کپتان سرکار نے پٹرول بم گرا دیا، عوام بلبلا اٹھے

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر مہنگائی کی چکی میں پسی عوام پرعوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے.
کپتان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تسلسل کوبرقرار رکھا اور ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جسکے بعد پٹرول کی نئی قیمت 127 روپے 30 پیسے ہو گئی ہے۔ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، ڈیزل کی قیمت 122 روپے 4 پیسے ہو گئی ہے۔ اُدھر لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد قیمت 99 روپے 51 پیسے قیمت ہو گئی ہے۔مزید برآں مٹی کے تیل کی قیمت 7 روپے 2 پیسے بڑھا دی گئی جس کے بعد نئی قیمت 99 روپے 31 پیسے ہو گئی ہے۔
حکومت پاکستان کے فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تفصیل کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اوگرا نے قیمتوں میں زیادہ اضافے کی کوشش کی تاہم وزیراعظم نے تجویز کے برخلاف کم سے کم اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم قیمتیں ریجن میں سب سے کم ہیں۔
یاد رہے کہ 15 روز قبل اوگرا کی طرف سے وزارت خزانہ کو بھیجی گئی سمری کے برعکس وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا تھا، پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت پٹرول کی نئی قیمت 123 روپے 30 پیسے ہو گئی تھی۔وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 1 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 120روپے 4 پیسےفی لٹر ہو گئی تھی۔نوٹیفکیشن کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 90 روپے 69 پیسے ہو گئی تھی۔نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 42 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 92 روپے 26 پیسے فی لٹر ہو گئی تھی۔
