ترک صدر طیب اردوان دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ اردوان کا استقبال کیا۔بعدازاں وزیراعظم ہاؤس میں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
ترک صدر کی آمد کے موقع پر نور خان ایئربیس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور نور خان ایئر بیس سے لے کر ریڈ زون تک سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں استقبالی پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں.
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے ترک ہم منصب طیب اردوان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ترک صدر رجب طیب اُردوگان کل دن 11 بجے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ترک صدر کے خطاب کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے مہمانوں اور میڈیا کے نمائندوں کو خصوصی دعوت نامے جاری کیے گے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چاورں صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنرز، صدر، وزیراعظم اور سپیکر آزاد کشمیر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اجلاس میں غیر ملکی سفیر، مسلح افواج کے سربراہان کو بھی خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور گورنر سٹیٹ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔


طیب اردوان کے دورے کے دوران دفاع، ریلوے، اطلاعات، معیشت اور تجارت پر متعدد معاہدے ہوں گے جب کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوہری شہریت کے ایک معاہدے پر بھی دستخط ہوں گے۔ ترک صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد وزیراعظم عمران خان ترک صدر کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔ دونوں رہنما پاک ترک اسٹریٹجک تعاون کونسل کی مشترکہ صدارت کریں گے جس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔صدر طیب اردوان اور وزیر اعظم عمران خان مشترکہ نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔
ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناودولو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں ترک سفیر مصطفیٰ یرداکل نے کہا تھا کہ رجب طیب اردوان کا دورہ اسلام آباد تاریخی موقع ہے اور دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی جانب اہم قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) تکمیل کے مراحل میں ہے اور ترکی اس منصوبے میں قائم ہونے خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button