کیا پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ ہونے جارہا ہے؟

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نو مئی کے واقعات کے تناظر میں پارٹی چھوڑنے والے رہنماؤں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ختم ہو جائے گی تو یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ وہ پارٹی جس کی ملک میں مقبولیت 70 فیصد ہو، وہ ختم نہیں کی جا سکتی۔ آپ لوگوں سے پریشر ڈال کر پارٹی چھڑوا بھی دیں تو ایسا کرنے سے پارٹی ختم نہیں ہو گی۔ پارٹی کا ٹکٹ جیتے گا۔عمران خان کا یہ ردعمل چند پارٹی رہنماؤں کی طرف سے نو مئی کے واقعات کے تناظر میں ردعمل، استعفوں اور ٹکٹ واپسی کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
تحریک انصاف کے مرکزی اور بانی رہنماؤں میں سے ایک عامر محمود کیانی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ نو مئی کو ہوا اس سے بہت تکلیف پہنچی ہے، یہ قومی سانحہ تھا اور اب وہ سیاست ہی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔عامر کیانی نے کہا کہ سیاست میرا شعبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق وہ پارٹی کی بنیادی رکنیت، تمام عہدوں اور سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اس طرح کی سیاست کا حصہ نہیں بن سکتے جس سے ملک کو آنچ آئے۔
عامر کیانی تحریک انصاف کے واحد رکن نہیں ہیں، جنھوں نے نو مئی کے واقعات کو وجہ بتا کر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کے مزید رہنما اور ٹکٹ ہولڈرز بھی پارٹی سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔عامر کیانی سے قبل کراچی سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی محمود باقی مولوی بھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔اگرچہ عمران خان نے ابھی تک نو مئی کے واقعات کی مذمت نہیں کی ہے مگر تحریک انصاف کے فواد چوہدری، علی زیدی اور سینیٹر ولید اقبال سمیت متعدد رہنماؤں نے نو مئی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی ہے۔
محمود باقی نے سنہ 2017 میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ ضمنی انتخابات میں سنہ 2022 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ سے رکن قومی اسمبلی بنے تھے۔محمود باقی کا تعلق کراچی کی تاجر برادری سے ہے۔ محمود باقی کا کہنا تھا کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ ان کی پارٹی چھوڑنے کی وجہ بن گیا۔ ان کے مطابق میری یہ سوچ ہے کہ نو مئی کو جو کچھ ایم ایم عالم کے جہاز کے ساتھ ہوا، جو شہدا کی یادگاروں کے ساتھ ہوا اور جس طرح افواج کے ساتھ ہوا تو اس کے بعد میرا دل نہیں مان رہا کہ میں تحریک انصاف میں رہوں۔محمود باقی نے وضاحت کی کہ ان کے نومئی سے قبل پارٹی سے کسی قسم کے کوئی اختلافات نہیں تھے بلکہ آٹھ روز قبل انھیں پارٹی نے صوبہ سندھ کا سینیئر وائس پریذیڈنٹ بنایا تھا۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے موسیٰ گیلانی نے ٹوئٹر پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’جعفرآباد سے رکن قومی اسمبلی خان محمد جمالی اور ممبر صوبائی اسمبلی بلوچستان عمر جمالی نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی احمد اعجاز کا کہنا ہے کہ نو مئی کے واقعات کے بعد اب تحریک انصاف کے اکثر ٹکٹ ہولڈرز دباؤ میں ہیں۔ان کے مطابق عمران خان کے ووٹرز اور پارٹی کو اب قابو میں رکھنے کے لیے دو طریقے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف عمران خان کو بڑے جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں سے دور کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف اب ان کے ٹکٹ ہولڈرز پر دباؤ کے ذریعے ووٹرز کو ان سے دور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ لاہور سے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر میاں عباد فاروق نے ایک ویڈیو کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ ’میں اپنا ٹکٹ واپس کرتا ہوں، اگر ٹکٹ گالی دینے سے اور کسی ادارے کو آگ لگانے سے ہی ملتی ہے تو مجھے پھر یہ ٹکٹ نہیں چاہیے۔‘احمد اعجاز کے مطابق پنجاب سے متعدد ٹکٹ ہولڈرز کو نیب کے نوٹسز بھی موصول ہو رہے ہیں جبکہ ایسے میں کچھ امیدوار روپوش بھی ہو رہے ہیں۔ ان کی رائے میں ٹکٹ ہولڈرز پر یہ ایک مشکل وقت ضرور ہے۔ان کے خیال میں یہ حکمت عملی طویل دورانیے کے لیے ہے۔ پنجاب کے ایک شہر میں پانچ صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے تین امیدواروں کو نیب نے بلاوا بھیجا ہے اور ان میں سے ایک گلگت بلتستان کی طرف نکل گئے ہیں۔ان کے مطابق ’اس وقت ایسے بہت سارے امیدوار ہیں جو تحریک انصاف کا نام بھی نہیں لے رہے ہیں۔‘احمد اعجاز کے مطابق عمران خان یہ کہہ کر کے نو مئی کو اپنے سیاسی کارکنان کے ردعمل کو سراہ بھی نہیں رہے ہیں، جن سے آگے چل کر انھیں کارکنان کو کال دینے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ردعمل اور استعفوں پر سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ محمد طحہٰ صدیقی نامی صارف نے لکھا کہ اب پی ٹی وی تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب کے صدر عامر کیانی کے استعفے کی پریس کانفرنس لائیو نشر کر رہا ہے۔صحافی اعزاز سید نے ٹویٹ کی کہ بظاہر آپریشن ڈسمینٹل یعنی پارٹی توڑنے کا آپریشن شروع ہو گیا ہے۔ ان کی رائے میں پاکستان کو اس آپریشن کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔امجد قمر نامی صارف نے لکھا کہ ’میری رائے میں پی ٹی آئی کو شکر ادا کرنا چاہیے کی موسمی پرندے اب رخصت ہونے لگے ہیں۔ اب بہتر ہے کہ اپنے کارکنوں کی طرف توجہ دیں۔ جو پرانے لوگ ہیں ان کو اکٹھا کریں۔ اور پارٹی کو اصولی بنیادوں پر کھڑا کریں۔‘
صحافی ماجد نظامی نے ٹویٹ کی کہ ’یہ وہی ’نامعلوم‘ ہیں جو 2018 میں کہتے تھے کہ شیر کا نشان چھوڑو۔ وقت بدل چکا ہے اور اب وہی ’نامعلوم‘ ہی کہہ رہے ہیں کہ بلے کا نشان چھوڑو۔ان کی رائے میں ’اس وقت تحریک انصاف ان کی سہولت کار تھی اور آج مسلم لیگ ن سہولت کاری کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔ یہی افسوس ناک اور قابل مذمت رویہ ہے۔‘
