کرونا وائرس سے امریکی صدارتی الیکشن لیٹ ہونے کا خدشہ

تیزی سے پھیلتے کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے بیشتر معاملات کو شدید متاثر کیا ہے وہیں رواں سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے پر بھی خدشات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ تیس افراد اب تک موت کا شکار ہو چکے ہیں اور وہاں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
کرونا وائرس کا خطرہ امریکہ میں ایک سیاسی مسئلے کے طور پر سامنے آ چکا ہے، جس میں ڈیموکریٹ ارکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں اور ایک ایسی ممکنہ وبا سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں جو امریکی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ خدشات موجود ہیں کہ اس وائرس کے پھیلاؤ سے انتخابی ریلیوں، سیاسی کنونشنز، حتیٰ کہ ووٹنگ کے مقامات پر عوامی اجتماعات محدود ہونے سے خود انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکا کی کئی ریاستوں میں ڈیموکریٹس جماعت کی جانب سے پرائمری انتخابات شروع ہوچکے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے کرونا کے پھیلاﺅ کو روکنے کےلیے عوامی اجتماعات پر پابندی کی وجہ سے ڈیموکریٹس کی جانب سے صدارتی امیدوار کے نامزدگی کےلیے مختلف ریاستوں میں جاری پرائمری انتخابات منسوح کردیئے ہیں . امریکا کے صدارتی انتخابات کےلیے دونوں جماعتوں کے تمام ریاستوں میں ڈیلیگیٹس منتخب کئے جاتے ہیں اور جماعتوں کی جانب سے صدارتی امیدواروں کو پرائمری اور پارٹی کا کس میں پوائنٹس ملتے ہیں یہ ڈیلیگیٹس نیشنل کنونشن میں حتمی طور پر پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار منتخب کرتے ہیں جس کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے صدارتی انتخابات کےلیے باضابط مہم شروع کی جاتی ہے اور سارے ملک کے اندر بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیئے جاتے ہیں۔
ڈیموکریٹس نیشنل کنونشن شیڈول کے مطابق 13 سے 16 مئی کو منعقد ہوگا جب کہ ری پبلکن پارٹی نے اگست 24 سے 27 تک نیشنل کنویشن منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے واشنگٹن کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال جلد قابو میں نہ آئی تو صدارتی انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے اور آئین کے تحت صدر ٹرمپ ہنگامی حالت کا اعلان کرکے خود کو اگلی مدت کےلیے صدر نامزد کرسکتے ہیں۔ ادھر ساﺅتھ امریکن ملک میسکیکو اور ہنڈارس میں کورونا وائرس کے کیس سامنے آنے کے بعد امریکا کی جنوبی سرحدوں پر بھی کورونا کے سائے منڈلانے لگے ہیں ساؤتھ امریکی ریاستوں سے امریکا کی تقریبا تمام ریاستوں میں پھل، سبزیاں، گوشت اور دیگر اشیاء خوردونوش سپلائی کی جاتی ہیں تاہم ان ریاستوں میں صفائی اور صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث وائرس کے پھیلنے سے وائرس کے تباہ کن اثرات امریکا پر مرتب ہونگے۔
جنوبی امریکا کے ممالک برازیل، کولمبیا، بولویا، پیرو، ارجٹئائن، کوسٹاریکا، ایکواڈور اور چلی میں بھی کورونا وائرس کے کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔ امریکا کی بیشتر ریاستوں میں وائرس کی دہشت سے اسٹوروں سے لوگوں نے بھاری مقدار میں اشیاء ضروریہ خرید کر ذخیرہ کرلی ہیں جس کی وجہ سے ملک میں اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا ہوچکی ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تین سالوں میں ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کے جو دعوے اور اقدامات کیئے تھے وہ کورونا کے ایک جھٹکے سے زمین بوس ہوگئے ہیں لہذا ان کےلیے آئندہ انتخابات انتہائی مشکل ثابت ہوسکتے ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے ٹرمپ انتظامیہ شروع میں اسے جنوبی ایشیاء اور چین کا علاقائی مسئلہ سمجھتے ہوئے لاتعلق رہی اور اس کو روکنے کےلیے بروقت اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے امریکا میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ واشنگٹن کے سیاسی پنڈت ٹرمپ انتظامیہ کے چین سے امریکی شہریوں کو عجلت میں نکالنے کے فیصلے کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ادھر امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے پا س کرونا وائرس کی ٹیسٹ کیٹس بھی ناکافی ہیں اور ہنگامی طور پر مزید ٹیسٹ کٹس کسی دوسرے ملک سے منگوانے یا مقامی طور پر تیار کرنے میں بھی بہت وقت درکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button