کورونا وائرس:فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے طبی عملے کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کردیا، صوبائی وزراء صحت اور ماہرین سے بھی اس پیکج کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے۔ ڈاکٹرظفرمرزا کا کہنا ہے کہ خصوصی پیکج کورونا وائرس کے خلاف نبرد آزما ڈاکٹرز اور طبی عملے کےلیے ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کووڈ 19 کی وبا کے دوران فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز (صف اول کے صحت رضاکاروں) کےلیے خصوصی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پیکج کو بنانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ کچھ عرصے قبل ہم نے این سی او سی کے پلیٹ فارم سے ملک بھر کے اہم ڈاکٹرز، ہیلتھ پروفیشنلرز کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کیا اور ان کے ساتھ کئی ویڈیو کانفرنسز کی گئیں اور ہم نے ان کے تحفظات کو نوٹ کیا۔
ظفر مرزا نے کہا کہ اس کے علاوہ تمام صوبوں کے وزرائے صحت کے صحت انفرادی اور اجتماعی طور پر بات کی گئی، جہاں ان کی طرف سے بہت اچھی تجاویز آئیں اور بہت سے خیالات نظرثانی کی گئی اور ان رابطوں کی روشنی میں اس پیکج کو تشکیل دیا۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ اس پیکج کا اعلان قومی سطح پر کیا جارہا ہے اور اس کا اطلاق ہم نے اپنی اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کرنا ہے جب کہ ظاہر سی بات ہے اس میں کچھ لچک دکھانے بھی ضرورت ہے جسے صوبائی سطح پر استعمال بھی کیا جائے گا۔
دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز ہمارا ہر اولین دستہ ہیں اور ہم مکمل طور پر ان پر منحصر ہیں، ہمارے ہیلتھ ورکرز ہمیں بہت عزیز ہیں، یہ ہمارے ہیروز ہیں اور ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں کہ ایک خطرناک حالات میں بھی وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یقیناً کوئی پیکج ان چیزوں کا مداوا نہیں کرسکتی جو یہ ہیلتھ ورکرز کر رہے ہیں۔ معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ ڈاکٹر اور صحت ورکرز کےلیے یہ ریلیف پیکج 7 گروپس پر مشتمل ہے اور ہر گروپ میں کے مختلف نکات ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے ان 7 گروپس کے بارے میں آگاہ کیا جس میں یہ گروپ شامل ہیں۔
مالی مراعات
فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کا تحفظ
میڈیکل پروفیشنلز کی تربیت
سپورٹ میکانزم
ڈاکٹرز اور ان کے اہل خانہ کی صحت کا تحفظ
صحت کے نجی شعبے کو مراعات کی فراہمی
قومی سطح پر ان ہیروز کی یاد
انہوں نے مالی مراعات کے حوالے سے بتایا کہ یہ طے کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے لیے ہم ٹیکسز کی صورت میں کچھ سہولیات فراہم کریں گے اور انہیں انکم ٹیکس کی ریٹرن کی صورت میں کچھ رعایات دی جائیں گی۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کو ٹیکسز میں چھوٹ دی جائے۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر ہم نے یہ اعلان کیا تھا کہ کووڈ 19 مریضوں کی نگہداشت اور علاج معالجے کے دوران اگر کوئی ہیلتھ ورکر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو اس کے لیے ایک شہدا پیکج کا اعلان کیا گیا تھا اور اس میں جو معاوضہ ادا کیا جائے گا اس کی رقم 30 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک ہے جب کہ مختلف گریڈز کے حوالے سے اس کا تعین کیا جاتا ہے۔
پیکج کے دوسرے گروپ کے بارے میں بتاتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ذاتی تحفظ کے سامان (پی پی ایز) یعنی ماسک این 95، گوگلز و دیگر چیزوں کی دستیابی ابتدائی دنوں میں مشکل تھی تاہم ہم نے اس کی متواتر دستیابی کو یقینی بنانے کےلیے این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام ترتیب دیا کہ اب ہفتہ وار ضروریات کے مطابق دستیاب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان سامان کی دستیابی کی کمی نہیں ہے تاہم کچھ جگہ پر انتظامی معاملات اور اس کے غلط استعمال کے معاملات ہیں۔
دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کے حوالے سے ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ بعض مریضوں کے لواحقین جب یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پیاروں کا علاج تسلی بخش نہیں ہورہا تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، ہنگامہ آرائی کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کو زدوکوب کرتے ہیں جب کہ کچھ پرتشدد واقعات بھی سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال اس چیز کی متقاضی ہے کہ ہم ایسے ہسپتال جہاں کورونا وائرس کے مریض ہیں ان کی سکیورٹی کو فول پروف بنائیں اور وہاں ایسے انتظامات کریں جس کے تحت ایسی کوئی حرکت نہ ہوسکے جو ہمارے ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کو غیر یقینی بنا دیے، اسی سلسلے میں تمام اسپتالوں کی سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ایسا بھی دیکھا گیا کہ اپنی ذاتی وجوہات کی بنیاد پر بعض الیکٹرانک میڈیا پر ڈاکٹرز کی کردار کشی کے واقعات بھی سامنے آئے، جس کو دیکھتے ہوئے اب ہم پیمرا کے ساتھ مل کر ایک ضابطہ اخلاق بنائیں گے تاکہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کے خلاف میڈیا میں کوئی غلط بات نہ کی جاسکے۔
تیسرے گروپ یعنی تربیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس حوالے سے 2 طرح کی تربیت ہورہی ہیں جس میں ایک چینی یونیورسٹی ہانگ کانگ کے ساتھ مل کر تقریباً 5 ہزار صحت ورکرز کے انتہائی اہم تربیت کےلیے 8 روز کا ایک کورس تربیت دیا جب کہ دوسری طرح کی تربیت پی پی ایز کے صحیح استعمال سے متعلق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسی سلسلے میں ‘وی کیئر’ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا جس کے ذریعے ہم ایک لاکھ ہیلتھ ورکرز کی تربیت کریں گے۔
چوتھے گروپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وی کیئر پروگرام کا ایک جزو ہے کہ ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے دوران پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل، اضطراب (انزائٹی) کو دور کرنے کےلیے ایک ‘سائیکو سوشو سپورٹ’ کا انتظام کیا گیا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اب 1166 ہیلپ لائن میں ہم یہ توسیع کر رہے ہیں کہ ہمارے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اپنے ذاتی مسئلے پر مدد کےلیے اس نمبر پر کال کرکے ماہر سے بات کرسکیں گے۔
پیکج کے 5ویں گروپ کے بارے میں معاون خصوصی برائے صحت کا کہنا تھا کہ یہ گروپ ہیلتھ ورکرز کی صحت کی دیکھ بھال سے متعلق ہے اور اس وقت پاکستان میں ہمارے ہیلتھ ورکرز کا 3 فیصد ایسا ہے کہ جسے براہ راست یا بالواسطہ کووڈ 19 کا انفیکشن ہوا اور ان میں سے کچھ جانبر نہ ہوسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی نسبت دوسرے ممالک میں ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے، ہم نے اس پیکج میں 3 چیزیں شامل کی ہیں، جس کے تحت اگر ہمارے ہیلتھ ورکرز کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی ضرورت ہوئی تو یہ ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے، اس کے علاوہ اگر کسی ورکرز کو کورونا وائرس ہوجاتا ہے اور اس کی حالت خراب ہوتی ہے تو ترجیحی بنیادوں پر وہ ادویات فراہم کی جائیں گی جو موثر ہیں جب کہ اگر ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کے اہل خانہ متاثر ہوجائیں تو ان کے سرکاری یا نجی اسپتال میں علاج کی ذمہ داری حکومت لے گی۔
ریلیف پیکج کے چھٹے حصے کے بارے میں بات کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے صحت نے بتایا کہ چھٹا گروپ صحت کے نجی شعبے کی مدد سے متعلق ہے اور مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ اسٹیٹ بینک پاکستان نے کورونا وائرس سے لڑنے والوں کےلیے ری فنانسنگ سہولت متعارف کروائی ہوئی ہے جس کے تحت وہ نجی اسپتالوں کے مالکان کا صحت کے نجی شعبے سے وابستہ افراد کو رعایتی بنیادوں پر قرضے فراہم کررہے ہیں اور اس میں زیادہ سے زیادہ شرح سود 3 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر نجی اسپتالوں کو یہ قرضے ان کے اسٹاف کی تنخواہوں کےلیے ادا کیے جارہے ہیں جب کہ اس گروپ میں ایک اور چیز یہ ہے کہ نجی شعبے کے ہسپتال اگر نگہداشت کے حوالے سے کوئی سامان یا مشینری درآمد کرنا چاہیں گے تو ہم ٹیکسز میں رعایت دیں گے اور حتی الامکان ٹیکس فری درآمد کی اجازت دیں گے۔
ریلیف کے آخری گروپ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہم ایک پروگرام ترتیب دے رہے ہیں کہ ہم اپنے شہدا اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ہم اپنے قومی دن پر یاد کریں گے اور کس طرح انہیں قومی سطح پر خراج تحسین پیش کریں گے اس سلسلے میں بھی ایک پروگرام تربیب دیا جارہا ہے۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کہ یہ 7 گروپس پر مشتمل 15 نکات کا پیکج حکومت کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے کہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو تسلیم کریں اور ہماری کوشش ہوگی کہ آنے والے دنوں میں اس سے کچھ زیادہ کرسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں اس سلسلے میں ایک دستاویز جاری کریں گے جس میں ہر نکتے کی تفصیلات واضح کی جائیں گی۔
