صوبے بنانا آسان کام نہیں، یہ فیصلہ باہمی مشاورت سے ہونا چاہیے: مولانا فضل الرحمان

 

 

 

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کاکہنا ہےکہ صوبے بنانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق حتمی فیصلہ عوام کی رائے اور باہمی مشاورت سے ہونا چاہیے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتےہوئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبے بنانا بری بات نہیں لیکن کیا ملک اس کا متحمل ہوسکتا ہے،مزید صوبے بنانے کےلیے ملکی ساخت دیکھنی چاہیے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ نئے صوبوں کےمعاملے پر عوام سے پوچھاجانا چاہیے کہ آیا وہ نیا صوبہ چاہتےہیں یا نہیں۔ہر فیصلہ مشاورت سے ہونا چاہیے اور قوموں کی شناخت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دنیا میں مختلف نظام ناکام ہوچکے ہیں،جمہوریت اور آمریت دونوں اپنی خامیوں کے باعث تنقید کی زد میں ہیں،تاہم پاکستان کو آئین کےمطابق چلایا جانا چاہیےکیوں کہ تمام مسائل کا حل آئین میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مرضی کی حکومتیں بنائیں گےتو جمہوریت نہیں پنپے گی،یہاں جمہوریت نہیں،پارلیمنٹ کمزور ہوگئی ہے،ملک کو آئین کےمطابق چلانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم اعتماد کا ووٹ کھو چکے، نئے الیکشن کرائے جائیں: بیرسٹر گوہر

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حالات کی بہتری کے لیے قومی پالیسی نہیں ہے،عوام اس صورت حال میں پریشان ہیں،ملک میں قومی اور انصاف پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیےتھے، جب کہ 28 ویں آئینی ترمیم میں کیا لایا جائےگا،اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔جمعیت علمائے اسلام اپنی سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔

 

 

 

 

Back to top button