کپتان کے لاڈلے واوڈا کی رسی شیطان کی طرح دراز کیوں ہے؟

اپنے خلاف دائر کردہ دوہری شہریت نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن سے پچھلے ڈیڈھ برس سے بہانے بازی کرتے ہوئے تاریخ پر تاریخ حاصل کرنے والے کپتان کے لاڈلے وفاقی وزیر فیصل واوڈا 24 فروری کو ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکاری رہے حالانکہ پچھلی سماعت پر انہیں آج ذاتی طور پر پیش ہونے کے لیے انہیں آخری موقع دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا جانتے تھے کہ دوہری شہریت کیس میں ان پر بطور ممبر قومی اسمبلی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے اور اگر وہ الیکشن کمیشن کے ہاتھوں سینٹ کے الیکشن سے پہلے نااہل قرار دے دیے گئے تو پھر وہ ایوان بالا کا رکن بننے کے بھی اہل نہیں رہیں گے لہذا انہوں نے بہتر یہی سمجھا کہ وہ اپنی امی جان کی خراب صحت کی آڑ میں میں پیشی سے اجتناب کریں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا ہے اور اس کی اتھارٹی کا مذاق اڑایا ہے۔ وہ پچھلی سماعت پر بھی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے گونگلوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے واوڈا پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا اور کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے انہیں پیشی کی آخری مہلت دی تھی تاکہ وہ اپنی دوہری شہریت کے حوالے سے حلفیہ بیان دے سکیں اور کیس کا فیصلہ ہو سکے۔
تاہم ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ دکھانے والے فیصل واوڈا 24 فروری کو بھی پیش نہیں ہوئے اور ثابت کیا کہ وہ الیکشن کمیشن سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے بھی ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر ان کی رسی دراز کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 10 فروری کو مقرر کر دیں تاکہ 3 فروری کے سینٹ الیکشن میں فیصل واوڈا آسانی سے کامیاب ہو جائیں۔اس موقع پر عمران خان کے فارن فندنگ کیس کو لٹکانے والے چیف الیکشن کمشنر نے یہ حکم بھی دیا کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا اگلی پیشی پر اپنی دوہری شہریت کے حوالے سے موقف پیش کریں حالانکہ الیکشن کمیشن کے پاس 2018 کے الیکشن کے وقت کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت فیصل واوڈا کے امریکی شہری ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے رویے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وزیر موصوف کے لیے حکومتی دباو کی وجہ سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
اب الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو نااہلی کیس میں 10 مارچ کو طلب کر لیا ہے اور پچھلی سماعت میں ان پر عائد 50 ہزار روپے جرمانے کی رقم پاکستان سویٹ ہوم کو دینے کی ہدایت کی ہے۔ 24 فروری کو سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے وفاقی وزیر کی طلبی کے باوجود عدم حاضری پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے ان کے وکیل محمد بن محسن سے کہا کہ صاف صاف بتائیں فیصل واوڈا کیوں نہیں آئے؟ کیا وہ قانون سے بالاتر ہیں؟ ممبر پنجاب الطاف ابراہیم کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔ واوڈا کے وکیل محمد بن حسن نے بہانہ بنایا کہ انہیں گذشتہ سماعت کا حکم نامہ نہیں ملا تھا جس میں فیصل واوڈا کو طلب کیا گیا تھا لیکن آئیندہ الیکشن کمیشن کا حکم سر آنکھوں پر ہوگا۔ وکیل نے کہا کہ واوڈا کی امی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جس وجہ سے وہ لاہور میں ہیں اور اسلام آباد نہیں پہنچ سکے۔ اس پر پنجاب کے ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ’جہاں آپ نے اتنے جھوٹ بولے ہیں وہاں ایک جھوٹ جہاز کا ٹکٹ نہ ملنے کا بھی بول دیتے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا صرف ہمیں آ کر بتا دیتے کہ میں نے فلاں تاریخ کو دہری شہریت چھوڑدی تھی۔‘ سماعت کے دوران فیصل واوڈا کے وکیل نے انکے ذاتی حیثیت میں طلبی کا حکم واپس لینے کی درخواست دائر کر دی جسے الیکسن کمیشن نے مسترد کر دیا اور وفاقی وزیر کو دوبارہ اگلی سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ ممبر الیکشن کمیشن ارشاد قیصر کا کہنا تھا کہ ’کمیشن پہلے ہی حکم جاری کر چکا ہے۔ ہم کس قانون کے تحت اپنے حکم پر نظرثانی کریں؟‘
واوڈا کے وکیل نے کہا کہ’ پہلے کمیشن اپنے دائرہ اختیار اور درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کرے۔ الیکشن کمیشن ڈیڑھ سال بعد نااہلی درخواستوں پر سماعت نہیں کر سکتا جس پر ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کو سماعت کا اختیار نہیں؟ خوامخواہ کیس کو لٹکانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ آج تک فیصل واووڈا نے جواب بھی جمع نہیں کرایا۔ بہتر یہی ہو گا کہ آپ اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔ انہون نے کہا کہ فیصل واوڈا جس پارلیمان کے رکن ہیں کیا انہیں اسکی بالادستی کا احترام نہیں؟ بعد میں فیصل واوڈا کے وکیل نے ان کی عدم پیشی پر الیکشن کمیشن سے معذرت کر لی جس کے بعد کیس کی سماعت 10 مارچ تک ملتوی کر دی۔ لیکن شنید یہی ہے کہ فیصل واوڈا تین مارچ کو سینیٹر منتخب ہونے کے بعد بطور ممبر قومی اسمبلی استعفی دے دیں گے اور یوں وہ نااہلی سے بھی بچ جائیں گے اور الیکشن کمیشن کے سامنے پیش بھی نہیں ہونا پڑے گا۔
دوسری جانب اپوزیشن ناقدین کا کہنا یے کہ تمام تر حقائق سامنے ہونے کے باوجود فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت نااہلی کیس میں انصاف کا دوہرا معیار اپنا رکھا ہے اور لمبی لمبی تاریخیں ڈال کر معاملہ لٹکایا جا رہا ہے جسکا واحد مقصد عمران خان کے لاڈلے کو نااہلی سے بچانا ہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ واوڈا کے پاس وہ کونسی طاقت ہے جو انہیں انکو بچائے چلے جا رہی ہے۔
