کرونا وبا، پنجاب میں 2 ہفتوں کیلئے الیکٹو سرجریز پر پابندی عائد

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے صوبے میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 17.38 ریکارڈ کی گئی اور میڈیکل آکسیجن کی پریشانی سے بچنے کے لیے صوبے بھر 2 ہفتوں کے لیے الیکٹو سرجریز پر پابندی لگادی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا میڈیکل سروسز کے لیے 91 فیصد آکسیجن استعمال کی جارہی ہے جس میں سے 60 فیصد سرکاری ہسپتالوں میں جبکہ باقی نجی ہسپتالوں کو فراہم کی جارہی ہے۔یاسمین راشد نے بتایا کہ ایمرجنسی آپریشن ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت میڈیکل آکسیجن درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ لاہور میں کورونا سے مزید 28 مریض جاں بحق ہوگئے ہیں۔یاسمین راشد نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، فیصل آباد 27 فیصد، ملتان 23 فیصد اور لاہور 20 فیصد پر ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران 200 وینٹیلیٹرز جبکہ آج لاہور میں مزید 23 وینٹیلیٹرز لگائے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ لاہور میں وینٹیلیٹرز آکسیجن بیڈ اوکوپینسی 94 فیصد ہے۔
علاوہ ازیں وزیر صحت پنجاب نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر نے کورونا مریضوں کے لیے 2 ہزار 310 بیڈز دے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں میڈیکل آکسیجن کی مجموعی صورتحال بہتر ہے۔یاسمین راشد نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں سب سے زیادہ ویکسینیشن کا عمل جاری ہے جبکہ مجموعی طور پر 33 ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو مکمل لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک صوبے کے 9 لاکھ 34 ہزار 170 افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 34 ہزار 706 لوگوں کی ویکسینیشن کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں اس وقت لاک ڈاؤن والے 15 علاقے ہیں۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ وفاق کی جانب سے ڈھائی لاکھ گزشتہ روز فراہم کی گئی جبکہ ڈھائی لاکھ آئند روز تک مل جائیں گیں۔انہوں نے بتایا کہ وفاق کی جانب سے فراہم کردہ ویکسین کے بعد ہمارے پاس 3 لاکھ 91 ہزار ویکسین کا اسٹاک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 28 تاریخ کو 10 لاکھ ویکسین مل جائیں گیں۔
یاسمین راشد نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘مجھے بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ پریس کانفرنس سن کر بہت افسوس ہوا’۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ کون سا وقت ہے کہ کسی پر تنقید کرنے کا اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکز کو ویکسین سے متعلق این سی او سی کے اجلاس میں معاملہ زیر بحث آیا تو سب سے بڑا حصہ سندھ کو فراہم کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ اس وقت سندھ کی صورتحال ہمارے مقابلے میں بہتر خراب تھی’۔
یاسمین راشد نے کہا کہ بلاول کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسے حالات میں پنجاب پر تنقید کریں جبکہ پنجاب سب سے زیادہ ویکسین لگارہا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ‘بلاول صاحب جو ویکسین سندھ کو دی گئی ابھی وہ ہی استعمال نہیں ہوئی’۔انہوں نے مزید کہا کہ لاہور میں اگلے دو دن میں ویکسینیشن کے لیے اسپیشل بس روٹ چلارہے ہیں۔علاوہ ازیں ان کا کہناتھا کہ اگر عوام نے ساتھ دیا تو مئی کے اواخر تک 50 سے زائد عمر افراد کی ویکسینیشن کا عمل مکمل ہوجائے گا۔
