منہ پھٹ گنڈاپور کا سافٹ وئیر کس نے اپ ڈیٹ کیا؟

وزیراعظم شہباز شریف کو مینڈیٹ چور قرار دے کر ان کے حلف میں شرکت سے انکار کرنے اور وفاقی حکومت کو جعلی قرار دینے والے خیبرپختونخوا کے عمرانڈو وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے مثبت ملاقات سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے جسے جہاں ایک طرف تحریک انصاف کے اپنے حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے وہیں بعض تجزیہ کار اسے پی ٹی آئی کی جانب سے مفاہمتی سیاست کی جانب پہلا قدم قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ تجزیہ کار تاحال اس بات کی کھوج لگانے میں مصروف ہیں کہ اچانک گنڈاپور کا سافٹ وئیر کیسے اپ ڈیٹ ہوا اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے لہجے کی ترشی میں مٹھاس کیسے آئی؟
خیال رہے کہ علی امین گنڈاپور کا مؤقف پاکستان تحریکِ انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں کے متعلق خاصا سخت رہا ہے۔بیشتر افراد کا ماننا تھا کہ انھیں وزیراعلیٰ نامزد کر کے عمران خان نے مفاہمت نہ کرنے کی پالیسی اور ٹکراؤ کی سیاست جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے تاہم گذشتہ روز کی پریس کانفرنس سے علی امین گنڈا پور کی ایک مختلف شبیہ سامنے آئی، جس نے بہت سے تجزیہ کاروں کو حیران کیا۔
صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کے مطابق علی امین اب ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور اپنے اس نئے رول کو وہ بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
طلعت حسین کا ماننا ہے کہ طاقت کی اپنی ذمہ داری ہے اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی دیکھا کہ جو لوگ طاقت میں آ جاتے ہیں تو ان کا رویہ تبدیل ہو جاتا ہے اور ’علی امین چاہتے ہیں وہ طویل المدت سیاست کریں۔‘طلعت حسین کے مطابق دوسری وجہ ان کی مجبوری ہے اور ’یا وہ عمران خان کے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں یا صوبے کے مفادات کا‘ اور صوبے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے وہ مرکز سے الگ ہو کر نہیں رہ سکتے پھر چاہے وہ ہائیڈروپرافٹس کا معاملہ ہو یا صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنا جس کے لیے انھیں وزیراعظم سے بات کرنا اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں بیٹھنا ہو گا۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور کے پاس ایسے بیسیوں اور معاملات کے لیے مرکز سے بات کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
ان کے مطابق تیسری وجہ پی ٹی آئی کے اندر دھڑا بندی ہے۔ طلعت حسین کا کہنا ہے کہ جماعت کے تمام اراکین عمران خان کی بات تو کرتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عمران خان کی جیل سے سیاست ان کی بہنیں، وکیل یا وہ لوگ چلا رہے ہیں جنھوں نے اس کے بعد اسمبلیوں میں واپس نہیں آنا اور علی امین جانتے ہیں اس ٹکراؤ سے تباہی آئے گی جس سے وہ اجتناب کرنا چاہ رہے ہیں۔
طلعت حسین کا ماننا ہے کہ علی امین عمران خان کا نام تو لیں گے مگر نظام کے اندر رہ کر کام کریں گے۔ان کے مطابق چوتھی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی ’گڈ کاپ بیڈ کاپ‘ بھی کھیلتی ہے، کچھ لوگ بہت سافٹ ٹون جبکہ کچھ سخت ٹون دکھاتے ہیں۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ ’جنگجو تو وہ تھے مگر پھر ظاہر ہے ان کو جیل بھی ہوئی اور ان کے بال بھی کٹے اور وہ پکڑے بھی گئے اور کچھ عرصہ چپ بھی رہے، پھر ان کے کاغذات نامزدگی منظور بھی ہوئے اور وہ وزیراعلیٰ بن بھی گئے اور جب آپ طاقت کی اونچ نیچ سے گزر کر اس منصب تک پہنچ جاتے ہیں تو اس وقت پرانے رویے اپنانا مشکل ہوتا ہے۔‘
طلعت حسین کا ماننا ہے کہ ’ہم علی امین گنڈاپور کی ٹرانسفرمیشن دیکھ رہے ہیں جو طاقت میں آنے کے بعد لازم ہے ورنہ وہ اس منصب پر قائم نہیں رہ سکتے۔
طلعت حسین نے اپنی بات چیت میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ریاست چاہے ’جیسا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ ہے کہ ریاست اتنی ہی ظالم ہے سب کچھ کر سکتی ہے تو پھر علی امین کو روکنا کون سا مشکل تھا؟‘
طلعت کا ماننا ہے کہ ’علی امین کے لیے جو راستے کھل گئے ہیں وہ انھیں بند نہیں کرنا چاہتے۔‘ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بطور چیف منسٹر تصادم کی سیاست اختیار کرنا علی امین کے لیے مشکلات کھڑی کرے گی اور وہ صوبے کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پائیں گے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا علی امین گنڈاپور حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مفاہمت کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور جیلوں میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں اور ورکز کے لیے کوئی ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟
سینئر صحافی طلعت حسین کا ماننا ہے کہ ’عمران خان کو ریلیف دینا شہباز شریف کے بس میں نہیں اور عمران خان کے لیے ریلیف لینا علی امین کے بس میں بھی نہیں بلکہ یہ کام عمران خان صرف خود ہی کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ لڑائی علی امین اور شہباز شریف کے تصفیے سے طے نہیں ہو گی کیونکہ یہ لڑائی عمران خان اور فوج کی ہے اور جب تک یہ ختم نہیں ہو گی دونوں پارٹیاں یعنی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی قریب نہیں آ سکتیں اور شہباز شریف لاکھ کہیں وہ عمران خان کو ان عدالتوں سے زیادہ ریلیف نہیں دے سکتے جن پر خان صاحب کو اعتماد نہیں۔‘
طلعت حسین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی لائحہ عمل اگر عمران خان کو ریلیف دلوانے میں کامیاب ہوتا ہے تو عمران خان اسے اوکے کریں گے ’لیکن اگر عمران خان کا نہ ڈرنے، نہ جھکنے، بات چیت نہ کرنے کی تکرار والا امیج کو کوئی زد پہنتی ہے تو عمران خان اسے رد کر دیں گے۔طلعت حسین کا ماننا ہے کہ علی امین ’عمران خان کا رویہ نہیں تبدیل کر سکتے۔‘
کیا علی امین گنڈاپور کو اپنی ہی پارٹی میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے طلعت حسین کا ماننا ہے کہ پارٹی میں موجود دھڑے پہلے ہی علی امین سے خوش نہیں مگر بطور وزیراعلیٰ وہ بہت سے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو نظام میں جگہ دے سکتے ہیں، وزارتیں اور ایڈوائزرشپ وغیرہ آفر کر سکتے ہیں۔
طلعت کا ماننا ہے کہ علی امین کو بے شک پارٹی کی طرف سے مزاحت کا سامنا کرنے پڑے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت وزیراعلیٰ ہیں اور اس عہدے کو استعمال کرتے ہوئے خود کو صوبے میں قائم رکھ سکتے ہیں اور مشکلات کو مینج کر لیں گے۔
