کٹھ پتلی کپتان بمقابلہ اشارے لینے والی اپوزیشن


معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت جس سیاسی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں اسکی ذمہ دار نہ تو اپوزیشن ہے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کیونکہ اسکے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ لیکن ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کو پاکستانی تاریخ کی کمزور ترین اپوزیشن ملی ہے۔
مظہر عباس اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ حزب اختلاف تو عمران کی نظر میں چور، ڈاکو اور مافیا ہے مگر عمران سے تو ان کے اپنے بھی خفا ہیں، چاہے وہ انکے اتحادی ہوں یا پھر پی ٹی آئی والے۔ لیکن اس کے باوجود مجھے نہ تو حکومت خطرے میں نظر آرہی ہے اور نہ ہی کپتان پویلین کی طرف واپس جاتا ظر آرہا ہے البتہ زلزلے کے ہلکے جھٹکے ضرور محسوس ہورہے ہیں خصوصا اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں۔مظہر کہتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے اور عمران پہلے وزیراعظم بنیں جو پانچ سال پورے کریں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت کی کارکردگی تباہ کن ہے اور اس نے مہنگائی کا جو طوفان بر پا کر دیا ہے وہ اب کسی کے قابو میں نہیں آ رہا جس سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔
بقول مظہر عباس، اگر کوئی تگڑی اپوزیشن ہوتی تو شاید ان حالات میں عمران کے کیے حکومت چلانا مشکل ہوجاتا مگر وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک ایسی اپوزیشن ملی یے جو خود اختلافات کا شکار ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتی یے۔ یہ سب ان ’اشاروں‘ کے کمالات ہیں کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے ورنہ آج صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ نہ ہوتے، عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجاتی، حاصل بزنجو مرحوم چیئرمین ہوجاتے، یوسف رضا گیلانی کو وہ سب نہیں کرنا پڑتا جو انہوں نے کیا۔ لہٰذا ابھی خان کے اتحادی دھمکیاں دینے اور اظہار ناراضی کے بعد بار بار ان کے پاس واپس لوٹ اتے ہیں۔ ظاہر یے کہ جن کے کہنے پر وہ خان کے ساتھ آئے تھے، انہی کے کہنے پر وہ کہیں اور جائیں گے لیکن ابھی انہیں اس بارے واضح اشارے آنے شروع نہیں ہوئے۔ لیکن 20 نومبر کے بعد یہ اشارے بھی ملنا شروع ہوجائیں گے۔
بقول مظہر، مسند اقتدار پر فائز اکثر حکمرانوں کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ انہیں ایوانوں سے باہر کا موسم محسوس نہیں ہوتا۔ زلزلے کے جھٹکے آئیں بھی تو پتا نہیں چلتا۔ رہ گئی بات درباریوں کی تو یہ تو وہ گرگٹ ہیں جنہیں دیکھ کر خود گرگٹ بھی شرما جاتا ہے کہ اتنی تیزی سے تو میں بھی رنگ نہیں بدلتا۔ اشاروں کی سیاست میں سب چیزیں اچانک ہی ہوا کرتی ہیں۔ عین ممکن ہے ابھی تک بات اس حد تک نہ بگڑی ہو کہ تبدیلی کی ہوا چل پڑے۔ خان صاحب کی حکومت تو ویسے بھی اشاروں کے سہارے کھڑی ہے۔
مظہر عباس کا کہنا یے کہ بظاہر عمران کو ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر غیر ضروری تنازع کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں تھی مگر شاید آئندہ الیکشن سے پہلے ان کے اندر بھی یہ خواہش پیدا ہو گئی ہے کہ اداروں کو مزید آزاد اور خودمختار بنانے کے بجائے کنٹرول کرنا ضروری یے۔ چنانچہ سب سے پہلے میڈیا کو سبق سکھانے کے لیے مختلف طور طریقے اپنائے گئے۔ پھر الیکشن کمیشن کو نکیل ڈالنے کے لیے اس پر جھوٹے الزامات عائد کیے گئے۔
اس کے بعد چیئرمین نیب کو مکمل طور پر وزیراعظم کا نائب بنانے کی خاطر صدارتی آرڈیننس نافذ کر دیئے گئے۔ لہکن ابھی یہ معاملات نہیں سدھرے تھے کہ آرمی چیف کی طرف سے نئے ڈی جی ISI کی تقرری کا معاملہ آگیا لیکن اپنی تمام تر بڑھکوں کے باوجود عمران کو وہی کرنا پڑا جو طے ہو چکا تھا۔
مظہر یاد دلاتے ہیں کہ دوسری جانب بھان متی کے کنبے پر مبنی عمران حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ جن لوگوں کو خان صاحب چور ڈاکو کہتے نہیں تھکتے تھے، وہ سب انکے حکومتی اتحادی ہیں۔ ذرا غور کریں کہ پنجاب میں آپ کی حکومت مسلم لیگ (ق) کی مرہونِ منت ہے اور اندازِ حکمرانی یہ ہے کہ چوہدریوں کو آپ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور انہیں لٹیرے قرار دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ تو موصوف نے مونس الٰہی کے منہ پر کہہ دیا تھا کہ مجھے تمہاری شکل ہی پسند نہیں۔ مگر موسم بدلا تو اسی کو وفاقی وزیر بنانا پڑا۔ یعنی کل کے چور ڈاکو اور لٹیرے آج کپتان کے ساتھی اور اتحادی ہیں۔ ظاہر ہے بھاڑے کے ٹٹووں پر مشتمل حکومت بنے گی تو ایسی ہی ہوگی۔
لیکن بقول مظہر، عمران خان خوش قسمت ہیں کہ انہیں پاکستانی تاریخ کی کمزور ترین اپوزیشن ملی ہے جو اشارے کے بغیر کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔ اپوزیشن دسمبر میں اپنی نہ چلنے والی تحریک کی پہلی سالگرہ منائے گی کیونکہ یہ پچھلے دسمبر میں حکومت کو گھر بھیج رہی تھی۔ اب ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی باتیں ہورہی ہیں جس کی جوابی تیاری کے لیے اسد عمر کٹ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ لانگ مارچ کہ کوئی تاریخ دی جاتی ہے یا پھر اسے خرابی موسم کے اشارے ملنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دیا جائے گا کیونکہ اسوقت ہماری قومی سیاست کا دارومدار ’اشاروں‘ پر ہے اور اشارے لینے والے اشارے دینے والوں کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔

Back to top button