کیا ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر ٹوٹنے والی ہے؟


ماضی قریب میں ایک ہونے والی ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھرشدید اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔ جس کے بعد ایک بار پھر ایم کیو ایم کے ٹکڑوں میں بٹنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تاہم ایم کیوایم قیادت سے ایک رکھنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کو اس وقت پارٹی میں عہدوں کی بندر بانٹ میں دو اہم ایشوز کا سامنا ہے۔ جن میں سے ایک گورنر سندھ کی تقرری اور دوسرا ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کا وفاقی وزیر بننا شامل ہے.

ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی ذرائع کے مطابق گورنر سندھ کے لئے اہم حلقوں نے خوش بخت شجاعت کے نام کو فائنل کیا ہے جس پر ایم کیو ایم پاکستان کے مقتدر حلقوں کو شدید تحفظات ہیں.ان کا کہنا ہے کہ گورنر کے نام کے لیے ان سے کوئی رائے نہیں لی گئی جبکہ خوش بخت شجاعت کافی عرصے سے غیر فعال ہیں اور پارٹی کے لئے ان کی کوئی گراں قدر خدمات بھی نہیں ہیں. ایم کیوایم کا ایک گروپ خوش بخت شجاعت کے نام پر بھی خوش ہے جبکہ دوسرا گروپ ہر صورت کامران ٹیسوری کو بطور گورنر سندھ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ ایم کیو ایم کے دوسرے گروپ کی رائے یہ ہے کہ کامران ٹیسوری نے بطور گورنر سندھ نہ صرف کم وقت میں بھرپور ڈلیور کیا ہے بلکہ وہ ایم کیوایم کا سافٹ ایمج قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں اس لئے کراچی میں ایم کیو ایم کو مزید مضبوط اور مقبول بنانے کیلئے کامران ٹیسوری کو ہی گورنر سندھ برقرار رکھنا چاہیے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان میں اندرونی اختلافات اس وقت شدید ہو گیا جب ایم کیو ایم پاکستان کی ایڈ ہاک کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفاقی وزیر کا حلف اٹھایا ایم کیو ایم پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پی ایس پی، ایم کیو ایم پاکستان میں ضم ہوئی تھی اور فاروق ستار سمیت پرانے لوگ واپس آئے تھے تو اس وقت سب نے متفق ہو کر فیصلہ کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا کوئی بھی رکن یا سربراہ کوئی بھی سرکاری عہدہ یا وزارت نہیں لے گا .
تاہم ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کی جانب سے خود وفاقی وزیر کا حلف اٹھانے سے آپس کے اختلافات اور بھی شدت اختیار کر گئے ہیں جس کے باعث ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو گئی ہے تاہم پارٹی کے سینئر رہنما پارٹی کو اس مشکل سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ پارٹی میں اختلافات سامنے آنے کے بعد ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی تحلیل کر کے ایم کیو ایم پاکستان کی تنظیمِ نو کا عمل جاری ہے اور خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ایم کیو ایم کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گیے بیان کے مطابق ’رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں کمیٹی کو تحلیل کر کے اس کی تنظیم نو کی جائے۔‘دوسرے مرحلے میں تمام شعبہ جات، صوبائی کمیٹی، ڈسٹرکٹس، زونز، ٹاؤنز اور یوسیز کی تنظیمِ نو کی جائے گی۔‘کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک مرکزی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے کنوینر وہ خود ہوں گے۔ایڈہاک کمیٹی کے ارکان میں سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل، انیس قائم خانی، کیف الوریٰ اور رضوان بابر شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی تھی۔اس آڈیو لیک میں وہ رابطہ کمیٹی کو پاکستان مسلم لیگ ن سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق آگاہ کر رہے تھے۔اس سے قبل رہنما ایم کیو ایم سید مصطفیٰ کمال کی رابطہ کمیٹی میں گفتگو کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی جس میں وہ رابطہ کمیٹی کو مذاکراتی عمل کے بارے میں بتا رہے تھے۔اس آڈیو لیک کے بعد مصطفیٰ کمال کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے آڈیو اُن کی ہی آڈیو ہے۔انہوں اپنے پیغام میں مزید کہا تھا کہ ’اس آڈیو میں ایسی کوئی خفیہ بات نہیں تھی جسے لیک کرنے کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔


سید مصطفی کمال نے آڈیو لیک کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا الزام ایم کیو ایم لندن پر عائد کیا تھا۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ایک عرصے سے انہیں اور پارٹی کو رابطہ کمیٹی کے لیے کام کرنے والوں کی تلاش تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’آڈیو لیک ہونے سے ہم اپنے درمیان موجود ایم کیو ایم لندن کے لیے کام کرنے والے کو پہچاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔‘پے درپے اس طرح کے واقعات سامنے آنے کے بعد رابطہ کمیٹی کو تحلیل کر کے ایم کیو ایم کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم تنظیم نو کی تکمیل سے پہلے ہی ایم کیو ایم نئے داخلی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے تاہم دیکھنا ہے کہ ایم کیو ایم قیادت باہمی اختلافات پر قابو پانے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔

Back to top button