کورونا وائرس: وفاق کے انتظامات ناکافی ہیں

حکومت سندھ نے کورونا وائرس سے متعلق وفاقی حکومت کے انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں جتنے بھی کیسز سامنے آئے بیرون ملک سے آئے اور انہیں ایئرپورٹس پر نہیں روکا گیا۔ سی پورٹ، ائیرپورٹ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، ایئرہورٹس کی مانیٹرنگ کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا وائرس پر یومیہ بنیادوں پر بریفنگ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے کورونا وائرس کا پہلا کیا سامنے آیا سندھ حکومت متحرک ہوگئی تھی، پہلے مریض کی ٹریول ہسٹری کے سامنے آنے کے بعد سے متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کا ڈیٹا جمع کیا اور معلوم ہوا کہ 2 ہزار 300 لوگ ایران سے 15 جنوری کے بعد سندھ میں داخل ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘ان تمام لوگوں سے رابطے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائی ہیں اور تمام لوگوں سے رابطے ہوگئے ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘محکمہ صحت کے عملے نے ان کا طبی معائنہ کیا، اب تک 188 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں ان میں سے کُل 14 لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہیں’۔ انہوں نے گزشتہ روز سندھ کے محکمہ صحت کی میڈیا کو آرڈینیٹر کی جانب سے بتائی سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کی نفی کرتے ہوئے بتایا کہ ‘اب تک 15 نہیں بلکہ 14 لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جن میں سے ایک مریض صحت یاب بھی ہوگیا ہے جبکہ باقی 13 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے’۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں سب سے زیادہ افراد کا چیک آپ کیا گیا ہے اور متاثرہ تمام 14 لوگ بیرون ممالک سے پاکستان آئے جبکہ اب تک کوئی مقامی مریض سامنے نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘یہاں ایک اور اہم چیز ہے کہ تمام 14 متاثرہ افراد ہوائی جہاز کے ذریعے 3 مختلف ممالک سے پاکستان آئے ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پورٹ، ائیرپورٹ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، ایئرہورٹس کی مانیٹرنگ کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کا کہ ‘پہلے روز سے سندھ حکومت وفاق سے ایئرہورٹس پر مانیٹرنگ ٹھیک کرنے کا بول رہی ہے، اگر وفاقی حکومت کی مانیٹرنگ درست ہوجاتی تو صورتحال یہ نہ ہوتی’۔ انہوں نے کہا کہ ‘موثر نگرانی کی جارہی ہوتی تو تمام کیسز کی ایئرپورٹ پر تشخیص ہوجاتی اور یہ سندھ میں داخل نہیں ہوپاتے’۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے وفاقی حکومت کی توجہ اس طرف نظر نہیں آتی، حال ہی میں ایک معروف لکھاری سعودی عرب سے پاکستان آئیں اور انہوں نے لکھا کہ ایئرپورٹ پر مجھ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔
گزشتہ روز کوئٹہ میں 12 سالہ بچے میں سامنے آنے والے کیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 27 تاریخ کو وہ بچہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ سرحد پر پہنچا تھا جسے وہاں قرنطینہ میں رکھا گیا اور 9 تاریخ کو قرنطینہ کو توڑتے ہوئے اسے کوئٹہ منتقل کیا گیا تاکہ ٹیسٹ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پر ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجود ہونی چاہیے تھی اور یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کالج میں شرکت ہر طالب علم پر لازمی ہے، پی ایس ایل ضروری نہیں، اسکول کی چھٹیوں کے ختم ہونے میں کچھ روز باقی ہیں اور اس حوالے سے حکومت عوام کے مفاد میں فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت تکلیف کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے، ابھی تک صورتحال قابو میں ہے اور عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔
