کشمیریاافغانستان ہماری پہلی ترجیح؟وزیراعظم ایوان میں جواب دیں،اپوزیشن

سینیٹ اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمان اور نیشنل پارٹی کےسینیٹرحاصل بزنجونےملکی خارجہ پالیسی کےحوالےسوال اٹھادیے۔ سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتےہوئےپی پی سینیٹرشیری رحمان کاکہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سےملاقات ہوئی جس میں انہوں نےپہلی ترجیح کشمیرکی بجائےافغانستان کوکہا۔
انہوں نےکہا کہ وزیراعظم کے اس بیان پرکشمیریوں کے دل پر کیا گزررہی ہے، کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی تبدیلی آئی ہے؟حکومت نےکشمیرپربھی یوٹرن لے لیا ہے، کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا کیا بنا؟ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےاتنی بڑی پالیسی تبدیلی کا بیان دیا لیکن میں امید رکھتی ہوں کہ وزیراعظم کی زبان پھسل گئی تھی، پارلیمنٹ کا حق ہےکہ جانے خارجہ پالیسی میں کمشیرپراتنی بڑی پالیسی تبدیلی آئی ہے۔
ان کا کہنا ہےکہ کشمیرپرثالثی کی پیشکش کوئی چھوٹی بات نہیں، کشمیرپرپہلےصدرٹرمپ نےثالثی کی بات کی تھی، اِس ثالثی کی پیشکش کےبعد’عالمی سرکار‘نےمودی کوکشمیرکا درجہ بدلنےکی اجازت دی۔ انہوں نےکہا کہ خارجہ پالیسی میں اس نئی تبدیلی پروزیرخارجہ نہیں بلکہ وزیراعظم بیان دیں اورایوان کوآکربتائیں کہ کشمیرسےمتعلق پالیسی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔
یاد رہےکہ وزیراعظم عمران خان نےورلڈ اکنامک فورم کےاجلاس کےموقع پر21 جنوری کوامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔’سی پیک کےحوالےسےامریکا اورپاکستانی وزراء کا موقف ایک دکھائی دیتا ہے‘.
bozino
اجلاس میں سینیٹرحاصل بزنجونےکا کہنا تھا کہ ہم ہرجگہ کہتےتھےچین سےدوستی ہمالیہ سےاونچی اورشہد سےمیٹھی ہےلیکن موجودہ حکومت کے آنےکےبعد ہم نےایک نیا شفٹ لیا۔ انہوں نےکہا کہ وزیرمواصلات نےکہا کہ ملتان سکھرموٹروے سےپیسےکھائےگئے، عبدالرزاق داؤد نےکہا کہ چین سےمعاہدے کا از سرنوجائزہ لیں، اس سےنقصان ہوا، اب سعودی عرب سےشفٹ کرتےہوئے امریکا پہنچ گئے، وزیراعظم جب امریکاسےآئےتو پی ٹی آئی نےائیرپورٹ پرجشن منایا اورکہا کہ ٹرمپ پاکستان کاحمایتی اوربھارت مخالف ہوگیا ہے۔
حاصل بزنجوکا کہنا تھا کہ امریکی قائم مقام نائب وزیرخارجہ برائےجنوبی ووسطی ایشیائی اموربیوروایلس ویلز پاکستان میں بیان دیتی ہیں کہ سی پیک پاکستان دشمن پروگرام ہے،وزیرخارجہ بتائیں کہ چین اورامریکا کےبیانات پرہمارا کیا ردعمل ہے، پہلےہمارے وزراء کا مؤقف تھا، وہی اب امریکا کا بھی مؤقف ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ کیا ہم واقعی سی پیک کورول بیک کر رہےہیں؟ امریکا کوجواب بھی چینی سفیرنےدیا، ایسا لگا کہ ہمارا کوئی وجود ہی نہیں۔
خیال رہےکہ گزشتہ دنوں پاکستان کےدورے پرآئی امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلزنےدوبارہ سی پیک کےحوالے سےچین پرالزامات عائد کیےجس پرپاکستان میں موجود چینی سفیرنےردعمل دیتےہوئےکہا تھا کہ امریکا، پاک چین تعلقات پر الزام دھرنےسےپہلےماضی دیکھےکہ انہوں نے پاکستان کےلیےکیا کیا؟ کیا ایلس ویلزپاکستان کےلیےامداد،سرمایہ کاری یا ٹریڈ لےکرآئی ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کوپاکستان اورخطےکی ترقی اورخوشحالی کاصحیح خیال ہےتوکیش اورفنڈزلائے، باہمی احترام، منصفانہ اورشفاف بنیاد پرتعاون کرےناکہ عالمی تھانےدارکاکردارادا کرے،ایسےشخص کوکبھی نہیں جگا سکتےجوسوئے ہونےکا تاثردے،امریکاابھی تک سی پیک کےبارے میں حقائق کونظراندازکررہا ہے،سی پیک منصوبوں میں گزشتہ5سال میں اہم پیشرفت حاصل کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button