عمران خان پر مذاکرات کے دروازے بند کیوں ہوئے؟

نو مئی احتجاجی مظاہروں کے بعد پیدا ہوئی صورت حال میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان تسلسل کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں جبکہ اتحادی حکومت اس معاملے میں سرد مہری کا رویہ اپناتے ہوئے تحریک انصاف پر مذاکرات کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔  گو کہ عمران خان کی مذاکراتی کمیٹی میں شامل افراد کی اکثریت ابھی تک پارٹی کے ساتھ ہی کھڑی ہے لیکن حکومت کی جانب سے انہیں کوئی مثبت اشارہ نہیں مل رہا۔

شاہ محمود قریشی عمران خان کی قائم کردہ مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہیں لیکن تاحال انھوں نے فوری طور پر مذاکرات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ البتہ پیر کو اسد قیصر نے جو مذاکراتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، اسلام آباد کی ایک عدالت میں پیشی کے موقعے پر میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ وہ ابھی تک تحریکِ انصاف ہی کا حصہ ہیں اور ’پارٹی چیئرمین عمران خان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘  اسد قیصر نے کہا تھا کہ ’ان کی جماعت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس وقت ملک میں جو حالات ہیں۔ ان میں کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں۔‘

دوسری جانباتحادی حکومت کے وزراء عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر چکے ہیں اور کچھ حکومتی عہدے داروں نے تو واضح لفظوں میں مذاکرات کے امکان کی مکمل نفی کی ہے۔  خود وزیراعظم شہباز شریف نے قرار دیا ہے کہ ’مذاکرات جمہوریت کی ترقی کی کنجی ہے لیکن یہ سیاست دانوں کی آڑ میں ’انتشار پسندوں اور آتش زنی کرنے والوں‘ کے ساتھ نہیں ہو سکتے۔‘

گزشتہ ہفتے مسلم لیگ نواز کے لندن میں مقیم قائد نواز شریف نے بھی ایک ٹویٹ میں مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کیا تھا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’بات چیت صرف سیاست دانوں سے کی جاتی ہے۔ شہدا کی یادگاروں کو جلانے والے، ملک کو آگ لگانے والے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے گروہ سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔‘

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بھی یہی بیان دیا تھا کہ ’عمران خان نو مئی کے واقعات پر معافی مانگیں پھر مذاکرات پر بات ہو گی۔‘  وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے جمعے کو ٹوئٹر پر اپنے مختصر بیان میں کہا تھا کہ ’اگر سنجیدہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف وزیراعظم شہباز شریف سے ہی ہو سکتے ہیں۔‘

پھر پیر کو پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سابق ’عمران خان کے ساتھ مذاکرات پہلے بھی نہیں کر رہے تھے اور اب بھی نہیں کر رہے۔‘  انہوں نے کہا کہ ’مذاکرات سے متعلق میرا بیان ہی پی ڈی ایم کا موقف ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ماضی میں بالخصوص اپنے دور حکومت اور پھر اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھی حریف سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات سے انکار کرتے رہے ہیں۔  وہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ ’چوروں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔لیکن نو مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد عمران خان کے لہجے میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ وہ اب مسلسل مذاکرات کی بات کر رہے ہیں تاہم یہ ابہام ابھی تک باقی ہے کہ وہ کس کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور اسی طریقے میں وہ کوئی حل دیکھتے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے۔

حکمران اتحاد کے کچھ نمایاں رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرنے سے متعلق سوال پر سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کو سپیس دینی چاہیے۔ اگر اس ملک میں پارلیمانی جمہوریت کو رواں رکھنا ہے تو بات چیت کرنا ہو گی۔‘  انہوں نے کہا کہ ’آج اگر عمران خان کمزور ہو گئے ہیں اور دوسرے لوگ طاقتور ہو گئے ہیں تو بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں۔‘

عمران خان مذاکرات کس سے کرنا چاہتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان فوج سے مذاکرات چاہتے ہیں۔ یہی ان کی غلطی ہے۔ انہیں اپنی اس غلطی کو ٹھیک کرنا چاہیے اور سیاسی مخالفین سے بھی بات چیت کرنی چاہیے۔‘

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار زاہد حسین پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے امکان کے بارے میں کچھ زیادہ پراُمید نہیں ہیں۔  زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ’اب مذاکرات کا امکان نظر نہیں آتا۔ اس معاملے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں سخت رویہ اختیار کر چکے ہیں۔‘  انہوں نے کہا کہ ’یوں لگتا ہے کہ مذاکرات کے سبھی راستے بند ہو چکے ہیں۔ وقت اب گزر چکا ہے۔‘  سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے مذاکرات سے انکار کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’دیکھیں یہ حکومت کی غلط فہمی ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی دباؤ میں ہے تو اسے ٹوٹ پھوٹ کی جانب جانے دیا جائے اور پھر انہیں اس کا کچھ فائدہ ہو گا۔ ایسی

کیا کیپٹن کرنل شیر خان کی بہادری کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے؟

صورتحال میں کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔

Back to top button