کشمیر کا چی گویرا کہلانے والا مقبول بٹ شہید کون تھا؟

خطہ کشمیر کے چی گویرا کہلانے والے مقبول بٹ شہید وہ انقلابی مفکراور حریت پسند تھے جو تا عمر پامردی اور حوصلے کے ساتھ مادر وطن پر بھارت کے قبضے کے خلاف برسرپیکار رہے۔ 1984 میں بھارتی حکومت نے کشمیر کے اس دلیر سپوت کی جان لے لی لیکن وہ ان کے فکر و فلسفے کو ختم نہ کرسکا۔ مقبول بٹ کی قربانی کی وجہ سے جدوجہد آزادی کی تھریک آج کشمیری نوجوانوں کیلئے عوامی تحریک بن چکی ہے۔
آج مقبوضہ کشمیر کے ہر گھر سے برہان مظفر وانی جیسے پڑھے لکھے نوجوان نکل کر قابض بھارتی فوج کے سامنے سیسیہ پلائی دیوار بنے مادر وطن کا دفاع کرر ہے ہیں۔ مقبول بٹ شہید کی اپنے وطن کشمیر سے بے لوث محبت پر شک کی کوئی گنجائش نہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی جس کشمیری سے پوچھو وہ مقبول بٹ کو اپنا قائد بتاتا ہے۔ دراصل مقبول بٹ نے جو آزادی کی آذان دی تھی، اس پر سب کشمیریوں نے لبیک کہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مقبول بٹ کے خاموش ہو جانے کے باوجود بھی اس کی آواز کی گونج وادی کشمیر میں موجود ہے۔ آج بھی کشمیری ہارے نہیں ان کو مقبول بٹ جیسے رہنماؤں نے حوصلہ دیا ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ سب کچھ بندوق کے زور پر دبایا جاسکتا ہے مگر آزادی کی آواز کو دبانا اور سرفروشوں کے حوصلے کو ہرانا ممکن نہیں۔
مقبول بٹ شہید تحریک آزادی کشمیر کے معروف حریت پسند رہنماء تھے۔ سن اسی کی دہائی کا تقریباً ہر کشمیری مقبول بٹ کے نام سے واقف ہے۔ مقبول بٹ 18 فروری 1938 ء کو کپواڑہ کے ایک قصبے ترہگام میں ایک کسان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ترہگام کے پرائمری اسکول میں حاصل کی اور میٹرک ترہگام ہی کے ہائی اسکول سے پاس کیا اور پھر بی اے کے لیے سینٹ جوزف کالج بارہ مولا میں داخل ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ سینٹ جوزف کالج کے اس وقت کے پرنسپل جارج نے مقبول بٹ کے متعلق کہا تھا”یہ نوجوان اگر راستے کی سختیوں کو سہہ گیا تو ایک بڑا آدمی بنے گا۔ مگر اس کے جیسے لوگ عام طور پر شدید مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، کیونکہ جس طرح کی آزادی کا خواب وہ دیکھتے ہیں اس کو حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اس لیے وہ اکثر آزادی کی راہ پر قربان ہوجاتے ہیں“۔
مقبول بٹ نے زمانہ طالب علمی میں ہی کشمیر کی آزادی کے لیے ہونے والی کوششوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ پھر ناموافق حالات کے باعث پاکستان ہجرت کرلی۔ مقبول بٹ نے پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا اور قانون کی تعلیم بھی حاصل کی۔ پھر ایک اخبار ”روزنامہ انجام“ سے منسلک رہے۔ مقبول بٹ نے ایوب خان کے بی ڈی سسٹم کے تحت 1961 ء میں ہونے والے انتخابات میں مہاجرین کشمیر کی نشست سے پشاور سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد آپ کے خیالات میں بڑی تبدیلی آئی اور آپ نے آزادی کشمیر کے لیے سیاسی جدوجہد کے ساتھ عسکری جدوجہد بھی شروع کردی۔ سرحد پار کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے اور لوگوں کو جدوجہد کی ترغیب دینے لگے۔ ستمبر 1966 میں بارہ مولہ کے نزدیک ایک گاؤں نادی ہل میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں مقبول بٹ اپنے ساتھیوں ہمراہ گرفتار کر لیے گئے۔ اس حریت پسند رہنما پر غداری، جاسوسی، اور قتل کا مقدمہ چلایا گیا اوراگست 1968 ء بارہ مولا سیشن کورٹ کے جج نیل کنٹھ گنجو نے پھانسی کی سزا دی۔ معروف ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران مقبول بٹ نے کہا تھا ”جج صاحب ابھی وہ رسی نہیں بنی جو مقبول بٹ کو پھانسی پر لٹکا کر مار سکے۔ مجھے اپنی دھرتی پر گھومنے کے لئے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں۔ مجھ پر لگائے گئے الزامات میں سے ایجنٹ کا لفظ ختم کیا جائے کیونکہ میں ایجنٹ نہیں ہوں، حریت پسند ہوں۔ “
مقبول بٹ دسمبر 1968 میں اپنے دو ساتھیوں سمیت جیل توڑ کر سیز فائر لائن کراس کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوگئے۔ وہ دوبارہ سیاست میں فعال ہوئے اور کشمیر محاز رائے شُماری کے صدر مُنتخب ہوئے۔ انہوں نے گلگت بلتستان کا دورہ کرکے وہاں کے لوگوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کا درس دیا۔ کہا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی توجہ دلانے کے لیے جنوری 1971 میں مقبول بٹ نے ہاشم قریشی اور محمد اشرف قریشی کے ذریعے بھارت کا ایک طیارہ گنگا ہائی جیک کروایا۔ اس طیارے کے مسافروں کو بعدازاں رہا کردیا گیا اور طیارہ جلا دیا گیا۔ پہلے جس شخص کو طیارہ اغواء کرنے پر ہار پہنائے گئے بعد میں اسے حکومت پاکستان نے غداری کے الزام میں مری سے گرفتار کرلیا۔ مقدمہ چلا اور 1974 میں مقبول بٹ بری ہوگئے۔ 1976 ء میں مقبول دوبارہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تاکہ آزادی کی تحریک کو منظم کیا جاسکے۔ مگر کچھ عرصہ بعد ان کو گرفتار کرکے سرینگر سے تہاڑ جیل دہلی منتقل کردیا گیا اور انکی سابقہ سزائے موت بحال کردی گئی۔ بھارت میں مقبول بٹ کی گرفتاری پر زبردست مظاہرے ہوئے۔ پھر 1981 ء میں بھارت کی جانب سے اس نڈر مجاہد کو پھانسی دینے کا اعلان ہوا مگر اس فیصلہ کو احتجاج اور عالمی دباؤ کے باعث موخر کردیا گیا۔ آخر کار بھارتی حکومت نے 11 فروری 1984 ء کو اچانک مقبول بٹ کو تہاڑ جیل دہلی میں پھانسی دے کر جیل میں ہی دفن کردیا۔
