیجہ یہی کچھ رہنا تھا۔
حفیظ الله نیازی لکھتے ہیں کہ وطن کی یہ بد قسمتی رہی کہ ، 70سال سے ریاست کا بناؤ اس اُصول پر ہے کہ اس کے استحکام کیلئے مضبوط فوج ضروری ہے۔70 سال کی کھینچا تانی سے یہ رہنما اُصول ایک لازمی جزو بن گیا۔ ریاست اور فوج ایک دوسرے سے جُڑ گئے۔ اس اُصول کی ڈھال میں اسٹیبلشمنٹ نے وطن عزیز کی سیاست کو ہتھیانے کی ٹھانی۔ جس کا اصل مقصد ایک ذاتِ مقدسہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا آبِ حیات تھا۔ ’’افواج پاکستان کا سیاست کو اپنا دستِ نگر بنانا، مملکت کو کمزور رکھنے کا آزمودہ فارمولا بنا‘‘۔ ماضی کا اجمالی جائزہ لیں تو ذہن سُن ہو جاتا کہ خواجہ ناظم الدین کی بر خاستگی کے بعد سے وزیراعظم شہباز شریف کی تخت نشینی تک، ایک وزیراعظم کا استثنیٰ نہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر مسند اقتدار پر بیٹھا ہو یا پھر اُس کو اقتدار سے علیحدہ نہ کیا ہو۔ رہنما اُصول یہی رہا کہ ریاست کا استحکام کسی ایک ادارے کا مرہون منت رہے۔ عسکری ادارے کامسئلہیہی ہے کہ کمانڈر مطلق العنان اور سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ بے پناہ طاقت کا بوجھ اُٹھانے کی استعداد ہر چیف کے پاس ہو ۔ دُنیا کی چوتھی بڑی فوج اور اُسکی سربراہی کرتے ہوۓ ضروری نہیں کہ آرمی چیف اپنے آپ کو اور فوج کو اچھی طرح چلا پائے۔ بے پناہ طاقت کا نشہ ہی ہوتا ہے کہ سربراہ کمانڈ سنبھالتے ہی خود کو ادارے کے لئے لازمی سمجھ لیتا ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ جنرل ایوب خان سے جنرل باجوہ تک ایک آدھ کو چھوڑ کر جس نے بھی فوج کی کمان سنبھالی اس نے فوراً ٹھان لی کہ آخری سانس تک منصب سے جُڑے رہنا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ منصب غیر معمولی طاقت سے متعارف کراتا ہے، مطلق العنانی کے سارے لوازمات رکھتا ہے۔ مگر محدود طاقت اور محدود ذہنی استعداد… لا محالہ ادارے کیلئے بھی پُر خطر ثابت ہوتی ہے۔ آج جب افواج پاکستان پر تحریک انصاف کی قیادت اور پاکستان دشمن حملہ آور ہوئے تو مملکت تتر بتر ہوتے نظر آئی۔ عمران خان کی سیاست کی بیخ کنی کیلئے راکٹ سائنس نہیں چاہئے۔ معمولی سوجھ بوجھ اور سیاسی حکمت عملی کام دکھا جائیگی۔ البتہ عمران خان کے ورغلائے جوانوں کو دوبارہ مین اسٹریم کا حصہ بنانا انتہائی گنجلک معاملہ ہے۔ ساؤتھ افریقہ کا معاملہ ہم سے مختلف ضرور ہے مگر وہاں افراط و تفریط اور ٹکراؤ ہمارے سے کہیں زیادہ تھا۔ نوبل انعام یافتہ ڈسمنڈ ٹیٹو کی سربراہی میں ایک کمیشن بنا۔ جس کسی نے بھی ریاست کیخلاف جُرم کیا تھا اُس کو تو اعترافِ جُرم کا موقع دیا گیا اور بدلے میں عام معافی دی گئی۔ آج ساؤتھ افریقہ دنیا کے پہلے 20 ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہے۔ اس اصول کا اطلاق یا معافی کا موقع عمران خان کو بھی دینا ہوگا۔
حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ اگرچہ عمرا ن خان سے میری مخاصمت ذاتی ہے اور اس کے لئے میرے پاس ذرہ بھر ہمدردی موجود نہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ میسولینی، ہٹلر، شیخ مجیب الرحمان، الطاف حسین کی طرز پر عمران خان نے بھی اپنی سیاست اور تحریک انصاف کو اپنی ذات اور زندگی تک محدود اور جوڑ رکھا ہے۔ ایسے لوگ اپنی سیاست کا اپنے ہاتھ سے خاتمہ اور خدانخواستہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔
اگر عمران خان کے کیس میں ملک کے اکابرین کا بہت بڑا بورڈ تشکیل پا جائے۔ اُسکے ساتھ پہروں گفتگو کر کے اُسے احساس دلوائے کہ اُنکی سیاست کے راستے دو ہی ہیں، بھیانک انجام یا دوسری صورت میں وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے ریاست کی شرائط پر مثبت انداز میں اپنی سیاست کو آگے بڑھائیں. اب ان کے لئے راستے دو ہی رہ گئے ہیں ..اول .. ان کے تباہ و برباد ہونے کیلئے آتش نمرود بھی تیار ہے اور دوسرا یہ راستہ کہ عمران اپنی سیاست اور پارٹی کو بچا بھی سکتے ہیں۔ وہ صدق دل سے بہت کچھ دے کر اسٹیبلشمنٹ اور حکومتِ وقت سے NRO لے لیں۔ ڈسمنڈ ٹیٹو کا راستہ اپنائیں عمران خان گناہوں کا اعتراف اور صلح صفائی کیلئے راستہ ہموار کریں ۔ ڈر ہے کہ عمران خان نے تعاون نہیں کرنا ۔ وہ اس وقت گھر میں اکیلے ہیں اور ان کی تنہائی جان لیوا ثابت ہوگی۔
