کیا اسٹیبلشمنٹ کی نواز اور زرداری سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی؟


ہر جانب سے آنے والی ڈیل کی خبروں کے درمیان سینئر صحافی انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ نہ تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف سے کوئی ڈیل کی ہے اور نہ ہی آصف زرداری سے کسی قسم کی کوئی مدد مانگی ہے، جیسا کہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع نے انصار عباسی کو بتایا ہے کہ جب کسی نے نواز شریف کے ساتھ رابطہ ہی نہیں کیا تو پھر ڈیل کیسے ہو گئی؟ آصف زرداری کے دعوے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کا نام بتائیں جس نے ان سے مدد مانگی ہے۔
تاہم دوسری جانب نواز لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کو یقین ہے کہ عمران خان کے دن پورے ہوچکے ہیں اور تبدیلی سرکار اب تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنی حکومت کے خاتمے کی افواہیں کو تقویت پہنچاتے ہوئے یہ شور مچانا شروع کر دیا ہے کہ نوازشریف کو عدالتوں سے اہل قراردلوانے کے بعد چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع یہ ماننے کو تیار نہیں کہ انکی نواز شریف یا آصف زرداری سے کوئی ڈیل ہوئی ہے یا ڈیل کی کوششیں جاری ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع کا موقف دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابھی تک نہ تو کسی سے کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہی نواز شریف مستقبل قریب میں واپس آ رہے ہیں۔ انصار کے بقول اسٹیبلشمینٹ کے ذرائع نے تردید کی ہے کہ ان کی کوئی ڈیل ہوگئی ہے یا پھر کسی ایسے اسکرپٹ پر عمل ہو رہا ہے جس سے نواز شریف کی لندن سے واپسی میں آسانی پیدا ہو سکے۔
ان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا۔ نون لیگ کی دوسری سطح کی قیادت بھی لا علم ہے کہ نواز شریف کیا سوچ رہے ہیں اور آیا وہ اُن لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں جو ان کی واپسی کے حوالے سے اہم ہیں۔  نون لیگ کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد جاری کیے جانے والے بیانات کی وجہ سے کئی لوگ حیران ہو گئے تھے اور نواز شریف کے معاملے میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تھا۔ ایاز صادق نے کہا تھا کہ نواز شریف پاکستان آ رہے ہیں۔ 
جب ان سے جیو نیوز کے انٹرویو میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہونے والا ہے لیکن میرے خیال میں جلد کوئی بڑا دھماکا ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اچانک ہوگا اور آپ لوگوں کو یہ معاملات آہستہ آہستہ ہوتے نظر نہیں آئیں گے۔  جب ان سے پوچھا گیا کہ نواز شریف ملاقات کر رہے ہیں اور لندن میں غیر سیاسی شخصیات سے رابطے کر رہے ہیں تو انہوں نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کی لیکن ایجنڈا اور ملاقاتوں میں زیر بحث معاملات کے حوالے سے لاعلمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں وہ لوگ نواز شریف سے ملاقات کر رہے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہوگیا ہے کہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں لا کر انہیں ناکامی ہوئی ہے اور وہ حکومت سے اپنے سپورٹ بھی واپس لے چکے ہیں اور نواز شریف سے ملاقات کر رہے ہیں، کیونکہ نون لیگ کے پاس اپنا ووٹ بینک برقرار ہے۔  ایاز صادق کے ان دعوؤں کی تصدیق خود عمران خان نے اپنے ترجمانوں کے اجلاس میں یہ بتا کر کر دی کے نواز شریف کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی سازش ہو رہی ہے۔ حالانکہ ایسا کرکے عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو دفاعی پوزیشن میں لانے کی کوشش کی ہے لیکن ناقدین کے خیال میں ان کے اس موقف سے حکومت کے کمزور ہو جانے کا اظہار ہوتا ہے۔
انصار عباسی بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے ایک اہم عسکری ذریعے نے آصف زرداری سے ڈیل کے سوال پر انہیں بتایا تھا کہ سابق صدر کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے ان سے مدد مانگی ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کو چاہئے کہ وہ اُس شخص کا نام بتائیں جس نے ان سے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ملاقات کرکے مستقبل کے سیٹ اپ کے حوالے سے مدد مانگی ہے۔ بقول انصار عباسی، ذریعے نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ آئے دن ایسے بیانات دیے جاتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے اشارے دیے جاتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آصف زرداری سے تو ڈیل کی آفر کرنے والے کا نام پوچھا جا رہا ہے لیکن انصار عباسی خود اپنی خبر میں یہ نہیں بتا رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کس ذریعے نے زرداری کے دعوے کی تردید کی ہے۔
آصف زرداری کے معاملے کی طرح ایاز صادق کے بیانات کے بعد بھی افواہیں گرم ہیں کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بالآخر ’’ڈیل‘‘ ہوگئی ہے۔ تاہم انصار عباسی کے بقول کسی بھی فریق کی جانب سے اب تک ایسی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ دوسری جانب ناقدین کہتے ہیں کہ انصار عباسی جیسا جہاندیدہ صحافی اگر یہ امید کرتا ہے کہ نواز شریف یا جنرل باجوہ کی جانب سے کسی خفیہ ڈیل کی باقاعفہ تصدیق کی جائے گی تو پھر ان کا اللہ ہی حافظ یے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایاز صادق کے بیان کو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بالواسطہ توثیق حاصل ہو چکی ہے۔ عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ایسی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں جن سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلیت ختم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ انکے بقول وزیراعظم نے مزید کہا تھا کہ اگر مجرموں کو چھوڑا جانے لگا تو تمام جیلوں کے دروازے کھول دینا چاہئیں۔ لیکن وزیر اطلاعات نے واضح نہیں کیا کہ وزیراعظم کی نظر میں وہ کون ہے جو ایسی راہیں تلاش کر رہا ہے جس سے نواز شریف کی نا اہلیت ختم کی جا سکتی ہے۔  لہذا ایک طرح سے اپوزیشن اور حکومت دونوں جانب سے ڈیل کی افواہوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

Back to top button