صدارتی ریفرنس: کسی جماعت کو اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ سینیٹ میں سیاسی جماعت کی نمائندگی صوبے میں تناسب کے مطابق ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا اور اگر کسی جماعت نے اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے۔
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ اس 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے ساتھ ساتھ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے ووٹرز کےلیے ہدایت نامہ جمع کرایا؟۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ووٹرز کےلیے ضابطہ اخلاق جمع کروا چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے دلائل کا اغاز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ذاتی حیثیت میں بھی پیش ہورہا ہوں، کوشش کروں گا اپنے دلائل مختصر رکھوں۔ رضا ربانی نے کہا کہ میں 10 نکات پر اپنے دلائل دوں گا، میرے دلائل کا آغاز جسٹس اعجاز الاحسن کے نظام رک جانے والے ریمارکس سے ہو گا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔ رضا ربانی نے کہا کہ عام تاثر ہے رکن پارلیمنٹ اچھا وکیل نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے رضا ربانی کو مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ایسی بات نہیں ہے، آپ اچھے وکیل ہیں، آپ تو 1994 سے سینٹ کے ممبر ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ دلائل کا آغاز سینیٹ کو تخلیق کرنے کا مقصد کیا ہے اس سے کروں گا، سینیٹ کو تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد فیڈرل ازم ہے، قائداعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات میں سے 14واں نکتہ فیڈرل ازم کا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کو قائم کرنے کا مقصد گھٹن کے ماحول کو ختم کر کے متناسب نمائندگی دینا ہے، ایسی چھوٹی سیاسی جماعتیں جن کی چار صوبائی نشستیں ہوتی ہیں انہیں بھی سینیٹ میں نمائندگی ملتی ہے، چھوٹی سیاسی جماعتوں کو فیڈرل میں اپنی بات کرنے کا موقع دینے کےلیے سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کا تصور دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی میں تین یا چار اراکین کے باوجود دو سینیٹرز موجود ہیں، آپ سینیٹ کی تشکیل اور مقصدیت کو سامنے رکھیں، پاکستان کے عوام کی اکثریت قومی اسمبلی میں ہوتی ہے۔ سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ میں وفاق پاکستان کی نمائندگی ہوتی ہے، ہاؤس آف لارڈ اور ہاؤس آف کامن میں بھی تنازع دیکھا جا سکتا ہے، ہاؤس آف کامن کے پاس عوامی نمائندگی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسئلے کا حل آئین میں دیکھنا چاہیے، قومی اسمبلی سے بل پاس ہونے بعد بھی سینیٹ اسے مسترد کر سکتا ہے، سینیٹ کو بل پر 90 دنوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں نمائندگی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے تناسب سے ہوتی ہے، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ضروری نہیں کہ حکمران جماعت کی صوبے میں بھی حکومت ہو، وفاق میں کسی اپوزیشن جماعت کی صوبے میں حکومت ہو سکتی ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ صدر نے سوال پوچھا ہے کہ خفیہ ووٹنگ کا اطلاق سینٹ پر ہوتا ہے یا نہیں، حکومت نے ایسا تاثر دیا ہے کہ جیسے مقدمہ 184/3 کے دائرہ اختیار کا ہے، میں جسٹس اعجاز الحسن کے سوالات کے جواب دوں گا۔ اس پر رضا ربانی کو ٹوکتے ہوئے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ میرا نام اعجاز الحسن نہیں، اعجاز الاحسن ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ کے قیام کا مقصد تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہے، جو خود کو الگ سمجھتے تھے انہیں نمائندگی دینے کےلیے سینیٹ قائم ہوئی، پارلیمانی نظام میں دونوں ایوان کبھی اتفاق رائے سے نہیں چلتے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی عوام اور سینیٹ وفاقی اکائیوں کی نمائندہ ہے، دونوں ایوانوں میں اختلاف رائے نہ ہونا غیر فطری ہوگا، لازمی نہیں کہ وفاق میں حکومت بنانے والی جماعت کی صوبے میں بھی اکثریت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے بھی سینیٹ میں نشستوں کا تناسب بدل سکتا ہے، متناسب نمائندگی کے نقطے پر تفصیلی مؤقف دوں گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ متناسب نمائندگی کا ذکر ارٹیکل 51 اور ارٹیکل 59 دونوں میں ہے، سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے بھی متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا، کسی جماعت نے اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے۔ رضا ربانی نے جواب دیا کہ آرٹیکل 51 کے تحت متناسب نمائندگی مخصوص نشستوں پر پارٹی لسٹ کے مطابق ہوتی ہے، آرٹیکل 59 میں متناسب نمائندگی سینیٹ میں ووٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متناسب نمائندگی کی عدالت جو تشریح کررہی ہے وہ آئیڈیل حالات والی ہے، سیاسی معاملات کبھی بھی آئیڈیل نہیں ہوتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سینیٹ میں سیاسی جماعت کی نمائندگی صوبے میں تناسب کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کئی بار سیاسی جماعتیں دوسرے صوبے کی جماعتوں سے بھی ایڈجسمنٹ کرتی ہیں لیکن اگر بین الصوبائی اتحاد بھی ہو تو ووٹ خفیہ رکھنا کیوں ضروری ہے؟۔ رضا ربانی نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی اتحاد میں فرق ہے، سیاسی اتحاد عام طور پر خفیہ ہی ہوتا ہے البتہ اگر کوئی انفرادی شخص سینیٹ ممبر بننا چاہے تو ہارس ٹریڈنگ ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے، ووٹ سیکرٹ رکھنے کے پیچھے کیا منطق تھی؟۔ رضا ربانی نے کہا کہ شاید سیکرٹ اس وجہ سے رکھا گیا کہ کسی سیاسی جماعت کا صحیح تناسب نہ آ سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی جماعت کے صوبائی اسمبلی میں دو اراکین ہوں تو وہ حلیف جماعتوں سے اتحاد قائم کر سکتی ہے، آپ ہمیں متناسب نمائندگی سے متعلق بتا دیں، آپ انفرادی حیثیت میں لارجر بینچ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ ہمیں آئین سازوں کے دماغ کو سمجھنا ہو گا، سیاسی جماعتوں کی متناسب نمائندگی قانون سازوں کے ذہن میں تھی، متناسب نمائندگی کے نظام کے نیچے بھی تین مختلف نظام موجود ہیں، ہر آرٹیکل میں الگ نظام سے متعلق بتایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پارٹی نمائندگی کا کہا گیا ہے وہیں سنگل قابلِ انتقال ووٹ کا بھی کہا گیا ہے، سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کو بھی مین سٹریم نمائندگی کا حق ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ ضروری نہیں کہ حکمران جماعت کے خلاف جائے، اتحادی جماعتوں کی اپنی طاقت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام جو بھی اپنایا جائے سینیٹ میں صوبائی اسمبلیوں میں موجود جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، 1973 کا آئین پاکستان بنتے وقت وزیر قانون نے کہا تھا کہ صوبائی نشستوں کی سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے۔ رضا ربانی اس پر کہا کہا اگر اس اصول پر سختی سے عمل کرنا ہے تو پھر پارٹی لسٹ ہونی چاہیے تھی، پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ق) اتحادی ہیں، تحریک انصاف چار یا پانچ سینیٹر میں سے ایک سینیٹر ق لیگ کو دے رہی ہے، کیا تحریک انصاف کے ایک سینیٹر کم ہونے سے متناسب نمائندگی کی عکاسی ہو گی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اس دلیل کو دوسرے انداز سے بھی بیان کر سکتے ہیں، اکثریتی جماعت دوسری اتحادی جماعت سے صوبے میں سیٹ کا تبادلہ کر سکتی ہے، تحریک انصاف اور ق لیگ کا پنجاب میں ابھرتا ہوا اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر مزید بات نہیں کرسکتا، سوال یہ ہے کہ پھر اتحاد کی صورت میں سینیٹ کا ووٹ کیوں خفیہ ہوتا ہے۔ رضا ربانی نے جواب دیا کہ سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتا لیکن اگر انفرادی ووٹر چاہے تو اپنا ووٹ خفیہ رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو خفیہ رائے شماری پر دلائل دوں گا، آرٹیکل226 کے سینیٹ انتخابات پر اطلاق پر بھی دلائل دوں گا۔ سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات صدارتی ریفرنس پر سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button