کرونا نے پاکستان میں نسبتا کم جانیں کیوں لی ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کی ایک تازہ رپورٹ میں اعداوشمار کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار دنیا کے زیادہ متاثرہ ممالک سے کافی کم ہے حالانکہ پاکستان میں یہ وائرس آئیے اب تیسرا مہینہ چل رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جس رفتار سے دنیا کے مختلف ممالک میں کرونا وائرس پھیلا ہے اور جس بڑی تعداد میں انسانی جانیں لی ہیں، پاکستان میں اس حساب سے حالات بہت بہتر ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں پاکستان میں کم کرونا کیسز ہونے کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ کم ٹیسٹ اور کم کیسز رپورٹ ہونا ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر پاکستان میں کرونا کے ٹیسٹ ہی چند ہزاروں میں ہو رہے ہیں تو پھر نتائج بھی اسی حساب سے آئیں گے۔ اس ہفتے جاری ہونے والی ڈبلیو ایچ او کی اپ ڈیٹ رپورٹ میں پاکستان کا کرونا سے متاثرہ ممالک چین، ایران، اٹلی، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، جاپان اور سری لنکا سے موازنہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ 46 دنوں میں پاکستان میں روزانہ رپورٹ ہونے والے نئے کرونا کیسز ایران، اٹلی اور کوریا کے مقابلے میں خاصے کم پائے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں گراف کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ ایک کروڑ آبادی کے تناسب سے ہر روز مذکورہ ممالک میں کتنے کیسز سامنے آئے۔ پاکستان میں اس ہفتے کے آغاز تک فی کروڑ آبادی پندرہ سے بھی کم کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں ۔ صرف ایک دن فی کروڑ صرف 26 کیسز رپورٹ ہوئے۔ دوسری طرف ایران میں انہی 46 دنوں کے دوران روزانہ 130 کیسز رپورٹ ہوئے اور یہ تعداد 380 فی کروڑ تک بھی گئی یے۔ اٹلی میں85 سے 380 افراد فی کروڑ کیسز سامنے آتے رہے جبکہ کوریا میں 50 سے 155 کیسز فی کروڑ تک کیسز سامنے آئے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز تقریبا اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں جس رفتار سے جاپان ، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں بڑھ رہے ہیں اور یہ گراف زیادہ اونچا نہیں ہے۔ عالمی ادرہ صحت نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں کرونا کے اب تک خوفناک حد تک تیزی سے نہ بڑھنے کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم چند ماہرین کے مطابق اس کی وجہ کم کفونس ٹیسٹ اور کم کیسز رپورٹ ہونا بھی ہے۔ اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او نے تیرہ اپریل تک پاکستان میں آبادی کے تناسب سے کورونا ٹیسٹ کی تعداد کا تخمینہ بھی پیش کیا ہے جس کے مطابق ملک میں دس لاکھ کی آبادی کے حساب سے تقریبا 2810 افراد کو ٹیسٹ کیا گیا ہے یعنی ہر لاکھ پاکستانیوں میں سے صرف 281 کے کرونا ٹیسٹ ہوئے ہیں۔
عالمی ادارے کے مطابق تیرہ اپریل تک کل 65 ہزار ایک سو چودہ افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 38 ہزار سے زائد پنجاب میں جب کہ باقی دیگر صوبوں میں ہوئے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ٹیسٹ اسلام آباد میں ہوئے ہیں جہاں فی ملین آبادی 2256 ٹیسٹ کیے گئے ہیں اس کے بعد پنجاب میں فی ملین 1243 ٹیسٹ ہوئے ہیں جبکہ سندھ میں فی ملین 278 ٹیسٹ اور خیبر پختونخواہ میں فی ملین صرف 98 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تیرہ اپریل تک پاکستان کے پانچ ہزار 374 کورونا کیسز میں سے 1095 صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 1501 ملک کے مختلف ہسپتالوں میں ہیں جبکہ 2685 گھروں میں آیسولیشن میں ہیں ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہو چکی ہے جبکہ کل کیسز چھ ہزار کے قریب ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button