کپتان کے تاریخی یوٹرنز کی مکمل کہانی

وزیراعظم عمران خان کو اگر ملکی سیاست میں یو ٹرن کا بے تاج بادشاہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، جب کہ وہ خود بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بروقت یوٹرن لینا عظیم لیڈروں کا شیوہ ہوتا ہے۔ ماضی میں کپتان کے بہت سے یوٹرن ہیڈ لائینز بنے۔ لیکن وہ مستقبل میں بھی یو ٹرن لینے کے حوالے سے پرعزم رہے۔ آج ہم آپ کو کپتان کے کچھ ایسے ہی شاہکار یوٹرنز کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں خان صاحب کے ان سنہرے الفاظ کا جن میں انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے آئین توڑنے پر پھانسی کا مطالبہ کیا لیکن جب مشرف کو عدالت نے سزا سنائی تو خان صاحب یو ٹرن لے کر مشرف کے حق میں دلائل دینے لگے۔
ایک دور تھا جب خان صاحب آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کے فعل کو دیگر فوجی افسران کے ساتھ زیادتی تصور کرتے تھے تاہم جیسے ہی جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا معاملہ آیا تو خان صاحب نے حسب عادت یو ٹرن لیا اور جنرل باجوہ کی توسیع کے فضائل بیان کرنے لگے۔
ایک وقت وہ بھی تھا جب خان صاحب پرویز الہٰی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے پھر وہ وقت بھی آیا جب کپتان ق لیگ کے سہارے حکومت چلانے لگے اور پھر اسی ڈاکو کو انہوں نے پنجاب اسمبلی کا اسپیکر بھی بنا دیا۔
وہ شیخ رشید جو دھرنے کے دنوں میں خان صاحب کے دل کے قریب، سیاست میں پیش پیش رہے۔ قربت کا یہ عالم کہ یہ تک کہہ دیا کہ میری اور شیخ رشید کی سوچ ایک ہے، جی ہاں یہ وہ ہی موصوف ہیں، جو اب موجودہ حکومت میں وزیر ریلوے کے منصب پر فائز ہوئے ، ان کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں شیخ رشید جیسے شخص کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔
سال 2013ء کے انتخابات کے تناظر میں عمران خان نے معروف صحافی اور سابق نگراں وزیراعلیٰ نجم سیٹھی پر 35 پنکچر کا الزام لگایا اور یہاں تک کہا کہ ان کے پاس پینتیس پنکچر کی ٹیپ ہے، لیکن بعد میں یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بیان سیاسی تھا۔
حالیہ دنوں کی ہی مثال لے لیں، عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ میں وزیراعظم بن گیا تو کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا اور اگر ایسا کیا تو خودکشی کرلوں گا، تاہم کچھ ہی عرصہ نہ گزرا کہ عمران خان نے عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ حاصل کرلیا۔
ملائیشیا اور ترکی کے ساتھ مل کر اسلاموفوبیا کے خلاف مشن کا اعلان کرنے والے عمران خان نے اس وقت عالمی یو ٹرن لیا جب انہوں نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے اچانک انکار کردیا۔
ان تمام یو ٹرنز کے علاوہ عمران خان کے دیگر بھی کئی فیصلے ہیں جو انہیں عظیم لیڈر کی فہرست میں شامل کرتے ہیں جن میں 1 کروڑ نوکریوں کے وعدے سے پھرنے سے لیکر 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے چھوٹے موٹے مختلف مواقعوں پر لئے گئے یوٹرنز سنہرے الفاظ میں لکھے جائیں گے۔
