کریمہ بلوچ کے شوہر نے اہلیہ کی موت کو قتل قرار دے دیا


کینیڈا میں پراسرار موت کا شکار ہونے والی بلوچی قوم پرست رہنما کریمہ بلوچ کے شوہر نے کینیڈین پولیس کا یہ موقف مسترد کردیا ہے کہ کریمہ خود سے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ کریمہ کو قتل کیا گیا ہے اور پولیس کو انکے قاتلوں کو منظرعام پر لانا چاہیے۔ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کی ایک جھیل میں مردہ پائی جانے والی بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سابق چیئر پرسن کریمہ بلوچ کے شوہر نے پولیس کی جانب سے تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
37 سالہ بلوچ رہنما کی 20 دسمبر 2020 کو گمشدگی کی خبر آئی اور اگلے روز ان کی لاش ملی جس کے بارے میں ٹورنٹو پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شہر کے ایک جزیرے کے قریب پانی سے برآمد کی گئی۔ ٹورنٹو پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد کہا کہ بلوچ رہنما کی موت کو وہ کسی جرم کے طور پر نہیں دیکھ رہے۔ تاہم کریمہ کے شوہر حمل حیدر کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہیں کہ پولیس کیسے اتنی جلدی اس نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے پولیس سے پوچھا کہ آپ کس بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسے ڈبو کر مارا نہیں گیا بلکہ وہ خود ڈوبی؟ کیا آپ سو فیصد یقین سے کہہ سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہم ایسا یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں جو فوٹیج ملی ہے اس میں کریمہ جزیرے پر اکیلی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ اور کوئی نہیں ہے، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ڈوبنا خاتون کا ذاتی فعل ہے اور انھوں نے شاید خود اپنے آپ کو ختم کیا۔’
کریمہ کے شوہر حمل حیدر نے اپنی اہلیہ کے بارے میں ٹویٹ کر کے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور مزید پولیس تفتیش کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ کینڈین حکام سے اپنی اہلیہ کی موت کے بارے میں جامع تفتیش کا مطالبہ کریں اور تفتیش کے دوران اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ انھیں ماضی میں کینیڈا منتقل ہونے کے بعد بھی دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔
دوسری جانب کریمہ بلوچ کے بھائی سمیر محرب نے کینیڈین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بہن کی موت کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرائی جائے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ان کی بہن کو جو دھمکیاں مل رہی تھیں ان کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
کریمہ کے گھر والوں کا موقف ہے کہ وہ بالکل نارمل تھی اور ان کے گھر میں کسی قسم کا کوئی ایسا مسئلہ بھی نہیں تھا جو انہیں اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور کر دیتا۔ لہذا خودکشی والی کہانی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ انکے شوہر بتاتے ہیں کہ اس سال کرسمس کےلیے کریمہ نے اپنے گھر والوں اور دوستوں کے لیے تحائف جمع کر رکھے تھے اور وہ بالکل نارمل زندگی گزار رہی تھیں۔
اپنی زندگی کو درپیش سنگین خطرات کے پیش نظر کریمہ 5 برس قبل کینیڈا منتقل ہو گئی تھیں۔ کریمہ کی چھوٹی بہن ماہ گنج بتاتی ہیں کہ جس روز وہ لاپتہ ہوئیں اس دن پاکستان کے وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے ان کی کریمہ سے بات ہوئی تھی۔ وہ باہر جا رہی تھی، اُس نے مجھ سے کہا کہ سونا نہیں میں جلدی واپس آ کر تمہیں ویڈیو کال کرتی ہوں اور جو کرسمس گفٹ لیے ہیں، ان سے سب کو سرپرائز دینا ہے۔ ماہ گنج کے مطابق کریمہ نے کہا کہ جلد تمہاری یونیورسٹی کھل جائے جو بیگ اور شوز میں نے بھیجے ہیں وہ پہن کر تصویر بھیجنا۔ اُس نے مجھے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان سے کوئی آ رہا ہو تو کچھ کتابیں جس میں آگ کا دریا بھی شامل تھی، وہ مجھے بھجوا دینا۔ ماہ گنج کے مطابق کریمہ کے کئی خواب تھے اور وہ مثبت سوچ کی انسان اور ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ وہ ماموں کے بہت قریب تھیں اور جب ماموں کی مسخ شدہ لاش ملی تو اسی وقت اس کی ایک سہیلی نے افسوس کا میسج کیا تو کریمہ نے کہا کہ افسوس کس بات کا یہ جدوجہد کا حصہ ہے اور تحریک میں اس طرح کے حالات آتے ہیں۔ ماہ گنج کہتی ہیں کہ جب میں بھی ماموں یا کسی اور ساتھی کے بچھڑنے کا دکھ بیان کرتی تو وہ کہتی کہ تحریکوں میں اس سے بھی برے حالات آتے ہیں ہمیں ہر چیز کےلیے تیار رہنا ہوگا۔ ماہ گنج بتاتی ہیں کہ کریمہ کےلیے بہت رشتے آتے تھے مگر وہ انکار کردیتی کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ شادی کی وجہ سے ان کی سیاسی جدوجہد پہ کوئی فرق پڑے۔ اس نے کہا تھا کہ میں کسی ایسے انسان سے شادی کروں گی جو میری جدوجہد کو سپورٹ کرے نہ کے مجھے روکے۔ پیار اور محبت کے لئے اس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔ وہ ہر وقت اپنی جدوجہد میں مصروف تھی اُس کا عشق بلوچستان سے تھا۔
ٹوروٹنو یونیورسٹی میں استاد اور صحافی کرن نازش کی کریمہ سے 2014 میں کراچی میں ملاقات ہوئی تھی اور پھر دونوں میں دوستی ہوگئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہم مستقل رابطے میں رہتے تھے ایک ہفتے سے امتحانات چل رہے تھے، وہ کسی ذہنی دباؤ یا ڈپریشن میں نہیں تھی، وہ ایک نڈر عورت تھی اور ذہنی طور پر واضح تھی۔ اس پر ایسا کوئی دباؤ نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ خود کو نقصان پہنچائے۔ سوشل میڈیا پر کریمہ بلوچ کی ایک تصویر ان دنوں بہت مقبول ہے جس میں انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کی علامت پشتین کیپ پہن رکھی ہے۔ کرن نازش کے مطابق کریمہ کو یہ کیپ منظور پشتین نے تحفے میں دی تھی۔ وہ یہ کیپ پہن کر اپنی خوش کا اظہار کرنا چاہتی تھی کیوں کہ وہ منظور پشتین اور ان کی تحریک سے متاثر تھیں کیوں کہ وہ سمجھتی تھی کہ ان کی تحریک بھی آزادی، اظہار رائے اور برابری کی تحریک ہے۔
دوسری طرف بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اورپشتون تحفظ موومنٹ کس سنگھاڑوں کارکنان نے 24 دسمبر کے روز اسلام آباد میں ایک مظاہرہ کیا اور کریمہ بلوچ کی موت کو ریاستی اداروں کے ہاتھوں قتل قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کی تحقیقات کریں اور سچ سامنے لائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button