نئی مردم شماری سے پنجاب کی نشستیں کتنی کم ہونگی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کو لامحالہ الیکشن کمیشن  کے 22 مارچ کے فیصلے کو نظر ثانی کی سماعت کے بعد بحال کرنا ہوگا. تاہم الیکشن 8 اکتوبر کو ایک ہی دن میں کرانے کا مرحلہ نئی مردم شماری سے مشروط ہو گا ۔ نئی مردم شماری کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی از سر نو حلقہ بندیاں ہوں گی۔ تاہم نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے پنجاب کی قومی اسمبلی کی پانچ نشستیں  کم ہو جائیں گی۔

ان خیالات کا اظہار سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ کنور دلشاد کا مزید کہنا ہے کہ رواں برس 12اگست کو حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد‘ آئین کے آرٹیکل 224کے مطابق اگلے انتخابات اکتوبر یا نومبر میں منعقد ہونے چاہئیں۔ نگران حکومتیں 60دنوں میں انتخابات کرانے کی پابند ہوں گی بشرطیکہ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل (3)218 کے مطابق انتخابی ماحول میسر آ جائے۔ اب تو آئین کے آرٹیکل 232کے تحت معاشی ایمرجنسی لگانے کا وقت بھی گزر چکا ہے۔ سیاسی ماحول میں اس وقت خوب گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔دوسری طرف ملک کی معاشی حالت تشویشناک ہے۔ بظاہر وزیراعظم شہباز شریف یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں اور اب وہاں سے خوشخبری آئے گی لیکن اُنہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف معاہدہ نہیں ہوتا تو پاکستانی قوم بہت مضبوط ہے‘ یعنی حکومت مبہم انداز میں یہ اشارہ دے رہی ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو قوم مشکل ترین معاشی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ خزانہ کو یہ بجٹ آئی ایم ایف کے طے شدہ معیارات کے مطابق بنانے کا پابند بنایا تھا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 700ارب سے زائد کے ٹیکسز عائد کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کی مشاورت سے ایف بی آر کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 9200ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے اطمینان کے لیے بجٹ میں شامل کیے جانے والے نئے ٹیکسوں کے اثرات اگلے عام انتخابات پر پڑیں گے۔

کنور دلشاد کا مزید کہنا ہے کہ اگر قومی اسمبلی اگست میں تحلیل ہوتی ہے یا پھر ناگزیر وجوہات کی بنا پر قومی اسمبلی بجٹ کی منظوری کے بعد تحلیل ہوتی ہے تو اسمبلی کی تحلیل کے تین ماہ کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہوگا۔ اس قلیل مدت میں عوام آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیے جانے والے بھاری ٹیکسوں کو آسانی سے نہیں بھولیں گے اور اس کا بدلہ الیکشن کے روز چکائیں گے۔ لیکن الیکشن کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ کنور دلشاد کے مطابق سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایک دن انتخابات کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے اتفاقِ رائے کر لینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے دراصل الیکشن کمیشن کا 22مارچ کا فیصلہ‘ جس میں الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ایک ہی دن الیکشن کرانے کے لیے 8 اکتوبر کا شیڈول جاری کیا تھا‘ اسے چار اپریل کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور پنجاب اور کے پی کے گورنر صاحبان کو انتخابات کے لیے الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند بنایا تھا۔ صدرِ مملکت کی طرف سے پنجاب میں الیکشن کے لیے 14مئی کی تاریخ کا اعلان کیا گیا لیکن اس تاریخ پر صوبے میں الیکشن کا انعقاد نہ ہو سکا۔ جس پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کر دی۔ اس درخواست کی سماعت فی الحال ملتوی ہے۔ ممکن ہے کہ چند روز میں اس کی سماعت شروع ہو جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ الیکشن کمیشن کے 22مارچ کے فیصلے کو بحال کرتے ہوئے ملک بھر میں 8اکتوبر کو انتخابات کے انعقاد کا حکم نامہ جاری کر دیا جائے۔

سابق سیرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت جس بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اپنی 76سالہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ اگر خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہو گیا تو مہنگائی میں‘ جو پہلے ہی عام آدمی کے لیے سوہانِ روح ہے‘70 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جس سے صاحب ِ حیثیت لوگ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ معاشی بحران ملک میں سیاسی عدم استحکام کا براہِ راست نتیجہ ہے اور آئی ایم ایف بھی سخت ترین شرائط پوری کرنے کے باوجود اسی وجہ سے قرضہ جاری نہیں کر رہا۔ اسی لیے سیاستدانوں کو اپنی سیاست کے بجائے ریاست کے مفادات پر توجہ دینا ہو گی تاکہ معاشی ابتری دُور کرنے کی تدابیر کارگر ہو سکیں۔ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو بھی عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے غیر ضروری اخراجات ختم کرنا ہوں گے۔  اگلے مالی سال میں صرف سود کی ادائیگیوں کی مد میں 7500 ارب روپے درکار ہیں یعنی ٹیکس آمدنی کا 80 فیصد سے زائد سود میں چلا جائے گا۔ حکومت 9200 ارب روپے کا ٹیکس ٹارگٹ رکھ رہی ہے مگر گیارہ ماہ میں رواں مالی سال کے 7640 ارب روپے ٹیکس ٹارگٹ میں 428 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔ اس بدترین معاشی بدحالی میں آئندہ عام انتخابات کیلئے تقریباً 70 ارب روپے سے زائد اخراجات بھی کرنا ہوں گے‘اُن کا انتظام کیسے ہوگا‘ حکومت کو ان تمام

راولپنڈی جانیوالی گرین لائن ایکسپریس حادثے سے بچ گئی

عوامل کو مد نظر رکھنا ہوگا۔

Back to top button