کرونا سے جنگ لڑنے والے طبی عملے کو کیسے بچایا جائے؟

اگرچہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو عام لوگوں سے زیادہ احتیاطی تدابیر معلوم ہیں لیکن اس عالمی وباء سے لڑنے والے ہمارے فرنٹ لائن فوجی فیس ماسک، حفاظتی لباس، میڈیکل گوگلز اور گلوز جیسے ضروری سامان کی کمی کی وجہ سے تیزی سے اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے چاروں صوبوں کے مختلف شہروں کے ڈاکٹرز اور طبی عملہ ماسک، حفاظتی لباس اور ضروری تحفظ کے سامان کی عدم دستیابی کا شکوہ کر رہا ہے لیکن اس سلسلے میں ابھی تک مناسب اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ لہذا کرونا وائرس سے ڈاکٹرز سمیت ہیلتھ کیئر عملہ متاثر ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں کئی ڈاکٹرز اور نرسیں پہلے ہی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق صوبے میں سینیئر پروفیسرز سمیت 18 ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کے افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان میں اب تک کرونا وائرس سے جہاں کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں وہیں تین ڈاکٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تازہ ترین ہلاکت ڈاکٹر عبدالقادر سومرو کی ہے، جو کراچی کے علاقے گلشنِ حدید میں واقع ایک خیراتی ہسپتال میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں صفائی کے عملے سے لے کر لیب ٹیکنیشنز، نرسوں اور ڈاکٹرز تک جو کوئی بھی کرونا سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ کام کرتا ہے، اُس میں وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ طبی عملے کا مریضوں سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے، جس سے مریض کے جسم سے نکلنے والے مواد کے ذریعے وائرس اُنھیں منتقل ہو جاتا ہے۔
لمحہ فکریہ ہے کہ عوام کو دو میٹر کے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا کہا جا رہا ہے جبکہ طبی عملہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کا 20 سینٹی میٹر کے فاصلے سے معائنہ کرتا ہے۔میڈیکل پریکٹیشنر گلہ کرتے ہیں کہ دوسروں کی جان بچانے کے لیے خود کو داؤ پر لگانے والے، ان معلومات کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ بنیادی ساز و سامان نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز اور دیگر عملہ مکمل طور پر اپنی حفاظت نہیں کر پا رہا، جس سے وہ وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ڈاکٹروں اور طبی عملے کے وائرس سے متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کرونا کے اکثر مریضوں میں علامات فوری ظاہر نہیں ہوتیں۔ جب یہ متاثرہ لوگ ہسپتالوں کے او پی ڈی میں معمول کے معائنے کے لیے جاتے ہیں تو وہ لاشعوری طور پر ڈاکٹرز اور نرسوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ طبی عملے کے لیے مخصوص حفاظتی سامان یا پی پی ای کی موجودگی میں بھی وائرس سے متاثر ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ سب سے اہم بات اِس حفاظتی سامان کا درست استعمال ہے۔ صرف پی پی ای کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ طبی عملہ، مریضوں کو لانے لے جانے والے افراد اور یہاں تک کہ کرونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات انجام دینے والے لوگ بھی پی پی ای کا درست استعمال جانتے ہوں۔
تاہم ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ڈاکٹروں اور عملے کے دیگر افراد کے لیے حفاظتی سامان کی شدید کمی ہے جس سے طبی عملہ متاثر ہو رہا ہے۔ پنجاب میں ملتان اور ڈیرہ غازی خان سے کرونا وائرس سے متاثرہ ڈاکٹرز کی زیادہ تعداد سامنے آئی ہے۔ اب تک ملتان میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے 18 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید عملے کے افراد کے ٹیسٹ بھیجے گئے ہیں۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں طبی عملے کے 12 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ یا پی پی ای استعمال کرنے والے اکثر ڈاکٹرز اور نرسز اِس حفاظتی سامان سے الجھن یا گرمی لگنے کی شکایت کرتے ہیں، پھر جب وہ ہسپتالوں کے شدید دباؤ والے ماحول میں کام کرتے ہیں تو بے احتیاطی کا امکان بھی رہتا ہے۔ یہ مسئلہ چین کے شہر ووھان میں بھی سامنے آیا تھا۔ ابتدائی چند دنوں کے دوران ووھان میں بھی پیرا میڈکل عملے کی بہت ہلاکتیں ہوئیں لیکن بعد میں اُن پر قابو پا لیا گیا۔ اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے طبی عملے نے حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل نہیں کیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ ابھی تک پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی بہت بڑی تعداد سامنے نہیں آئی اس لیے یہ ہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ اِس دوران ہم اپنے طبی عملے کو تربیت فراہم کریں۔ ہم دوسرے ممالک کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور طبی عملے کے لیے تجویز کردہ عالمی حفاظتی اُصول یہاں بھی نافذ کر سکتے ہیں۔ اگر ہماری تیاری اچھی ہوگی اور ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کے پاس بہتر سہولیات موجود ہوں گی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بے شمار قیمتی جانیں نہ بچا سکیں گے۔
حکومت نے طبی سامان کی ترسیل میں کمی اور مشکلات کو تسلیم کیا ہے تام حکام کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر طبی آلات ترسیل کرنے والی ٹیمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے دن رات مل کر آلات ہسپتالوں میں پہنچانے پر کام کر رہی ہیں۔ بڑی تعداد میں طبی عملے کو این 95 ماسک فراہم کیے گئے ہیں۔ سر اور جسم پر پہنے جانے والے حفاظتی لباس کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ چین سے بڑی تعداد میں وینٹیلیٹرز بھی منگوائے جا رہے ہیں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان کتنی جلدی اپنے میڈیکل عملے کو کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے مکمل طور پر مسلح کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button