کیا اب صدر زرداری ایک طاقتور کمانڈر انچیف ثابت ہوں گے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ اقتدار کے جوڑ توڑ میں صدر آصف زرداری کی اہمیت مسلمہ ہو چکی ہے ۔ حکومت ، تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ سب کو صدر زرداری کی مدد چاہئے ہوگی۔ سال 2025ء میں اہم واقعات ہونے کو ہیں حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے مستقبل کا انحصار ، صدر زرداری کا صوابدیدی اختیار بن چکا ہے۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ نیازی امکان ظاہر کرتے ہیں کہ کیا بعید کہ سال 2026 تک اسٹیبلشمنٹ اور آصف زرداری کے دل سے شہباز حکومت اُتر جائے ۔ کسی بھی موقع پراگر پیپلز پارٹی نے اپنی حمایت واپس لے لی تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک مشکل ترین صورتحال کا سامنا ہوگا۔آنے والے ہر دن نے مملکت کو غیر یقینی سے دوچار رکھنا ہے۔ جبکہ صدر زرداری اپنی شرائط پر تینوں فریقوں کو دباؤ میں رکھیں گے۔ بلاول بھٹو کو وزیراعظم دیکھنے کا خواب شرمندہِ تعبیر ہونے کے قریب ہے۔ حفیظ اللّہ نیازی لکھتے ہیں کہ 8 فروری کے انتخابات کے نتائج پر طبع آزمائی جاری ھے ، مسلم لیگ ن کی غیر مستحکم حکومت وجود پا چکی ہے ۔ چار سُو ایک ہی سوال پوچھا جارھا ہے کہ کیا ،یہ حکومت 5 سال کی مدت پوری کر بھی پائیگی ؟ مسلم لیگ ن سے بھلا یہ کریڈٹ کون چھین سکتا ہے کہ وہ ریاست کو بچانے کیلئے ایک بار پھر بھاری قیمت ادا کرنےکو تیار ہے ۔ اس سے پہلے جب اس نے حکومت بنائی تو 17 جماعتیں مع اسٹیبلشمنٹ حصہ دار تھیں ، لیکن بد قسمتی سے سیاسی قیمت اکیلے مسلم لیگ ن نے ادا کی ۔ سیاسی جماعتوں کی طاقت اسکی پبلک سپورٹ ھوتی ھے مگر ن لیگ سے کیا گلہ ، تازہ بہ تازہ پبلک سپورٹ قربان کر کے بھی سبق نہیں سیکھا ۔ ملکی سیاست کو مگر اس وقت صدر زرداری کی سیاست کی سحر انگیزیوں نے مبہوت کر رکھا ہے ۔ پچھلے 36 سال میں انہوں نے دو ہی ٹھکانے پسند فرمائے ، ’’ حکومت یا پھر جیل ‘‘۔ اس وقت وہ اپنی جادوئی حکمت عملی سے دوسری دفعہ صدر بننے میں کامیاب ھو چکے ،2 صوبائی حکومتیں مع اہم آئینی عہدے بھی اُچک لئے۔ ایک بار پھر’’ناکامی کا بارِ ثبوت‘‘ مسلم لیگ ن پر ڈال دیا۔ موجودہ حکومت کی ناکامی نے پیپلز پارٹی کا بال بھی بیکا نہ نہیں کرنا۔
حفیظ اللّہ خان نیازی کے مطابق ستم ظریفی دیکھئے!سولہ ماہ کی اتحادی حکومت کی رخصتی کے چند ہفتوں بعد ہی تمام توپوں کا رُخ مسلم لیگ ن کی طرف موڑ دیا گیا لیکن عمران خان کو نظر انداز رکھا۔ 20 اکتوبر کو نواز شریف واپس آئے تو بہت کچھ کُھو چکے تھے ۔ جو پبلک سپورٹ چھوڑ کر گئے تھے، واپسی پر وہ موجود نہیں تھی
’’ شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد ،
جس مال کے تاجر تھے وہ مال ندارد ‘‘ ۔
20 اکتوبر کو بہت بڑے جلسے سے خطاب کیا تو زبان زدِ عام ہوا کہ ،’’نواز شریف کو چوتھی بار وزیراعظم بننے سے اب کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔ کہنے میں حرج نہیں کہ ، نواز شریف کا چوتھی بار وزیراعظم بننے کا پلان آصف زرداری نے سبوتاژ کیا۔ بلاول بھٹو کا ڈنکے کی چوٹ پر اظہاریہ یہی تو تھا،’’ہم نواز شریف کو کسی صورت چوتھی بار وزیراعظم نہیں بننے دیں گے‘‘۔ اسٹیبلشمنٹ کا حتمی پلان یہ تھا کہ ، عمران خان اور تحریک انصاف کو ہر صورت میں سیاست کا سے آوٹ کرنا ھے ، 10 اپریل 2022 سے 9 فروری 2024 تک اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کیخلاف جو تدابیر کیں الٹی پڑیں ، اسکی سیاست مزید توانا ہوئی۔ 8 فروری الیکشن تک پبلک سپورٹ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ سوشل میڈیا کی پیالی میں انصافیوں نے سونامی برپا کئے رکھا۔ تاہم زرداری کی سیاست مخصوص حکمتِ عملی کے تابع رہی ہے ۔ سندھ کارڈ استعمال نہ کرنیکا تاثر دیکر انہوں نے اپنی اہمیت اُجاگر رکھی ۔انہوں نے پاکستان کھپے‘‘ کا جب نعرہ لگایا تو سندھ کارڈ استعمال نہ کرکے یہی احسان تو جتلایا تھا۔ کمال کا لیڈر ہے ، بہ یک وقت پاکستان اور سندھ کے مفادات اکٹھے لیکر چل رہا ہے۔ بلاشبہ ، وفاق اور سندھ کے مفادات جب ٹکراتے ہیں تو دھڑلے سے سندھ آصف زرداری کی ترجیح بنتاہے ۔
حفیظ اللّہ نیازی لکھتے ہیں کہ بد قسمتی یہ رہی کہ پنجاب اورKP میں اسٹیبلشمنٹ مخالف رائے عامہ نے اَت مچارکھی تھی ۔ صوبہ بلوچستان پہلے ہی سے بحُرانِستان ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ کے چین و سکون کا انحصار پیپلز پارٹی پر منحصرہے ۔آغاز میں، اسٹیبلشمنٹ نے ایک موقع پر پیپلز پارٹی کو صوبہ سندھ میں بھی محدود کرنیکا سوچا ہوگا ۔ مسلم لیگ ن نے یقینا ًاسٹیبلشمنٹ کی اشیرباد پر اپنے سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز صوبہ سندھ ہی سے کیا۔ پلک جھپکتے MQM اور GDA سے پینگیں بڑھائیں۔ لیکن آصف زرداری ٹھہرے گھاگ، فوراً بھانپ گئے ۔اسٹیبلشمنٹ اور زرداری میں باہمی بد اعتمادی 36 سال سے موجود ہے۔ ایسے زمینی حقائق کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کو کئی بار وہ پہلے بھی شیشے میں اتار چکے ہیں ۔ آصف زرداری نے فی الفور ایسا گیم پلان ترتیب دیا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے پلان میں ردوبدل کرنے پر مجبور ہو گئی۔ انہوں نے بلاول کے ذریعے جارحانہ تقاریر میں بظاہر نواز شریف نشانے پر رکھا واضح پیغام اسٹیبلشمنٹ نے وصول پایا ۔بلاول بھٹو کی متاثر کن انتخابی مہم کا مرکز سندھ کی بجائے باقی 3 صوبے ( خصوصاً پنجاب ) بنے ۔ بلاول بھٹو کی جارحانہ انتخابی مہم نے ہی تو اسٹیبلشمنٹ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ پلک جھپکتے سرفراز بگٹی ، فیصل واوڈا وغیرہ کئی جید رہنما پیپلز پارٹی کو پیارے ہو گئے کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ کوہر صورت صوبہ سندھ رام رکھنا تھا ۔ نواز شریف کی قربانی پرہی پیپلز پارٹی نے مطمئن ہونا تھا ۔
حفیظ اللّہ نیازی کے مطابق الیکشن سے چند ہفتے پہلے آصف زرداری کا ایک فرمائشی انٹرویو دیکھنے کو ملا ، جس میں انہوں نے بلاول کو آڑے ہاتھوں لیا اور قومی حکومت کا اشارہ دیا۔نواز شریف نے گیم پلان بھانپ ضرور لیا مگر نقصان کا ازالہ ممکن نہیں تھا ۔ 8 فروری کے الیکشن میں نواز شریف کی عدم دلچسپی دیدنی تھی ۔ الیکشن میں طوعاً و کرہاً حصہ تو لیا ، لیکن آخری دن تک لاتعلقی برقرار رکھی۔ چند جلسے کئے بھی تو شرط لَف کی کہ’’مجھے اکثریتی مینڈیٹ چاہئے۔البتہ! 8 فروری کے انتخابات آصف زرداری کے فائدے میں رہے ۔ وہ ملک میں دوسری بڑی طاقتور شخصیت کے طور پر سامنے آئے ۔ صد حیف ! مسلم لیگ ن الیکشن 2013 کے مقابلہ میں اپنی آدھی سیٹیں گنوا بیٹھی ۔ انتخابی نتائج کے بعد نواز شریف کی کیا مجبوری تھی کہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت لینا پڑی ۔ نامساعد حالات میں ایک دفعہ پھر ’’ریاست بچانے‘‘ کیلئے رہی سہی سیاست بھی قربان کرنے کو ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شہباز حکومت نے ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رحم وکرم پر رہنا ہے ۔ شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی دونوں کو بیک وقت مطمئن رکھنا ہے۔
حفیظ اللّہ نیازی کہتے ہیں کہ آج وفاق اور پنجاب میں حکومت ملنے کے باوجود ، نواز شریف جیسی مضبوط شخصیت سیاست میں’’ غیر متعلق ‘‘ہو چکی ہے ۔ 10 ؍اپریل 2022 سے لے کر 9 فروری 2024ء تک متحرک رائے عامہ کثیر تعداد میں عمران خان کے حق میں اور اسٹیبلشمنٹ کیخلاف بتدریج صف آرا ہوچکی ہے۔ مگر حالات کی سنگینی کی جانچ پرکھ کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی ترجیح نہیں رہی ۔اقتدار کے جوڑ توڑ میں صدر زرداری کی اہمیت مسلمہ ہو چکی ہے۔۔ سو باتوں کی ایک بات ،’’ ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘۔
