پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی امریکی کانگریس میں زیر بحث کیوں؟

پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی گونج امریکی کانگریس میں گونجنے لگی۔ امریکی کانگریس نے پاکستانی الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کو زیر بحث لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ اُمور پاکستان میں عام انتخابات کے بعد کی صورتِ حال سے متعلق 20 مارچ کو سماعت کرے گی۔ جس میں عمران خان کے امریکی سائفر سازش الزامات کے بعد سامنے آنے والے امریکہ کے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو کو بھی اس سماعت میں بطور واحد گواہ طلب کیا گیا ہے۔سماعت کو ‘پاکستان انتخابات کے بعد؛ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کا جائزہ اور پاکستان، امریکہ تعلقات’ کا عنوان دیا گیا ہے۔


جیال رہے کہ امریکی کانگریس میں یہ سماعت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتیں دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ان جماعتوں میں پاکستان تحریکِ انصاف سرِفہرست ہے جس کا دعویٰ ہے کہ بڑے پیمانے پر اُن کے مینڈیٹ کو چرایا گیا ہے۔الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ کمیشن کا یہ مؤقف رہا ہے کہ دھاندلی کے الزامات کے لیے ٹربیونلز اور عدالتیں موجود ہیں۔تاہنم دوسری جانب ڈونلڈ لو کی بطور گواہ کانگریس کی سماعت میں شرکت کا معاملہ پاکستان میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران مذکورہ امریکی سفارت کار کا نام پاکستان کی سیاست میں گونجتا رہا ہے۔عمران خان اپریل 2022 میں اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اپنی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکہ کو ذمے دار قرار دیتے آئے ہیں۔عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے سے قبل ایک جلسۂ عام میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ امریکی سفارتی اہل کار ڈونلڈ لو نے واشنگٹن ڈی سی میں تعینات پاکستان کے سفیر کو حکومت میں تبدیلی کی دھمکی دی تھی۔امریکہ عمران خان کے عائد کردہ الزامات کی کئی بار تردید کر چکا ہے۔


خیال رہے کہ پاکستان میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی گونج امریکہ میں اس وقت سُنائی دی جب امریکہ میں دو درجن سے زائد اراکینِ کانگریس نے صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن سے ایک خط کے ذریعے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہو جائیں۔اب اس حوالے سے کانگریس کی کمیٹی نے پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی بارے باقاعدہ سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ماضی میں متعدد سماعتوں میں بطور ’وِٹنس‘ پیش ہونے والے اٹلانٹک کونسل سے منسلک تجزیہ کار شجاع نواز کے مطابق عام طور پر کمیٹی کے سامنے ایسی سماعتوں میں متعدد شخصیات پر مشتمل ایک پینل پیش ہوتا ہے اور وہ کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین کے سوالات کے جوابات دیتا ہےلیکن اس بار کمیٹی کی جانب سے صرف ایک شخصیت کو بطور ’وِٹنس‘ بُلایا گیا ہے اور وہ شخصیت ہیں امریکی محکمہ خارجہ کے ’بیورو برائے وسطیٰ ایشیا‘ سے منسلک اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو۔ڈونلڈ لو اس سماعت کے دوران نہ صرف پاکستانی انتخابات کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کو رائے دیں گے بلکہ کمیٹی کے اراکین کے سوالات کے جواب بھی دیں گے۔


شجاع نواز نے ’یہ سماعت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ عمران خان کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد طویل عرصے سے ڈونلڈ لو منظرِعام پر نہیں تھے اور اب وہ بڑے عرصے بعد پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔‘شجاع نواز کے مطابق اس سماعت کے دوران پاکستان کے انتخابات پر سوالات بھی متوقع ہیں۔واشنگٹن میں پاکستان سے متعلق معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار عزیر یونس بھی شجاع نواز کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہاں کانگریس کے اراکین کی جانب سے ڈونلڈ لو سے پاکستانی انتخابات کی ساکھ اور جمہوریت کی حالت کے حوالے سے سوالات بھی پوچھے جائیں گے۔‘وہ سمجھتے ہیں کہ اس سماعت کے دوران پاکستان پر چینی قرضے اور اقتصادی اور سیاسی استحکام کے حوالے سے بھی سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب واشنگٹن میں خارجہ پالیسی اور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے پاکستان میں انتخابات اور جمہوریت پر سماعت منعقد کرنا پی ٹی آئی لابنگ کا نتیجہ ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ سماعت امریکہ میں پی ٹی آئی حامیوں کی لابنگ کا نتیجہ ہے۔‘ ’وہ پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات بین الاقوامی سطح پر اُٹھانے چاہتے ہیں اور وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب بھی ہوں گے۔‘دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ میں ہونے والی سماعت کے پاکستان کی نئی حکومت یا پاکستان اور امریکہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔شجاع نواز کے خیال میں امور خارجہ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے رکھی گئی سماعت ظاہری طور پر پاکستان کو ایک اشارہ دینے کی کوشش ہوسکتی ہے کہ ’لوگ آپ سے سوال کر رہے ہیں اور آپ سیدھی راہ پر آجائیں۔‘تاہم ’میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ اس موقع پر پاکستان میں ہونے والے انتخابات پر کوئی سٹینڈ لے گا۔‘دیگر ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن میں ہونے والی سماعت کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان اس وقت بائیڈن انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

Back to top button