کرونا وائرس سے بالی ووڈ انڈسٹری بھی بحران کا شکار

چین سے شروع ہونیوالے موذی کرونا وائرس نے بھارتی فلم انڈسٹری یعنی بالی ووڈ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور درجنوں زیر تکمیل فلموں کی بیرون ملک شوٹنگ کو ملتوی کرنا پڑ گیا ہے جبکہ فلموں کی پہلے سے اعلان کردہ نمائش کی تاریخیں بھی آگے پیچھے کرنا پڑ گئی ہیں اور پروڈیوسر حضرات کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
ہزاروں انسانوں کی زندگیاں نگلنے والے اس وائرس کے بھوت نے بالی ووڈ میں سرمایہ کاری کرنے والے پروڈیوسرز کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے بیرون ملک شوٹنگ کے منصوبے کینسل کر دیں ۔ درجنوں ایسی فلمیں جن کی نمائش کی تاریخ تک کا اعلان کیا جا چکا تھا، اب ان کی شوٹنگ کرونا وائرس کے خوف سے ملتوی کر دی گئی ہے اور اب ان کی اعلان کردہ تاریخوں پر نمائش نا ممکن ہو گئی ہے جس سے بالی ووڈ انڈسٹری کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
بالی ووڈ پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے میں چھونے کے باعث منتقل ہو رہا ہے، اور ماہرینِ صحت لوگوں کو زیادہ بھیڑ والی جگہوں پر نہ جانے کی تلقین کر رہے ہیں لہذا وہ بھی پروڈکشن ہاؤسز کے عملے کے لوگوں کو اکٹھے سفر نہیں کروانا چاہتے اور بیرون ملک اور اندرون ملک شوٹنگز کینسل کر دی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل سلمان خان نے اپنے پروڈکشن ہاؤس میں تیار ہونے والی فلم ”رادھے‘‘ کو 22 مئی 2020ء میں نمائش کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن یہ معاملہ اب کھٹائی میں پڑتا ہوا نظر آ رہا ہے، اس فلم کی شوٹنگ تھائی لینڈ میں کی جانی تھی مگر کرونا وائرس کے بے قابو جن سے بچنے کی خاطر فی الحال شوٹنگ غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
اداکار اکشے کمارکی بڑے بجٹ کی فلم ”پرتھوی راج‘‘ کی ریکارڈنگ راجستھان میں کی جانی تھی، لیکن کروناوائرس کے خوف سے اس کی شوٹنگ کا مقام تبدیل کر دیا گیا ہے، اب اس فلم کی شوٹنگ ممبئی میں کی جائے گی۔
بالی وُڈ کے مشہور پروڈیوسر ”کرن جوہر‘‘ اپنی فلم ”تخت‘‘ کی شوٹنگ بھی راجستھان میں کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن کرونا کے سبب اس فلم کی شوٹنگ بھی تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔
بالی وُڈ کی ہٹ فلم ”بھول بھلیاں‘‘ میں اکشے کمار اور ودیا بالن نے اداکاری کے جوہر دکھا کر بے حد داد سمیٹی تھی۔ اس کا دوسرا حصہ بھی جلد نمائش کے لیے پیش کیے جانے کی خبریں تھیں لیکن کرونا وائرس سے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے پیشِ نظر بیرون ملک شوٹنگ کے مقام کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور عین ممکن ہے کہ اسکی نمائش کی تاریخ مزید آگے بڑھانی پڑے۔
اس کے علاوہ عرفان خان کی انگریزی میڈیم فلم بھی شوٹنگ کینسل ہونے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔
بالی ووڈ کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہو رہیں بلکہ حالات اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوتے نظرآ رہے ہیں۔ انڈیا کا پرائیویٹ سیکٹر ” YES ‘‘ بینک جو اثاثہ جات کا انتظام اورخوردہ بینکاری کرتا ہے، شدید بحران کے سبب سرخیوں میں ہے، اور اس کے اثرات بھی بالی ووڈ پر پڑ رہے ہیں۔ ”ریزرو بینک آف انڈیا‘‘ کی جانب سے Yesبینک کو تیس دن کی مہلت کا اطلاق اور پچاس ہزار سے زیادہ رقم نکالنے پر پابندی کے بعد بینک متنازعہ ہو گیا، جبکہ اس وجہ سے عام آدمی تکلیف اٹھا رہا ہے، اور بالی ووڈ بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق بالی ووڈ کے چند پروڈیوسرز، جن میں تین بڑے نام بھی شامل ہیں، ان کے اپنے اور پروڈکشن ہاؤسز کے سیلری اکاؤنٹ اسی متنازعہ بینک میں ہیں۔ پیسے نکالنے پر پچاس ہزار کی حد کے سبب پروڈیوسرز، پروڈکشن ہاؤسز اور ملازمین کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ چند بڑے پروڈیوسرز نے اپنی فلموں کے لیے اسی بینک سے تین سو کروڑ کی رقم بطور قرض بھی لے رکھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button