کپتان کونجات دہندہ قرار دینے والے حسن نثار کا نرالا یوٹرن

ماضی میں عمران خان کو ملک کا نجات دہندہ قرار دینے والے کپتان کے سپورٹر نمبر ون معروف صحافی حسن نثار نے اب وزیر اعظم کی تباہ کن کارکردگی پر مایوس ہوکر ملک چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے بجائے کہ صحافتی محاذ سنبھالے رکھتے اور کپتان کی بھی ویسے ہی دھلائی کرتے جیسے ماضی میں وہ پچھلے ناکام حکمرانوں کی کرتے چلے آئے ہیں۔
حسن نثار کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام میں لائیو اپنے خاندان سمیت پاکستان چھوڑنے کے اعلان کے بعد انھیں سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ ان کی کپتان سرکار سے مایوسی بارے مختلف لطائف بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے ہی حسن نثار انہیں پاکستان کی آخری امید قرار دے چکے تھے۔ تاہم اپنے کپتان کی ناکام ترین پرفارمنس دیکھ کر اب حسن نثار منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ پچھلے ماہ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران عمران خان کو سپورٹ کرنے پر خود پر لعنت بھیجی تھی اور اب انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان اس قابل نہیں رہ گیا کہ وہ یہاں اپنے بال بچوں کے ساتھ مزید رہنے کا رسک لیں۔ لہذا انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حسن نثار کے ملک چھوڑنے کے اعلان پر ایک سوشل میڈیا صارف نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک لطیفہ بیان کیا ہے جو کہ حسن نثار پر بالکل صادق آتا ہے۔ لطیفہ کچھ یوں ہے: پرنام سنگھ ایک پائلٹ تھا اور امریکا فلائیٹ لے کر جا رہا تھا، جہاز کو پرواز کئے چار گھنٹے گزر چکے تھے کچھ مسافر سو رہے تھے کچھ جاگ رہے تھے۔ اچانک سپيکر پر کپتان کی آواز ابھری "خواتين و حضرات ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاز کا کپتان آپ سے مخاطب ہے۔ نيويارک جانے والي پرواز پر ہم چار گھنٹے کا سفر کر چکے ہيں، 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ہم اس وقت بحراوقيانوس کے عين درميان ميں ہيں”
"اگر آپ دائيں بائيں کی کھڑکيوں سے باہر جھانک کر ديکھيں تو آپ کو نظر آئے گا کہ جہاز کے چاروں انجنوں ميں آگ لگی ہوئی ہے”
"اگرآپ جہاز کے پچھلے حصے ميں جاکر ديکھيں تو پتا چلے گا کہ جہاز کی دم چند لمحوں بعد ٹوٹ کر عليحدہ ہو جائے گی”
“اگر آپ کھڑکی سے نيچے ديکھيں تو آپ کو پيلے رنگ کی چھوٹی سی لائف بوٹ نظرآئے گی، جس ميں سوار تين آدمی آپ کی طرف ديکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہيں”
“يہ تين آدمی ہیں ميں یعنی پرنام سنگھ، ميرا معاون پائلٹ کورنام سنگھ اور نيوي گيٹر بنتاسنگھ ہيں۔ سپيکر پر جو آواز آپ سن رہے ہيں وہ پہلے سے ريکارڈ شدہ ہے، واہے گرو آپ کو اپنی پناہ ميں رکھے، اجازت چاہتا ہوں ست سري اکال۔
سوشل میڈیا صارف نے یہ لطیفہ بیان کرنے کے بعد مزید لکھا کہ حسن نثار نے بھی پاکستانی قوم کے ساتھ سکھ پائلٹ والا سلوک کیا ہے۔ ماضی میں ہمیں وہ اپنے بلند بانگ دعوؤں کے ذریعہ امید دلاتے رہے کہ عمران خان اقتدار میں آئے گا تو ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا، میرٹ کا بول بالا ہوگا، عوام کی زندگی آسودہ ہو جائے گی، مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا، ملکی قرضے اتر جائیں گے لیکن افسوس ان میں سے کوئی بھی دعویٰ پورا نہ ہوا اور وزیر اعظم نے یوٹرن پر یوٹرن لیتے ہوئے عوام کی زنگی اجیرن بنا دی۔ تاہم مقام افسوس یہ بھی ہے کہ ہم نے جن لوگوں کی یقین دہانیوں پر عمران خان کو ووٹ دئیے وہ ہمیں اس گرداب اور اذیت میں چھوڑ کرخود آہستہ آہستہ اڑن چھو ہو رہے ہیں بجائے کہ اس کی بھی ویسے ہی دھلائی کریں جیسے کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی کرتے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف حکومت کی پرفارمنس سے مایوس ہو کرملک چھوڑنے کا اعلان کرنے والےحسن نثار کپتان کے پرزور حامی رہے ہیں لیکن انکی حکومت کی ناکام ترین پرفارمنس کے بعد اب وہ خود پر نہ صرف لعن طعن کر رہے ہیں بلکہ ملک چھوڑ کر جانے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔ ملک کے مسلسل بگڑتی امن وامان کی صورتحال اور معاشی زبوں حالی بارے اپنے ٹی وی پروگرام ” میرے مطابق” میں گفتگو کرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک کیلئے آخری امید تھے، لیکن ان کے غلط فیصلوں نے مجھے پاکستان میں رہنے کے فیصلے پر نظر ثانی پر مجبور کردیا۔ حسن نثار نے اعلان کیا "میں خود بمعہ اہل و عیال غائب ہونے کا سوچ رہا ہوں کیونکہ پاکستان اب شرفا کے رہنے کی جگہ نہیں رہی ہے، میں کوئی پاگل ہوں، میں پڑھا لکھا آدمی ہوں، نہ میں بلا وجہ خوش ہوتا ہے اور نہ ہی بلا وجہ مایوس ہوتا ہوں، ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا کہا جاتا ہے لیکن مایوسی سے بچنے اور اللہ کی رحمت کے حصول کیلئے زخمت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے اسی لئے میں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں حسن نثار اپنے ایک خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ میری پہلی غلطی یہ تھی کہ میں عمران کے حوالے سے توقعات کو بہت اوپر لے گیا تھا جبکہ دوسری غلطی میں نے یہ کی کہ پکا یقین کر لیا کہ عمران خان آگیا ہے تو اب پتہ نہیں کونسی توپ چل جائے گی۔ حسن نثار نے انتہائی ندامت کے ساتھ اعتراف کیا کہ مجھے اس حد تک نہیں جانا چاہیے تھا۔ بہتر تھا کہ اگر میں عمران کو سپورٹ کرتا تو مناسب طریقے سے کرتا۔ مجھے ان کے دعوؤں پر اندھا دھند یقین نہیں کرنا چاہئے تھا۔
