کیا کیپٹن کرنل شیر خان کی بہادری کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے؟

سینے پر وطن کا حلالی پرچم لگ جائے تو نہ صرف سینا تن جاتا ہے بلکہ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور بھی گہری ہو جاتی ہے، کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے بھائی انور شیرخان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’کیپٹن کرنل شیر خان جتنے بھی بہادر ہوتے اگر ان کے جسم پہ خاکی وردی نہ ہوتی تو آج یہ عزت نہ ہوتی‘
شہدائے پاک فوج کے لواحقین کا 9 مئی سے پیدا ہونے والی ملکی حالات کے تناظر میں اپنے خیالات کا اظہار اور عوام کو پیغام دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے بھائی انور شیر خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’کیپٹن کرنل شیر خان 23 سال پہلے کارگل میں شہید ہوئے تو دشمن نے بھی اس کی تعریف کی اور ایوارڈ دیا، اصل میں یہ کیپٹن کرنل شیر خان کی تعریف نہیں تھی بلکہ پاک آرمی کی تعریف تھی۔
انور شیرخان نے مزید کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان جتنے بھی بہادر ہوتے اگر ان کے جسم پہ خاکی وردی نہ ہوتی تو آج یہ عزت نہ ہوتی، براہ کرم پاکستان آرمی کو بدنام نہ کریں کیونکہ میں نے شہید کی عزت دیکھی ہے۔ان کا کہنا تھا میں شہید کی طرف سے پوری قوم سے درخواست کرتا ہوں کہ چاہے وہ کسی بھی شہید کی تصویر ہو یا یادگار شہداء ہو یہ ہماری قوم کا اثاثہ ہیں ان اثاثوں کو ضائع نہ کریں، ان کی بے حرمتی مت کریں۔
مردان میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشان حیدر ) کے مجسمے کی بے حرمتی کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ 9 تاریخ کو ایوب گیٹ کے سامنے جلوس میں مجسمے کی بیحرمتی کی تھی، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔ اس لڑائی کی کمانڈ سنبھالنے والے بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ’جب یہ جنگ ختم ہوئی تو میں اس افسر کا قائل ہو چکا تھا۔ میں 1971 کی جنگ بھی لڑ چکا ہوں، میں نے کبھی پاکستانی افسر کو ایسے قیادت کرتے نہیں دیکھا۔ باقی سارے پاکستانی فوجی کرتے پاجاموں میں تھے اور وہ تنہا ٹریک سوٹ میں تھا۔
بریگیڈیئر باجوہ کہتے ہیں: ‘کیپٹن شیر خان بہت بہادری سے لڑے۔ آخری میں ہمارا ایک نوجوان کرپال سنگھ جو زخمی پڑا ہوا تھا، اس نے اچانک اٹھ کر 10 گز کے فاصلے سے ایک ‘برسٹ’ مارا اور شیر خان کو گرانے میں کامیاب رہا۔ان کے مطابق پاکستانی حملے کے بعد ’میں نے پورٹرز بھیج کر کیپٹن کرنل شیر خان کی لاش کو نیچے منگوایا اور اسے بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں رکھا۔
جب کیپٹن شیر خان کی لاش واپس کی گئی تو ان کی جیب میں بریگیڈیئر باجوہ نے کاغذ کا ایک پرزہ رکھ دیا جس پر لکھا تھا: ’12 این ایل آئی کے کپتان کرنل شیر خان انتہائی بہادری اور بےجگری سے لڑے اور انہیں ان کا حق دیا جانا چاہئے، کپیٹن کرنل شیر خان کا تعلق پاکستانی فوج کی سندھ رجمنٹ سے تھا اور کارگل کی لڑائی میں وہ ناردرن لائٹ انفنٹری سے منسلک تھے۔
کیپٹن کرنل شیر خان خیبرپختونخوا کے گاؤں نواکلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا نے کشمیر میں 1948 کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ انہیں یونيفارم میں ملبوس فوجی اچھے لگتے تھے چنانچہ ان کے یہاں جب پوتا پیدا ہوا تو انہوں نے کرنل کا لفظ ان کے نام کا حصہ بنا دیا تھا۔ تاہم اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس نام کی وجہ سے ان کے پوتے کی زندگی میں مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
کیپٹن شیر خان جنوری 1998 میں ڈومیل سیکٹر میں تعینات تھے۔ 4 جولائی 1999 کو کیپٹن شیر کو ٹائیگر ہل پر جانے کے لیے کہا گیا۔ وہاں پاکستانی فوجیوں نے 3 دفاعی لائنیں بنا رکھی تھی جنہیں کوڈ نمبر 129 اے، بی اور سی دیا گیا تھا۔ 5 جولائی 1999 کو پاکستانی اور انڈین جوانوں کی دست بدست لڑائی ہو رہی تھی۔ تبھی ایک انڈین نوجوان کا برسٹ کیپٹن کرنل شیر خان کو لگا اور وہ شہید ہو گئے۔ کیپٹن شیر خان کو پاک فوج کے سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔
18 جولائی 1999 کی نصف شب کو ملیر چھاؤنی کے سینکڑوں فوجی کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچ گئے تھے جنہوں نے کیپٹن کرنل شير خان کا جسدِ خاکی وصول کیا۔ ان کے 2 بھائی اپنے آبائی گاؤں سے وہاں آئے تھے۔ نماز جنازہ کے بعد تابوت کو پاک فضائیہ کے طیارے پر اسلام آباد پہنچایا گیا جہاں ایک بار پھر نماز جنازہ ادا کی گئی۔
اس موقع پر پاکستان کے صدر رفیق تاڑر بھی موجود تھے۔ اس کے بعد کیپٹن شیرخان کا جسدِ خاکی ان کے آبائی گاؤں لایا گیا جہاں ہزاروں افراد نے پاک فوج کے اس بہادر سپوت کو الوداع کہا۔ ان کے آبائی گاؤں کا نام ان کے نام پر
پرویز الٰہی کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا
رکھ دیا گیا تھا۔
