کیا اعتزاز احسن عمرانڈو ہو کر سٹھیا گئے ہیں؟

جاٹ خاندان سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ پپلیے اعتزاز احسن آج کل عقل و فہم سے عاری ہو کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں، وہ عمر کے اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جب اچھے خاصے سیانے بھی ”سٹھیا“ جاتے ہیں۔ بظاہر پیپلز پارٹی سے فارغ ہو جانے والے اعتزاز آئے روز صحافیوں کی مجلس لگاتے ہیں، پھر نت نئی تاویلیں گھڑتے ہیں اور سب کو حیران نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں۔۔شاید انھیں خود بھی خبر نہیں ہوتی کہ کیا کہہ گئے ہیں؟ ایک ہی نشست میں وہ کبھی پیپلز پارٹی کا دم بھرتے ہیں اور کبھی عمران خان کی قصیدہ گوئی شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آ رہا ہے کہ وہ زمان پارک کے رہائشی ہونے کی وجہ سے اعتزاز حق ہمسائیگی ادا کر رہے ہیں تو ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اعتزا کی یہ سٹریٹجی بہت پرانی ہے کہ گیلے پر، پاؤں نہیں رکھتے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی یتیمی کا دکھ کیا ہوتا ہے اسی لئے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں، تاکہ آخر میں جو پارٹی تگڑی نکلے اسی کے ساتھ چل پڑیں
لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا؟
ماضی میں بھی ان کی اس اعتزازی حکمت عملی نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مثلاً عدالتی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو جسٹس افتخار چودھری اینڈ کمپنی کی بحالی کی تحریک میں جھنڈا اٹھانے والے یہی تھے جس کا خمیازہ ملک آج تک بھگت رہا ہے۔۔آج وہی جج من مرضی سے قوانین کی تشریح کرتے ہیں، پارلیمنٹ کو یرغمال بناتے ہیں اور اعتزاز کے گُن گاتے ہیں جو آج کل نئے پراجیکٹ عمران خان پر کام کر رہے ہیں۔
خان صاحب سے ان کی محبت کا یہ عالم ہے کہ کبھی وہ انھیں کملا اور کبھی بھولا بادشاہ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور وجد میں ہوں تو کہتے ہیں کہ اسے مسلم لیگیوں نے ٹریپ کیا ہے اور وہ ٹریپ ہو گیا ہے۔ البتہ نواز شریف کی تعریف کرنا نہیں بھولتے اور انھیں پاورفل لیڈر قرار دیتے ہیں جن کے ایک اشارے پر شہباز شریف، بھائی جان کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں اور آصف زرداری کے بھی گن گاتے نہیں تھکتے کہ کیا کمال سیاستدان ہیں؟ ویسے ان کی یہ باتیں کافی حد تک سچ بھی ہیں۔ اس وقت آصف زرداری ملک کے واحد سیاستدان ہیں جو سیاست کو بند گلی سے نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔۔یہاں تک کہ الیکشن کی چابی بھی ان کی مٹھی میں بند ہے اور وہ اچھے سے جانتے ہیں کہ یہ مٹھی کب کھلے گی؟
بہرحال یہ طے ہے کہ پیپلز پارٹی اب ان کی جوانی والا ”کرش نہیں رہی لیکن ” کُٹی“ بھی نہیں ہوئی البتہ ڈھلتی عمر کا ”ٹھرک“ کہہ لیں یا کچھ اور مگر وہ ایک عرصے سے خان صاحب پر لائن مارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کوشش میں ”اَن گائیڈڈ میزائل“ کی طرح اکثر ادھر ادھر کی ہانکتے رہتے ہیں۔
بظاہر ان کی مماثلت کسی سے نہیں لیکن میڈیا میں ان کی ڈیمانڈ دیکھتے ہوئے لوگ پرانے شیخ رشید کو ضرور یاد کر لیتے ہیں جو ہر چینل اور ہر اخبار کو بلا سوچے سمجھے ”اندر“ کی خبریں دیا کرتے تھے۔۔انہی کی گدی پر آج کل اعتزاز بیٹھتے ہیں جو صحافیوں کو دیکھتے ہی اتنے اگریسو ہو جاتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک طرف، کوئی ادارہ ان کے طعنوں سے محفوظ نہیں بلکہ اتنے ماہر قانون دان ہونے کے باوجود عدالت سے باہر عدالت لگانے سے نہیں ہچکچاتے۔ حال ہی میں انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان کے بھی لتے لئے اور باقاعدہ جرح کے انداز میں بولے کہ آئی جی نے نو مئی کو جناح ہاؤس پولیس بھیج کر ان بلوائیوں کی پکڑ دھکڑ کیوں نہیں کی اور اگر نہیں کی تو انھیں وفاقی حکومت نے آج تک تبدیل کیوں نہیں کیا؟ باقی نگران صوبائی حکومت سے تو وہ پہلے دن سے نالاں ہیں جبکہ آرمی چیف اور چیف جسٹس بھی ان کی ہٹ لسٹ پر رہتے ہیں۔
کبھی تو آف دی ٹریک وہ کلاسیکل انگریزی شاعر
شیکسپیئر اور ایک شکاری جم کاربیٹ کے قصوں کو یاد کرنے لگتے ہیں تاکہ سیاستدانوں اور فوج کی آپسی کھینچا تانی کو واضح کر سکیں۔ کبھی آرمی چیف کو قانون پڑھانے لگتے ہیں کہ اب اگر فوجی عدالتیں لگیں تو ایک نئے تصادم کی راہ ہموار ہو گی۔
چیف جسٹس پر تو وہ ٹھیک ٹھاک چڑھائی کرنے کے موڈ میں نظر آتے ہیں کہ عمر عطا بندیال ہوتے کون ہیں ماورائے قانون سیاستدانوں کو مشورہ دینے والے کہ وہ آپس میں مل بیٹھیں یا ڈائیلاگ کریں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اعتزاز احسن جیسے عمررسیدہ اور جہاندیدہ شخص کو کوئی بہکا رہا ہے یا وہ ماضی کی طرح اس بار بھی کسی مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟
