کیا اسٹیبلشمینٹ نہیں چاہتی کہ حکومت اور PTM کی ڈیل ہو؟

پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ایک بار پھر گرفتاری سے حکومت اور پی ٹی ایم کے مابین حالیہ مہینوں میں شروع ہونے والے مذاکرات اور مفاہمت کا معاملہ پھر سے سرد خانے کی نذر ہو گیا ہے اور ایسا تاثر مل رہا ہے کہ شاید فوجی اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ حکومت پی ٹی ایم کی قیادت سے مذاکرات کرے۔
باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ تحریک انصاف کہ حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر پی ٹی ایم سے مذاکرات کا ڈول ڈالا تھا اس لئے مقتدر حلقوں نے ایک بار پھر زور بازو دکھاتے ہوئے علی وزیر کو پشاور سے گرفتار کروا دیا ہے اور الزام یہ لگایا ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں کراچی میں حکومتی اجازت کے بغیر ایک جلسہ کیا تھا۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ علی وزیر کو 6 دسمبر کو کراچی جلسے میں ریاست مخالف تقاریر کے الزام پر اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور اب ان کو کراچی منتقل کیا جائے گا تاکہ سندھ پولیس کو ہینڈ اوور کیا جا سکے۔
اس سے پہلے علی وزیر نے حکومت مخالف گیارہ جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔ علی وزیر کے ساتھی رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اگرچہ پی ڈی اے کے ساتھ کچھ دیر چلے لیکن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اختلاف کے بعد وہ بھی اپوزیشن اتحاد سے الگ ہو چکے ہیں۔ لیکن اب علی وزیر کی گرفتاری کے بعد حکومت اور پی ٹی ایم کے مابین ہونے والے مذاکرات میں تعطل کا خدشہ ہے کیونکہ مذاکرات شروع کرنے سے قبل خیر سگالی اور اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لئے پی ٹی ایم نے اپنے ہمدردوں کے خلاف قائم مقدمات ختم کرنے اور جیلوں میں بند کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں برسرِ اقتدار تحریک انصاف پی ٹی ایم کی قیادت کے تحفظات کو دور کرنے کی خواہاں ہے لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک پی ٹی ایم غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والی ایک ریاست مخالف تنظیم ہے۔ پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کی تجویز وزیر دفاع پرویز خٹک نے دی تھی جس کے جواب میں پی ٹی ایم نے ابتدائی طور پر اعتماد سازی کے لیے اسیران کی رہائی اور ریاستی جبر کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اب ریاست مخالف تقاریر کے الزام میں پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری سے صورتحال ایک بار کشیدہ ہو گئی ہے اور مذاکرات خطرے میں پڑ گے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پرویز خٹک نے پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات اس لیے شروع کیے تھے تاکہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک آنے کی صورت میں ان کے دو ووٹوں کو اپنے حق میں ڈلوایا جا سکے۔
اس سے پہلے 17 دسمبر کو پشاور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں سندھ پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت کی جسکے بعد ان کی رہائی کے لئے پی ٹی ایم نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سابق فاٹا سے قومی اسمبلی کے رکن اور بائیں بازو کے رہنما علی وزیر کو اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے موٹر وے پولیس نے گرفتار کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ پشاور میں اے پی ایس طلبہ کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کیلئے اسلام آباد سے پشاور جا رہے تھے۔ علی وزیر کی گرفتاری کے وقت بنائی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ایم این اے علی وزیرکا کہنا تھا کہ ان کی گاڑی کو ایک پولیس انسپکٹر نے بندوق کا نشانہ باندھ کر روکا اور بتایا کہ حکام کی طرف سے میری گرفتاری کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اب کون سی تقریر یا خاص بیان پر حکام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی پالیسیاں تضادات پر مبنی ہیں، ایک منتخب ایم این اے کو بندوق دکھا کر روکا اور گرفتار کیا جاتا ہے جبکہ طالبان کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں موٹر وے پولیس اہلکاران بھی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ علی وزیر ان کے لئے قابل احترام ہیں لیکن انہیں حکام کی طرف سے گرفتاری کے احکامات دیئے گئے ہیں اس لئے وہ مجبور ہیں۔
خیال رہے علی وزیر سابق فاٹا کے علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف مزاحمت میں انکی قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے۔ دہشت گردی اور ریاستی جبر کے خلاف عوامی حقوق کی بازیابی کیلئے جدوجہد کے دوران علی وزیر کے خاندان کے 15سے زائد افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔ علی وزیر فاٹا اور وزیرستان میں عوامی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کی تحریک کے بھی سرگرم رہنما ہیں۔ علی وزیر نے تین مرتبہ الیکشن میں حصہ لیا اور بھاری ووٹ حاصل کئے، گزشتہ انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ وہ پی ٹی ایم تحریک کے صف اول کے قائدین میں بھی شریک ہیں۔ اس تحریک کے دوران بھی انہوں نے متعدد مرتبہ گرفتاریوں اور صعوبتوں کا سامنا کیا ہے۔
سیاسی و سماجی رہنماؤں نے علی وزیر کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جمہوریت کا مذاق اڑانا بند کیا جائے اور منتخب عوامی نمائندوں کی آوازوں کوبند کرنے اور انہیں گرفتاریوں اور تشدد کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس منتخب ممبران اسمبلی کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں لی جاتی ہے اور مقصد صرف ان کی بےعزتی کرنا ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
