کوئٹہ: پولیس سے جھڑپ میں درجنوں طلبہ گرفتار

کوئٹہ میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ اور عہدیداروں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس کے بعد پولیس نے درجنوں طلبہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔مذکورہ واقعہ کوئٹہ میں جی پی او چوک کے قریب پیش آیا۔جامعہ کے طلبہ و عہدیدار مظاہرے کے دوران یونیورسٹی کی اصل حالت کی بحالی، فیسوں میں کمی اور وائس چانسلر کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔مظاہرین نے بتایا کہ وہ پرامن مظاہرہ کر رہے تھے لیکن پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں سیکیورٹی فراہم کرنے کے بجائے پولیس نے ہمارے ساتھ بُرا سلوک کیا۔دوسری جانب سرکاری عہدیداروں کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے باہر شروع ہونے والا احتجاج جی پی او چوک منتقل ہوا جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوگئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد مرتبہ انتباہ کے باوجود مظاہرین منتشر نہیں ہوئے عہدیداروں نے بتایا کہ مظاہرین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نقیب اللہ کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔
پولیس نے بتایا کہ مظاہرین کو تھانے لے جایا گیا۔زیر حراست درجنوں افراد کی حمایت میں ایک ہیش ٹیگ نے ٹویٹر پر ٹرینڈ کرنا شروع کردیا۔ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے ڈان نیوز کو بتایا کہ مظاہرین کو گرفتار نہیں بلکہ محض حراست میں رکھنے کے چند گھنٹوں بعد چھوڑ دیا گیا۔حراست میں لیے گئے مظاہرین کی تعداد سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی آئی جی نے کہا کہ ان کے پاس درست تعداد نہیں ہے۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان چیپٹر کے صدر ڈاکٹر عبداللہ رحیم نے گرفتاریوں کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (اے پی سی اے) کے سینئر عہدیدار یونس کاکڑ نے کہا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنا قانون کے منافی ہے۔
علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی سمیت دیگر وزرا نے طلبہ کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button